احمد
رضا (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی ، کراچی، پاکستان)
کائنات کا ہر فرد دیانت و امانتداری کو اعلیٰ اوصاف اور
عمدہ اخلاق میں سے شمار کرتا ہے جس معاشرے میں امانت کا خیال نہ رہے، وہ انتشار،
بداعتمادی اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔
خیانت کا لغوی معنی ہے: امانت میں بددیانتی کرنا، چوری
چھپے کسی کا حق چھیننا، یا کسی اعتماد کو توڑنا۔اصطلاحاً : کسی کی دی ہوئی ذمہ داری
یا امانت میں جان بوجھ کر بددیانتی کرنا، چاہے وہ مال ہو، راز ہو، منصب ہو یا قول
و عمل۔ دینِ اسلام، جو مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس نے بھی خیانت کی شدید مذمت اور
ممانعت فرمائی ہے۔اسلام میں خیانت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ ایسا
عمل ہے جو نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ پاک نے
قرآن کریم میں بھی خیانت کی مذمت فرمائی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الأنفال:
27)
یہاں
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ
سے خیانت کرنا ہے۔
خیانت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا:-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(الانفال: 58)
اس آیت کریمہ سےمعلوم ہوا کہ خیانت کرنے والوں کو اللہ
پاک پسند نہیں فرماتا۔
خیانت کرنے والوں کی حمایت سے ممانعت:-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ
خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)
ترجمہ کنز الایمان:اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔(النساء: 105)
اس آیت میں خیانت کرنے والوں کی حمایت و طرفداری کو بھی
ناجائز قرار دے کر اس سے منع فرمایا گیا
خیانت کفار کا قدیم طریقہ:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ ترجمہ کنز الایمان:اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں۔ (الانفال: 71)
اس آیت میں کفار کی اللہ و رسول سے کی گئی خیانت کو بیان
فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ خیانت کفار کا پرانا شعار ہے ۔
اہل لوگوں کو امانتیں واپس دینے کا حکم :اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا
الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ
ترجمہ کنز الایمان:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا
ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(النساء: 58)
قیامت کے دن خیانت کا انجام:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-
ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے
گا۔(آل عمران: 161)
نبی عَلَیْہِ
السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا
ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔بلکہ
اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔
بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت
مبارکہ نازل ہوئی۔(جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
معلوم ہوا نبی عَلَیْہِ السَّلَام گناہوں سے معصوم ہیں
بلکہ گناہ اور نبوت میں وہی نسبت ہے جو اندھیرے اور اجالے میں ہے۔ اس آیت میں خیانت
کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ان آیات طیبہ سے معلوم ہوا کہ خائن اللہ پاک کہ محبت سے
محروم ہوجاتا ہے، خائن بروزِ محشر خیانت کی ہوئی چیز اپنے ساتھ لے کر آئے گا ۔خیانت
ایک ایسا گناہ ہے جو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے بلکہ دنیا میں
بھی بداعتمادی، فساد اور بگاڑ کا ذریعہ بنتا ہے کیونکہ خیانت سے برکت چھن جاتی ہے
دل سخت ہوتا ہے محبتیں ختم ہو جاتی ہیں جبکہ دیانت اور امانت داری مسلمان کے کردار
کو نکھارتی ہیں اور لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہیں اور اس سے قلبی سکون
حاصل ہوتا ہے کامل مسلمان وہی ہے جو امانتدار ہو، قول و عمل میں سچا ہو، اور اللہ
کی دی ہوئی ہر ذمہ داری کو امانتداری کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرے۔
Dawateislami