محمد
ثاقب رضا(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ، گلستان جوہر کراچی پاکستان)
امانت کا تصور ہمارے معاشرے میں عام طور پر صرف مال و
دولت یا رکھی ہوئی چیزوں تک محدود ہے، حالانکہ اسلام کی روشن تعلیمات کی رو سے
امانت کا مفہوم انتہائی وسیع ہے۔ مضمون میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ
دادا جی اینٹیں خریدنے بھٹے پر گئے اور بھٹے والے سے کہا کہ "آپ کے پاس میری
ایک امانت ہے۔" بھٹے والا حیران ہوا تو دادا جی نے فرمایا کہ "کسی کو
اچھا مشورہ دینا بھی تو امانت ہے!" یہ بات بالکل درست ہے، کیونکہ اگر کوئی
مشورہ لینے آئے تو اسے درست مشورہ دینا واجب ہے۔ حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: "جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے
حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔"
(ابوداؤد، جلد 3، صفحہ 449، حدیث: 3657)۔
جس طرح مال و دولت میں خیانت حرام ہے، اسی طرح باتوں اور
مشوروں میں بھی خیانت حرام ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙترجَمۂ
کنزُ الایمان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو۔
(پارہ 5، سورۃ النسآء: آیت 58)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق امانت داری
ہر چیز میں لازم ہے، چاہے وہ نماز، روزہ، غسلِ جنابت ہو یا لوگوں کے ساتھ ناپ تول
کا معاملہ۔ علمائے کرام نے امانت کی تین اقسام بیان کی ہیں:
اللہ پاک کی امانتیں: ہمارے جسم کے اعضاء (آنکھ، کان،
ہاتھ وغیرہ) اللہ کی امانت ہیں، ان سے نیکی کرنا امانت داری اور گناہ کرنا خیانت
ہے۔
اپنے نفس کی امانت: اپنے آپ کو جائز آرام دینا امانت ہے
جبکہ بھوکا رہ کر ہلاک کرنا خیانت ہے۔
بندوں کی امانتیں: لوگوں کے حقوق ادا کرنا، ناپ تول پورا
کرنا اور راز کی حفاظت کرنا۔ (تفسیرِ کبیر، جلد 4، صفحہ 109)
راز کی حفاظت بھی ایک اہم امانت ہے۔ حضور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: "اَلْحَدِیْثُ
بَیْنَکُمْ اَمَانَۃٌ" یعنی تمہاری باہمی گفتگو امانت ہے۔ (موسوعۃ ابن
ابی الدنیا، جلد 7، صفحہ 244، حدیث: 406)۔
اگر کوئی شخص بات کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھے کہ کوئی سن
تو نہیں رہا، تو یہ قرینہ ہے کہ وہ بات امانت ہے۔اسی طرح عہدہ اور منصب بھی بہت بڑی
امانت ہے۔ جو شخص کسی منصب کی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے اسے وہ عہدہ لینا ہی نہیں
چاہیے کیونکہ قیامت کے دن یہ رسوائی کا سبب ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر کوئی
حاکم کسی جماعت پر کسی شخص کو مقرر کرے حالانکہ وہاں اس سے بہتر اور اللہ کا پسندیدہ
شخص موجود ہو، تو اس نے اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی۔ (مستدرک
للحاکم، جلد 5، صفحہ 126، حدیث: 7105)۔
یہاں تک کہ مسجد کا امام اور مؤذن بھی امین ہیں۔ حدیث
پاک میں ہے: "اَلْاِمَامُ ضَامِنٌ
وَالْمُؤَذِّنُ مُؤتَمَنٌ" یعنی امام ذمہ دار اور
مؤذن امانت دار ہے۔ (ابو داؤد، جلد 1، صفحہ 218، حدیث: 517)۔
کاروباری شراکت (Partnership) میں بھی امانت داری برکت کا سبب ہے۔ حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ
فرماتا ہے میں دو شریکوں کا تیسرا ہوتا ہوں جب تک وہ خیانت نہ کریں، جب خیانت کرتے
ہیں تو میں نکل جاتا ہوں اور شیطان آ جاتا ہے۔ (ابو داؤد، جلد 3، صفحہ 350، حدیث:
3383)۔
میاں بیوی کے نجی راز بھی ایک دوسرے کے پاس امانت ہیں
اور انہیں فاش کرنا بدترین خیانت ہے۔ (مسلم، صفحہ 579، حدیث: 3543)۔ حکیم الامت
مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اس ڈاکیہ کی طرح ہے جو سب
کی امانتیں درست تقسیم کر کے کامیاب لوٹتا ہے، اسی طرح کامیاب مسلمان وہ ہے جو
تمام حقوق ادا کر کے اپنی قبر میں جائے۔ (تفسیرِ نعیمی، جلد 5، صفحہ 160)۔
اللہ پاک ہمیں امانتوں کی پاسداری کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami