اسلام ایک کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے جن  برائیوں کی سختی سے مذمت کی ہے، ان میں خیانت کو خاص طور پر بیان کیا خیانت سے مراد امانت میں بددیانتی، وعدہ خلافی، دھوکا دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ صراط الجنان کے مطابق خیانت صرف مال تک محدود نہیں بلکہ دین، ذمہ داری، عہدہ، راز اور وقت تک میں خیانت شامل ہے۔قرآن پاک میں کئی مقامات پر خیانت کرنے والوں کی مذمت اور اس کی وعیدے بیان کی ہے - ان میں سے چند آیتیں ملاحظہ فرمائیں۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ انفال:27)

صراط الجنان :اس آیت میں  اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت کا مطلب احکامِ الٰہی کی نافرمانی اور سنتِ نبوی سے روگردانی ہے، جبکہ لوگوں کی امانتوں میں خیانت معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔( سورۃ الانفال آیت 58 )

صراط الجنان :یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور اللہ کی ناراضی سب سے بڑا خسارہ ہے۔

(3) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ کنز العرفان : اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی ۔(سورۃ آل عمران آیت 161)

صراط الجنان میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا میں امانت میں خیانت کرتا ہے، قیامت کے دن وہی خیانت اس کے لیے باعثِ عذاب بنے گی۔

خیانت کے دینی و معاشرتی نقصانات:

(1)ایمان کی کمزوری اور دل کی سختی (2)معاشرتی اعتماد کا خاتمہ (3)ظلم اور ناانصافی کا فروغ

(4)آخرت میں سخت عذاب اور رسوائی۔قرآنِ کریم کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خیانت ایک سنگین اخلاقی اور دینی جرم ہے۔ اللہ ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔


خیانت ایسا فعل ہے جو کسی بھی فرد، معاشرے یا قوم کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ انسان کے کردار کی کمزوری اور اخلاقی پستی کی علامت ہے۔ دینِ اسلام نے خیانت کو سختی سے منع کیا ہے اور اسے منافقین کی علامت قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں خیانت کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔ امانت داری ایمان کا حصہ ہے، اور جو شخص خیانت کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ لہٰذا خیانت نہ صرف ایک اخلاقی جرم ہے بلکہ معاشرتی تباہی کا سبب بھی بنتی ہے۔

خیانت کی تعریف:خیانت وہ عمل ہے جس میں کوئی شخص اللہ، رسول ﷺ یا بندوں کے ساتھ کیے گئے وعدے یا امانت میں بددیانتی کرے۔ مثلا راز فاش کرے، وعدہ پورا نہ کرے، یا کسی کی دی ہوئی چیز کو غلط

طریقے سے استعمال کرے۔

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ( آل عمران :3 آیت 161)

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ -وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵)

ترجمہ کنز العرفان:اے حبیب !بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری تا کہ لوگوں میں اس (حق)کے ساتھ فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھایا اور تم خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کرنا۔ (النساء3آیت :105)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ ( الانفال:8 آیت 27)

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(الانفال:8 آیت58)

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (الانفال: 8 آیت71)

خیانت ایک انتہائی قبیح اور ناپسندیدہ عمل ہے، جو نہ صرف فرد کے اخلاق کو گراتی ہے بلکہ معاشرے کے اعتماد اور امن کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ دینِ اسلام نے امانت داری کو ایمان کا حصہ اور خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیا ہے۔ ایک پرامن، دیانت دار اور ترقی یافتہ معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم خیانت سے مکمل اجتناب کریں اور امانت و دیانت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔


اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 27)

اللہ پاک نے قرآن کریم میں امانت میں خیانت کر نےوالوں کی مذمت بیان فرمائی اور اس آیت مبارکہ میں جواللہ عزوجل اور اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کا ذکر ہوا اس سے مراد یہ ہے کہ" فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے"۔(تفسیر خازن جلد نمبر 2 صفحہ نمبر190)

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان ۔ بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر58)

حکم فرمایا کہ اپنی امانتوں کو ادا کرو

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے اسکے تحت ساری خیانتیں مراد ہے چاہے مال میں ہو یا اس کے علاوہ ہو ۔

حدیث پاک کے اندر بھی خیانت کی مذمت بیان ہوئی ہے اللہ کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ خالص مُنافِق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک بات ہوگی اس میں نِفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑدے۔ (1)جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3) اور جب کسی سے کوئی عہد کرے تو عہدشِکْنی کرے (4) اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق، الحدیث:34، ج۱، ص25)

اس حدیث پاک کے اندر بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے امانت کی مذمت کو بیان کرتے ہوئے اور منافق کی علامت کو نفاق کی علامت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جسے امین بنایا جائے وہ امانت میں خیانت کرے یہ نفاق کی ایک خوبصورت اس کو حدیث پاک میں شمار کیا گیا یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے اس سے ثابت ہوا اس سے ثابت ہوا کسی شخص کو امین بنایا جائے تو وہ اس میں خیانت نہ کرے۔


امانت کا تصور ہمارے معاشرے میں عام طور پر صرف مال و دولت یا رکھی ہوئی چیزوں تک محدود ہے، حالانکہ اسلام کی روشن تعلیمات کی رو سے امانت کا مفہوم انتہائی وسیع ہے۔ مضمون میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ دادا جی اینٹیں خریدنے بھٹے پر گئے اور بھٹے والے سے کہا کہ "آپ کے پاس میری ایک امانت ہے۔" بھٹے والا حیران ہوا تو دادا جی نے فرمایا کہ "کسی کو اچھا مشورہ دینا بھی تو امانت ہے!" یہ بات بالکل درست ہے، کیونکہ اگر کوئی مشورہ لینے آئے تو اسے درست مشورہ دینا واجب ہے۔ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: "جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔" (ابوداؤد، جلد 3، صفحہ 449، حدیث: 3657)۔

جس طرح مال و دولت میں خیانت حرام ہے، اسی طرح باتوں اور مشوروں میں بھی خیانت حرام ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙترجَمۂ کنزُ الایمان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو۔ (پارہ 5، سورۃ النسآء: آیت 58)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق امانت داری ہر چیز میں لازم ہے، چاہے وہ نماز، روزہ، غسلِ جنابت ہو یا لوگوں کے ساتھ ناپ تول کا معاملہ۔ علمائے کرام نے امانت کی تین اقسام بیان کی ہیں:

اللہ پاک کی امانتیں: ہمارے جسم کے اعضاء (آنکھ، کان، ہاتھ وغیرہ) اللہ کی امانت ہیں، ان سے نیکی کرنا امانت داری اور گناہ کرنا خیانت ہے۔

اپنے نفس کی امانت: اپنے آپ کو جائز آرام دینا امانت ہے جبکہ بھوکا رہ کر ہلاک کرنا خیانت ہے۔

بندوں کی امانتیں: لوگوں کے حقوق ادا کرنا، ناپ تول پورا کرنا اور راز کی حفاظت کرنا۔ (تفسیرِ کبیر، جلد 4، صفحہ 109)

راز کی حفاظت بھی ایک اہم امانت ہے۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: "اَلْحَدِیْثُ بَیْنَکُمْ اَمَانَۃٌ" یعنی تمہاری باہمی گفتگو امانت ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، جلد 7، صفحہ 244، حدیث: 406)۔

اگر کوئی شخص بات کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھے کہ کوئی سن تو نہیں رہا، تو یہ قرینہ ہے کہ وہ بات امانت ہے۔اسی طرح عہدہ اور منصب بھی بہت بڑی امانت ہے۔ جو شخص کسی منصب کی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے اسے وہ عہدہ لینا ہی نہیں چاہیے کیونکہ قیامت کے دن یہ رسوائی کا سبب ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر کوئی حاکم کسی جماعت پر کسی شخص کو مقرر کرے حالانکہ وہاں اس سے بہتر اور اللہ کا پسندیدہ شخص موجود ہو، تو اس نے اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی۔ (مستدرک للحاکم، جلد 5، صفحہ 126، حدیث: 7105)۔

یہاں تک کہ مسجد کا امام اور مؤذن بھی امین ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: "اَلْاِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤتَمَنٌ" یعنی امام ذمہ دار اور مؤذن امانت دار ہے۔ (ابو داؤد، جلد 1، صفحہ 218، حدیث: 517)۔

کاروباری شراکت (Partnership) میں بھی امانت داری برکت کا سبب ہے۔ حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک وہ خیانت نہ کریں، جب خیانت کرتے ہیں تو میں نکل جاتا ہوں اور شیطان آ جاتا ہے۔ (ابو داؤد، جلد 3، صفحہ 350، حدیث: 3383)۔

میاں بیوی کے نجی راز بھی ایک دوسرے کے پاس امانت ہیں اور انہیں فاش کرنا بدترین خیانت ہے۔ (مسلم، صفحہ 579، حدیث: 3543)۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس ڈاکیہ کی طرح ہے جو سب کی امانتیں درست تقسیم کر کے کامیاب لوٹتا ہے، اسی طرح کامیاب مسلمان وہ ہے جو تمام حقوق ادا کر کے اپنی قبر میں جائے۔ (تفسیرِ نعیمی، جلد 5، صفحہ 160)۔

اللہ پاک ہمیں امانتوں کی پاسداری کی توفیق عطا فرمائے۔


اللہ پاک کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرمائی اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن میں ہمارے لیے گناہوں اور برائیوں کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے مکمل روشنی اور نور موجود ہے ۔

اسی نور کی ایک کرن یہ بھی ہے کہ خیانت جیسی برائی کی مذمت بیان فرما کر مومنوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا چنانچہ رب کریم ارشاد فرماتا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت انفال پارہ 9آیت 27 )

اللہ پاک نے اس آیت مبارکہ میں بطورِ خاص ایمان والوں کو مخاطب کرکے تین طرح کی خیانتوں سے منع فرمایا :(1)اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں ہم پر فرض کی ہیں ان کو چھوڑنے کے ذریعے خیانت نہ کرو۔(2)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کو چھوڑ کر خیانت نہ کرو۔(3)اور آپس کی امانتوں میں خیانت نہ کرو۔

ایک شخص کے لیے اس سے بڑھ کر ناکامی کیا ہوسکتی ہے کہ اسکا رب ہی اسکو ناپسند کرتا ہواور خیانت کرنے والے کو رب تعالیٰ کو پسند نہیں فرماتا ۔جیسا کہ ارشاد فرمایا :-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(پارہ 5 سورۃ النساء آیت 107)

یاد رکھیں!مکار کا انجام خراب ہی  ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں ہے:وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ۔(پارہ 12 سورۃ یوسف آیت 52)

تو غور کریں خیانت کرنے والے کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں تو ایک مسلمان کی شان یہ نہیں ہوسکتی کہ کسی سے خیانت کرےکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جاسکتا ہے سوائے جھوٹ اور خیانت کے۔(تفسیر در منثور جلد 4صفحہ 318)

اللہ پاک ہمیں اس بری خصلت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں امانت داری کو ایمان کی علامت اور خیانت کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔ خیانت فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے، اسی لیے قرآن نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

خیانت کا مفہوم:خیانت کے معنی ہیں امانت میں کمی کرنا، وعدہ توڑنا یا اعتماد کو ٹھیس پہنچانا۔ شریعت میں مال، راز، ذمہ داری اور عہد میں بددیانتی سب خیانت میں شامل ہیں۔

قرآنِ مجید میں خیانت کی ممانعت:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)

ایک اور مقام پر فرمایا:بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال: 58)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ خیانت اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے۔

خیانت اور امانت داری:قرآنِ کریم میں امانت ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ امانت داری کے بغیر معاشرے میں عدل و اعتماد قائم نہیں رہ سکتا۔

خیانت کا انجام:قرآنِ مجید میں خیانت کرنے والوں کے انجام کے بارے میں فرمایا گیا:ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا (سورۃ آلِ عمران: 161)

قرآنِ مجید کی روشنی میں خیانت ایک سنگین اخلاقی برائی ہے۔ ایک صالح معاشرے کی بنیاد امانت داری اور دیانت پر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہر قسم کی خیانت سے بچیں اور اللہ کی رضا حاصل کریں۔


   انسانی معاشرہ اعتماداور امانت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔جب یہ بنیاد کمزور ہو جائے تو انسانی معاشرہ بگڑنے

لگتا ہے۔انسانی معاشرے کے بگڑنے کے بہت سے اسباب ہیں جیسے جھوٹ، غیبت، حسد، بغض، کینہ ،تکبر اور خیانت وغیرہ۔ خیانت انسانی معاشرے کے بگڑنے کا بہت بڑا سبب ہے خیانت کی مذمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔ (مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)

(1)بڑا دغاباز:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ،5 سورۃ النساء، آیت نمبر 107)

(2)اعمال کا پورا پورا بدلا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(پارہ4، سورۃ آل عمران،آیت نمبر 161)

ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

(3)اللہ جانتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(پارہ 24، سورۃ المؤمن ،آیت نمبر 19)

یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)

(4)خیانت نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(پارہ 9، سورۃ الانفال، آیت نمبر 27)

لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)


پیارے اسلامی بھائیو! خیانت ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جو فرد، خاندان، معاشرہ اور امت کے اعتماد کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔ یہ صرف امانت میں بددیانتی ہی نہیں بلکہ قول، فعل، نیت، وعدہ، اور تعلقات میں بھی جھلک سکتی ہے۔ قرآن و حدیث میں خیانت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ عمل انسان کی شخصیت کو داغدار کر دیتا ہے اور دوسروں کے اعتماد کو توڑ دیتا ہے۔ جب ایک فرد خیانت کرتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ انسانی رشتوں کی حرمت کو بھی پامال کرتا ہے۔ چاہے معاملہ مال کا ہو، راز داری کا ہو، یا رشتوں کا خیانت ہر صورت میں ناپسندیدہ اور نقصان دہ ہے۔ایک دیانت دار معاشرہ ہی بااعتماد، باوقار اور ترقی یافتہ ہو سکتا ہے، جبکہ خیانت معاشرتی انتشار، بداعتمادی اور اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاملات، وعدوں، تعلقات اور ذمہ داریوں میں امانتدار رہیں، اور خود کو ہر طرح کی خیانت سے محفوظ رکھیں۔پیارے اسلامی بھائیو !اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ خیانت کرنے سے دور رہنے کا حکم ارشاد فرمایا چنانچہ ان میں سے کچھ آیات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:

(1) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(انفال:27)

(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)

پیارے اسلامی بھائیو!خیانت نہ صرف ایک اخلاقی برائی ہے بلکہ یہ انسان کے ایمان اور کردار پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتی ہے۔ ایک دیانت دار انسان دوسروں کے لیے باعثِ اطمینان ہوتا ہے، جبکہ خائن شخص پر نہ دنیا اعتماد کرتی ہے نہ آخرت میں اس کے لیے کامیابی کی کوئی ضمانت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں سچائی، امانتداری اور وفاداری کو اپنا شعار بنائیں، تاکہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو بلکہ ایک صالح، پرامن اور بااعتماد معاشرے کی بنیاد بھی مضبوط ہو۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں امامت دار ، صالح مؤمن بنائے( آمین)۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہر میدان میں سچائی، دیانت داری اور امانت کا درس دیتا ہے۔ یہ دین صرف عبادات پر نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق پر بھی قائم ہے۔ انہی اخلاقی خوبیوں میں سے ایک اہم صفت "دیانت" ہے، اور اس کی ضد "خیانت" ہے، جس کی قرآن کریم میں بار بار سخت مذمت کی گئی ہے۔

خیانت صرف مال یا امانت میں بددیانتی نہیں، بلکہ وعدے، ذمہ داری، اور علم میں بھی خیانت شامل ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جو نہ صرف انسانی اعتماد کو تباہ کرتا ہے بلکہ ایمان کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے خیانت کو اللہ اور رسول کی نافرمانی کے مترادف قرار دیا ہے اور مومنوں کو اس سے واضح طور پر منع فرمایا ہے۔

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔

خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

قرآنِ مجید میں خیانت کو نہایت سخت گناہ قرار دیا گیا ہے اور مختلف مقامات پر اس کی مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ معاشرتی بگاڑ، اعتماد کی تباہی اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔

(1)اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت کی ممانعت :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال (8:27)

اس آیت میں خیانت کو اللہ و رسول کی نافرمانی کے برابر قرار دیا گیا۔

(2)امانتوں کی ادائیگی کا حکم:"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا ترجمہ: یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو۔(سورۃ النساء (4:58)

(3)خیانت کرنے والوں کا انجام:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ آل عمران:161)

قیامت کے دن خیانت کرنے والے شرمندگی کے ساتھ اپنی خیانت سامنے لائیں گے۔

رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(بخارى ، 1 /24، حدیث: 33 )

حضور ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔ (مسلم، ص1184 ، حدیث:2865)

حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد ، 4 / 271، حدیث: 12386)

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے والا نہیں ہو سکتا ۔ (مسند امام احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس خیانت جیسے گناہ سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین۔


خیانت ،امانت و دیانت کی ضد ہے اور نہایت قبیح اور مذموم صفت ہے۔خیانت منافقت کی علامت ہے۔خیانت کی تعریف کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَهُوَ التَّصَرُّفُ فِي الأَمَانَةِ عَلَى خِلَافِ الشَّرْعِ ترجمہ: "شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔"

خیانت حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت انسان کے کردار کو مجروح کرتی ہے ،خائن سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔خیانت صرف مال میں نہیں ہوتی بلکہ اللہ پاک نے جو نعمتیں عطا فرمائیں ان کو رضائے الٰہی کے خلاف کاموں میں استعمال کرنا ،کسی نے راز کی بات کی تو اس کا راز فاش کر دینا ،کسی نے مشورہ طلب کیا اسے غلط مشورہ دینا ،کسی کو ذمہ داری سونپی گئی اس ذمہ داری کو صحیح انجام نہ دینا بھی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔غرض خیانت کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں خیانت کی مذمت میں مختلف قرآنی آیات نازل فرمائی ہیں جیسا کہ :

(1) ارشاد باری تعالیٰ : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (انفال:27)

اس آیت کے تحت صراط الجنان میں ہے :فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے (صراط الجنان،ج 3،ص 543)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(انفال:58)

(3) مضمون کے شروع میں جیسا کہ بیان کیا گیا کہ اللہ پاک کی نعمتوں کو مرضی الٰہی کے خلاف استعمال کرنا بھی خیانت میں آتا ہے چنانچہ اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک نعمت آنکھ کی خیانے کو بیان کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔(المؤمن:19)

آنکھ کی خیانت سے کیا مراد ہے اس بارے میں تفسیر خازن میں ہے: وَهِيَ مُسَارَقَةُ النَّظَرِ إِلَى مَا لَا يَحِلُّ یعنی آنکھ کی خیانت سے مراد یہ ہے کہ اس چیز کی طرف دیکھنا جس کا دیکھنا حلال نہیں۔(تفسیر خازن ،ج 4 ،ص 71 ،المکتبۃ الشاملہ)

(4)خیانت خود تو ایک برا کام ہے ہی بلکہ خائنوں کا ساتھ دینا بھی بر ا کام ہے۔ اللہ پاک نے خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے والوں کی مذمت بھی بیان فرمائی چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں۔(صراط الجنان، ج2،ص 296،297)

(5)اللہ پاک خیانت کرنے والوں کا انجام بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان : اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:161)

اس آیت مبارکہ کے تحت علامہ عبد اللّٰہ بن محمود نسفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : يَأْتِ بِالشَّيءِ الَّذِي غَلَّهُ بِعَيْنِهِ حَامِلًا لَهُ عَلَى ظَهْرِهِ كَمَا جَاءَ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ يَأْتِ بِمَا احْتَمَلَ مِنْ وَبَالِهِ وَإِثْمِهِ۔ یعنی (خائن) بعینہ اس شے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر آئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہو گی جیسا کہ حدیث میں ہے یا اس خیانت کا جو وبال اور گناہ ہے وہ اٹھا کر آئے گا۔(تفسیر النسفی،ج 1،ص 307)

خیانت کے اسباب اور علاج: خیانت کے مختلف اسباب ہیں۔ ذیل میں چند اسباب اور علاج ذکر کیے جاتے ہیں۔

(1)خیانت کا پہلا سبب بد نیتی ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت درست رکھےاور اپنا یہ ذہن بنائے کہ "اللہ عزوجل میری حسنِ نیت اور ایمان داری کی بدولت دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمانے پر قادر ہے لہذا خیانت کر کے دنیوی و اخروی نقصان کا کیا فائدہ؟۔

(2) خیانت کا دوسرا سبب دھوکہ دینے کی عادت ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے ذہن میں دھوکہ دہی کے نقصانات کو پیشِ نظر رکھے کہ دھوکہ دینا ایک نہایت قبیح اور برا عمل ہے، دھوکہ دینے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براءت کا اظہار فرمایا ہے۔

(3)خیانت کا تیسرا سبب توکل علی اللہ کی کمی ہے: کیونکہ بندہ اپنے کمزور اعتقاد کی بناء پر یہ سمجھتا ہے کہ خیانت کا راستہ اختیار کرنے میں ہی میری کامیابی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اللہ عزوجل پر کامل بھروسہ رکھے اور یہ مدنی ذہن بنائے کہ "دنیا میں جو بھی راستہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کا سبب بنتا ہو اس پر چل کر مجھے کبھی بھی کامیابی نہیں مل سکتی، لہذا میں اس خیانت والے راستے کو چھوڑ کر دیانت والے راستے کو اپناوں گا۔"

(4)خیانت کا چوتھا سبب نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے:اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے ،اس کے مکر و فریب سے آگاہی حاصل کرے ،اس کی نا جائز خواہشات کو ترک کرنے کا ذہن بنائے اور اس کیلئے کوشش بھی کرے تاکہ خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے بچ سکے۔

(5)خیانت کا پانچواں سبب مسلمانوں کو نقصان دینے کی عادت ہے: یہ سبب جن دیگر باطنی امراض کا باعث بنتا ہے ان میں سے ایک خیانت بھی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے اندر مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرے اور مسلمانوں کی بدخواہی کے عذابات پیش نظر رکھے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،ص 177،178،179)

ان دنیاوی و اخروی کو نقصانات کو سامنے رکھ کر ہمیں خیانت جیسے مذموم کام سے بچنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے ،اپنے تمام معاملات میں دیانت داری سے کام لینا چاہیے ۔اللہ پاک ہمیں دیانت داری اپنانے اور خیانت سے بچنے کی سعادت عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


پیارے اسلامی بھائیو جس طرح کچھ گناہ باطنی ہوتے ہیں اسی طرح بعض گناہوں کا تعلق ظاہر کے ساتھ بھی ہوتا ہے ظاہری گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے قران پاک میں خیانت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی خیانت کا قرانی بیان پڑھتے ہیں:

(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النسا،پارہ 4، آیت نمبر 107)

(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورۃ الانفال، پارہ 8 ، آیت نمبر 71)

(3) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال پارہ 8 آیت نمبر 27)

(4) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف ،پارہ 12، آیت نمبر 52)

(5) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (سورۃالمومن، پارہ 24، آیت نمبر19)


اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس نے اپنے متعلقہ افراد کی ہر طرح سے رہنمائی کی ہے اور ہر ایک چیز کو تفصیلاً بیان کیا ہے چاہے اس کا تعلق عبادت سے ہو یا معاملات سے ہو یا اخلاقیات سے ہو انہی میں سے ایک چیز خیانت بھی ہے یہ ایک باطنی بیماری ہے اور ایسا برا وصف ہے جو نہ تو شرعاً اچھا ہے نہ ہی عقلاً درست ہے۔

سب سے پہلے ہم خیانت کی تعریف ذکر کرتے ہیں پھر اس کی مذمت پر قرآنی آیات پیش کرتے ہیں ۔

خیانت کی تعریف:’’اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات ص176)

اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام قرآن مجید میں متعدد جگہ خیانت کی مذمّت کو بیان فرمایا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

(1) جو خیانت کی روز قیامت اس کے ساتھ آئے گا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران آیت 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل بروز قیامت اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

(2)خیانت کرنے سے بچنے کا حکم:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر

اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (الانفال آیت 27)

(3)خیانت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء آیت 107)

(4)خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں امین بنائے۔