اسلام نے انسانی معاشرے کی بنیاد امانت داری اور سچائی
پر رکھی ہے اور معاشرے میں رہنے کے لیے زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کی
ہے اور ہر انسان کی جان اور مال کا تحفظ بھی کیا ہے قران پاک اور احادیث میں جن
اعمال کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے ان میں سے ایک خیانت ہے خیانت کو قرآن پاک اور
احادیث میں کسی جگہ اللہ و رسول کے خلاف عمل، کہیں منافقین کی علامت اور کہیں
ناپسندیدہ اور ملعون صفت قرار دیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آیَۃُ الُمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: أِذَا حَدَّثَ کَذَبَ،
وَأِذَا وَعَدَ خَلَفَ، وَأِذَا أُؤْتُمِنَ خَانَترجمہ:
منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے
اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان،
باب علامۃ المنافقہ، حدیث 33، صفحہ 18، دار ابن کثیر)
آئیے ایسی 5 آیات ملاحظہ کیجئے جن میں خیانت کی مذمت کی
گئی ہے:
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ ( سورۃ الانفال، آیت 27)
فرض کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ سے خیانت ہے اور سنت کو ترک
کرنا رسول اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
(2) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ
عَلٰى سَوَآءٍؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی
طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال ، آیت 58)
اس آیت میں کہا گیا کہ اللہ عزوجل خیانت کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا۔
(3) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ
کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ الحج، آیت
38)
(4) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز العرفان: اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف، آیت
52)
(5) -وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ
تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران ،آیت
161)
ان آیات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ
عزوجل کو سخت ناپسندیدہ ہے اور اس کے علاوہ خیانت کرنے والے پر اس کے ارد گرد کے
افراد بھی اعتبار کرنا چھوڑ دیتے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ دیانتداری سے
کام لیں اور اصلاح کی کوشش کرتے ہوئے دوسروں کو بھی امانت داری اور سچ بولتے رہنے
کی تلقین کرتے رہیں۔آمین بجاہ النبی الامین الکریم و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Dawateislami