محمد شہزاد اکرم (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ
فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان )
خیانت کی تعریف:خیانت امانت کی متضاد
ہے۔ خیانت یعنی پوشیدہ طور پر کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا
ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے
ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
(پ9،الانفال:27)
عموماً خیانت کا لفظ مالی امانت میں تصرف پر استعمال
ہوتا ہے یعنی کسی شخص نے کسی دوسرے کے پاس امانت کے طور پر مالی چیزیں رکھوائیں
اور پھر اس امانت میں اس شخص نے تصرف کیا یا پھر وہ امانت واپس کرنے سے ہی انکار
کر دیا تو اسے خیانت کہتے ہیں یقیناً یہ بھی خیانت ہے لیکن شریعت میں امانت کے معنی
و مفہوم بہت وسیع ہیں اس حوالے سے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ
علیہ لکھتے ہیں:
خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، راز، عزت، مشورے تمام میں
ہوتی ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1، ص212)
خیانت کی مختلف صورتیں: احادیث
مبارکہ میں خیانت کے کئی انداز بیان کئے گئے ہیں،چنانچہ فرمانِ مصطَفٰے ﷺ ہے:
(1) جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ
وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔(ابوداؤد،ج3،ص449،
حدیث: 3657)
یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ
دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر پکا خائن(یعنی خیانت
کرنے والا)ہے۔(مراۃ المناجیح،ج1،ص212)
(2)ہم تم میں سے جسےکسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے
سوئی یا اس سے زیادہ چھپالے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لائے گا۔(مسلم،
ص787، حدیث:4743)
یعنی خیانت چھوٹی ہو یا بڑی قیامت میں سزا اور رُسوائی
کا باعث ہے خصوصًا جو خیانت زکوۃ وغیرہ میں کی جائے کیونکہ یہ عبادت میں خیانت ہے
اور اس میں اللہ کا حق مارنا ہے اور فقیر وں کو ان کے حق سے محروم کرنا۔(مراۃ
المناجیح،ج3،ص15)
خیانت سے پناہ:(5) ہمارے پیارے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہ : اللّٰهُمَّ
إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ
مِنْ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی
الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے
تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیرکارہے۔(ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)
خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری
واجب خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے (باطنی بیماریوں کی معلومات ص
176)
خیانت کے دو اسباب اور ان کا علاج:(1) خیانت
کا پہلا سبب بدنیتی ہے۔جس طرح اچھی نیت اخلاق و کردار کے لیےشفاء اور اکسیر کا
درجہ رکھتی ہے اسی طرح بدنیتی کازہربندے کے اعمال کو بے ثمر بلکہ تباہ و برباد کردیتا
ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت کو درست رکھےاور اپنا یہ ذہن بنائے کہ
’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری حسن نیت اور ایمان داری کی بدولت دنیا میں کامیابی
عطافرما نے پر قادر ہےلہٰذا خیانت کرکے دنیوی و اُخروی نقصان کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘
(2) خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے۔ اس کا
علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے ذہن میں دھوکہ دہی کے نقصانات کو پیش نظر رکھے کہ دھوکہ دینا
ایک نہایت ہی قبیح اور برا عمل ہے، دھوکہ دینے والے سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا
اظہار فرمایا ہے، دھوکہ دینا مومن کی صفت نہیں ہے، دھوکے سے جہاں وقار مجروح ہوتا
ہے وہیں لوگوں کا اعتماد بھی ختم ہوجاتا ہےلہٰذا احترامِ مسلم کا ہردم خیال رکھے
اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ وقتی نفع حاصل کرنے کے لیےدائمی نقصان مول لینا یقیناً
عقل مندی نہیں ہے؟
Dawateislami