محمد
عبداللہ احسن(درجہ سابعہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی، پاکستان)
خیانت امانت کی ضد ہے ۔ خیانت ایک مذموم صفت ہے ۔ خیانت
کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی،راز،عزت،مشورے سب میں ہوتی
ہے۔ خیانت بڑی ہو یاچھوٹی بروز قیامت سزا اور رسوائی کا باعث ہے۔
خیانت کی تعریف : اجازت شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔(عمدۃ القاری،جلد۱صفحہ۳۲۸)
خیانت کا حکم : ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ،جلد۱،صفحہ۶۵۲)
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الا نفال،الآیۃ ۲۸)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۸، ۱۹۰/۲)
(2) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الا نفال،الآیۃ ۵۸)
(3) وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ خیانت
کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف،الآیۃ ۵۲)
(4) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنزالعرفان :اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی
جو سینے چھپاتے ہیں۔(الغافر،الآیۃ ۱۹)
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران،الآیۃ ۱۶۱)
نبی علیہ السلام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ
نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاءعلیھم الصلوۃ والسلام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا
اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور
معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض
منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔
(جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
خیانت گناہ کیبرہ
ہے:خواہ خیانت اپنے حق میں ہو یا اللہ عزوجل کے یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے یا اسلام کے یا کسی بندہ کے حق میں ہو۔خیانت جس شئے کے بارے میں بھی
کی جائے بری ہے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں
ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)
Dawateislami