محمد
عثمان صدیق(درجہ سابعہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی
اور امانت داری کی تعلیم دیتا ہے۔ امانت داری ایمان کی علامت ہے جبکہ خیانت ایک
سخت اخلاقی و دینی جرم ہے۔ خیانت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی کے اعتماد، مال، راز
یا ذمہ داری میں بددیانتی کرے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں خیانت کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے ایمان کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
(1)امانت
میں خیانت سے سخت ممانعت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔( سورۃ الانفال،
آیت: 27)
(2)خیانت کرنے والا اللہ کو پسند نہیں:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ ( سورۃ الانفال، آیت: 58)
(3)خیانت آخرت کے عذاب کا سبب ہے:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا
( سورۃ آلِ عمران، آیت: 161)
(1)خیانت منافق کی علامت ہے:حضرت
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ.. وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں
ہیں… جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الايمان،
حدیث: 33صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 59)
(2)امانت نہ ہو تو ایمان کامل نہیں:حضرت انس سے روایت
ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:لَا إِيمَانَ لِمَنْ
لَا أَمَانَةَ لَهُترجمہ:جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان (کامل) نہیں۔(مسند احمد،
حدیث: 12567،شعب الإيمان البیہقی )
(3)خیانت
قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كُلُّ غَادِرٍ
يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:ہر خیانت کرنے
والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا تاکہ وہ پہچانا جائے۔(صحیح البخاری، حدیث: 3186،صحیح مسلم، حدیث: 1738)
لہذا قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت واضح
ہوتی ہے کہ خیانت ایک سنگین گناہ، ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا
سبب ہے۔ ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں امانت داری اختیار کرے، چاہے
وہ مالی معاملات ہوں، عہدے کی ذمہ داریاں ہوں یا کسی کا راز۔ امانت داری نہ صرف دنیا
میں عزت و اعتماد کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات اور کامیابی کا۔
Dawateislami