محمد
مبشر (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضانِ مدینہ کراچی، پاکستان )
پیارے اسلامی بھائیو! خیانت ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جو
فرد، خاندان، معاشرہ اور امت کے اعتماد کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔ یہ صرف امانت میں
بددیانتی ہی نہیں بلکہ قول، فعل، نیت، وعدہ، اور تعلقات میں بھی جھلک سکتی ہے۔
قرآن و حدیث میں خیانت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ عمل انسان کی
شخصیت کو داغدار کر دیتا ہے اور دوسروں کے اعتماد کو توڑ دیتا ہے۔ جب ایک فرد خیانت
کرتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ کی نافرمانی کرتا ہے بلکہ انسانی رشتوں کی حرمت کو بھی
پامال کرتا ہے۔ چاہے معاملہ مال کا ہو، راز داری کا ہو، یا رشتوں کا خیانت ہر صورت
میں ناپسندیدہ اور نقصان دہ ہے۔ایک دیانت دار معاشرہ ہی بااعتماد، باوقار اور ترقی
یافتہ ہو سکتا ہے، جبکہ خیانت معاشرتی انتشار، بداعتمادی اور اخلاقی زوال کی علامت
ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے معاملات، وعدوں، تعلقات اور ذمہ داریوں میں
امانتدار رہیں، اور خود کو ہر طرح کی خیانت سے محفوظ رکھیں۔پیارے اسلامی بھائیو !اللہ
تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ خیانت کرنے سے دور رہنے کا حکم ارشاد فرمایا
چنانچہ ان میں سے کچھ آیات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:
(1) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران:161)
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(انفال:27)
(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان:
اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک
اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء:107)
پیارے اسلامی بھائیو!خیانت نہ صرف ایک اخلاقی برائی ہے
بلکہ یہ انسان کے ایمان اور کردار پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتی ہے۔ ایک دیانت دار
انسان دوسروں کے لیے باعثِ اطمینان ہوتا ہے، جبکہ خائن شخص پر نہ دنیا اعتماد کرتی
ہے نہ آخرت میں اس کے لیے کامیابی کی کوئی ضمانت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر
معاملے میں سچائی، امانتداری اور وفاداری کو اپنا شعار بنائیں، تاکہ نہ صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا حاصل ہو بلکہ ایک صالح، پرامن اور بااعتماد معاشرے کی بنیاد بھی
مضبوط ہو۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں امامت دار ، صالح مؤمن بنائے( آمین)۔
Dawateislami