خیانت کا مطلب ہےامانت، اعتماد یا وعدے کو توڑ دینا، یا کسی پر کیے گئے بھروسے کو دھوکہ دینااسلامی اصطلاح میں خیانت ہر اُس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں کسی کی دی گئی ذمہ داری، امانت، یا اعتماد کو جان بوجھ کر ضائع کیا جائے، چھپایا جائے، یا اس سے انحراف کیا جائےیہ عمل صرف مال یا امانت میں نہیں، بلکہ رشتوں، وعدوں، تعلقات، اعتماد، حتیٰ کہ دین میں بھی ہو سکتا ہے۔مثلاً کسی کی امانت واپس نہ کرنا  ازدواجی تعلق میں بے وفائی کرنا ،وعدہ خلافی کرنا ،جھوٹ بول کر دھوکہ دینا ۔قرآن و حدیث میں خیانت کو منافق کی علامت اور اللہ و رسول سے دشمنی قرار دیا گیا ہے قران پاک میں بھی اللہ پاک نے خیانت کی مذمت فرمائی ہے حدیث مبارکہ پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا :

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنزُ الایمان: اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو اپنے جی سے خیانت کرتے ہیں، بے شک اللہ کو پسند نہیں جو بڑا خیانت کرنے والا، بڑا گناہ گار ہو ۔(النساء:107)

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ترجمہ کنزُ الایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو ۔(النساء:58)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں

خیانت کرو۔ (انفال:27)

یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ خیانت اللہ اور رسول کے ساتھ دغا بازی کے مترادف ہے، اور مومن کو اس سے بچنا لازم ہے ۔حدیث پاک میں بھی خیانت کے بارے میں مذمت ملتی ہیں :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ.

ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری: حدیث نمبر33 ، صحیح مسلم: حدیث نمبر 59)

یہ حدیث خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیتی ہے، جو کہ نہایت سنگین گناہ ہے۔

ایک اور حدیث خیانت کے بارے میں پیش ہےکہ :لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ ترجمہ:"جس شخص میں امانت داری نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں؛ اور جو وعدے کا پاس نہیں رکھتا، اس کا کوئی دین نہیں۔( سنن احمد بن حنبل: حدیث نمبر 12567 ، صحیح الجامع الصغیر حدیث نمبر 7179)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ خیانت صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ ایمان اور دین کے منافی عمل ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے یقینا حضور کی باتوں پر عمل کرتے ہیں حضور نے خیانت کے بارے میں ہمیں منع فرمایا لہذا ہمیں چاہیے کہ خیانت کرنے سے بچے اور اللہ پاک کی رضا حاصل کرے خیانت کے بارے میں ہمارے بزرگان دین کے بھی واقعات ملتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ:

ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (خلیفہ راشد) کا ایک مشہور واقعہ پیش ہے، جو خیانت سے بچنے، دیانت داری اور امانت کے احترام کی روشن مثال ہے:بیت المال کے چراغ کا قصہ ایک رات حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ حکومتی امور میں مصروف تھے اور بیت المال (سرکاری خزانے) کا چراغ جل رہا تھا۔ اتنے میں اُن کا بیٹا آیا اور کچھ ذاتی بات کرنی چاہی۔آپ نے فوراً چراغ بجھا دیابیٹے نے حیرانی سے پوچھا: ابا جان، آپ نے چراغ کیوں بجھا دیا؟ حضرت عمر نے فرمایا: "یہ چراغ بیت المال کے پیسے سے جل رہا ہے۔ جب میں ذاتی بات کروں گا تو سرکاری مال استعمال کرنا خیانت ہے۔( سیراعلام النبلاء از امام ذہبی، جلد 5، صفحہ 120 ،تاریخ الخلفاء از امام سیوطی، صفحہ 208 )

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سچے اللہ والے خیانت سے کس قدر بچتے تھے، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی چیز کیوں ہو یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خیانت صرف بڑی رقم یا مال میں نہیں، چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی ہو سکتی ہے اور اہلِ تقویٰ اس سے کس قدر بچتے تھے آج کا معاشرہ مالی، اخلاقی اور سماجی خیانت کا شکار ہے۔ حکومتی سطح سے لے کر ذاتی تعلقات تک، خیانت نے بگاڑ پیدا کیا ہے۔ اگر اسلامی اصولِ امانت داری کو اپنایا جائے تو معاشرہ عدل، سکون اور بھروسے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔خیانت نہ صرف ایک انفرادی گناہ ہے بلکہ اجتماعی جرم بھی ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر سطح پر دیانت دار ہو۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ امانت اللہ کی طرف سے آزمائش ہے، اور اس میں خیانت کرنا نہ صرف ایمان کی کمزوری بلکہ اللہ اور رسول سے دغا ہے۔

پس ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں دیانت، صداقت اور امانت کو اپنائیں تاکہ ہم دنیا میں بااعتماد اور آخرت میں سرخرو ہوسکیں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور سیدھی راہ پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔