اسلام ایک ایسا خوبصورت اور پیارا دین ہے جو ہماری دنیا کے ہر موڑ پر رہنمائی فرماتا ہے اور انسان کو اعلیٰ اخلاق دیانت اور امانت داری کی تعلیم بھی دیتا ہے چنانچہ قرآن مجید فرقان حمید میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے ۔خیانت بہت بری چیز ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے کیونکہ خیانت کو اختیار کرنا قرآنی فیصلے کے برخلاف ہے اور اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے مترادف ہے ۔

تو آئیے جانتے ہیں کہ قرآن پاک ہماری اس بارے میں کیا رہنمائی فرماتا ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان : بے شک دغا والے اللہ کو پسند نہیں ۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کا عمل اللہ کی ناراضی کا باعث بنتا ہے ۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورۃ انفال آیت نمبر 27)

اگر ہم ایک پرامن بااعتماد اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں فرداً فرداً خیانت سے توبہ کرتے ہوئے امانت سچائی اور دیانت کو اپنانا ہوگا قرآن اور سنت ہمیں امانت دار بننے کا حکم دیتے ہیں اور یہی فلاح کی راستہ اور مذکورہ تمام آیات بھی اسی بات پر دلیل ییں کہ تم امانت کے میں خیانت نہ کرو اور بیشک وہ شخص کامیاب ہے جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے اور خیانت کو ترک کرنے امانت کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔