معاشرے کی بہتری پرسکون زندگی، امن و امان، اور حقوق کی بقا کے لیے اس معاشرے میں رائج برائیوں کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے موجودہ دور کی برائیوں میں سے ایک برائی خیانت کرنا بھی ہےیہ ایسابدترین گناہ ہے کہ جسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے جبکہ جس معاشرے میں امانت داری ہوتی ہے اس کو ترقی کی جانب بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا  اسی وجہ سے قران پاک میں متعدد مقامات پر خیانت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی خیانت کا قرانی بیان پڑھتے ہیں :

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ، 1 / 347)

خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،1/652)

(1) ناپسندیدہ عمل : خیانت ایسی غیر اخلاقی اور قبیح بیماری ہے جس کو اللہ پاک بالکل پسندنہیں کرتا :

-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنزالعرفان : بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

(پ 10 انفال 58)

(2)کفار کی عادت: خیانت ،عہد توڑنا اور رسولوں کے ساتھ بدعہدی کرنا کفار ومشرکین کی قدیم عادت ہے جیسے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ

ترجمہ کنزالعرفان : اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں ۔(پ10انفال 71)

(3) ذلت ورسوائی : جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا اور ذلت ورسوائی اٹھائے گا جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنزالعرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی ۔(پ 4ال عمران 161)

(4)دیگر گناہوں کا سبب:خیانت ایسا مذموم عمل ہے جو دیگر کئی گناہوں کے ارتکاب کا سبب ہے مثلاً جھوٹ، ظلم، دھوکہ دہی وغیرہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنزالعرفان :بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔(پ 5 النساء107)

(5) خائن کا ساتھ نہ دینا : جس طرح امانت میں خیانت کرنا حرام ہے اسی طرح ان کا ساتھ دینا بھی ناجائز و حرام ہے چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتاہے : وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ

ترجمہ کنزالعرفان :اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔(پ5 النساء107)

پیارےاسلامی بھائیو! خیانت ہمارےمعاشرے کا وہ ناسُور ہے جس کی گرفت سے شاید ہی کوئی شعبۂ زندگی بچا ہوا ہو مگر دینی معلومات کی کمی کی وجہ سے ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا کاروبار ہو یا ملازمت !رازداری ہویا وراثت خیانت اور دھوکے کا چلن عام ہے حالانکہ خیانت گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے اللہ پاک ہمیں امانت داری اپنانے اور خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔