محمد
اویس (درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہر میدان
میں سچائی، دیانت داری اور امانت کا درس دیتا ہے۔ یہ دین صرف عبادات پر نہیں، بلکہ
اعلیٰ اخلاق پر بھی قائم ہے۔ انہی اخلاقی خوبیوں میں سے ایک اہم صفت "دیانت"
ہے، اور اس کی ضد "خیانت" ہے، جس کی قرآن کریم میں بار بار سخت مذمت کی
گئی ہے۔
خیانت صرف مال یا امانت میں بددیانتی نہیں، بلکہ وعدے،
ذمہ داری، اور علم میں بھی خیانت شامل ہے۔ یہ ایسا گناہ ہے جو نہ صرف انسانی
اعتماد کو تباہ کرتا ہے بلکہ ایمان کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے خیانت
کو اللہ اور رسول کی نافرمانی کے مترادف قرار دیا ہے اور مومنوں کو اس سے واضح طور
پر منع فرمایا ہے۔
خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔
خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری
واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
قرآنِ مجید میں خیانت کو نہایت سخت گناہ قرار دیا گیا ہے
اور مختلف مقامات پر اس کی مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ معاشرتی بگاڑ، اعتماد کی
تباہی اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
(1)اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت کی ممانعت :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال
(8:27)
اس آیت میں خیانت
کو اللہ و رسول کی نافرمانی کے برابر قرار دیا گیا۔
(2)امانتوں کی
ادائیگی کا حکم:"إِنَّ اللَّهَ
يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا ترجمہ: یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو۔(سورۃ النساء (4:58)
(3)خیانت کرنے والوں کا انجام:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ترجمہ
کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ
آل عمران:161)
قیامت کے دن خیانت
کرنے والے شرمندگی کے ساتھ اپنی خیانت سامنے لائیں گے۔
رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں جب
بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس امانت رکھی
جائے تو خیانت کرے۔(بخارى ، 1 /24، حدیث: 33 )
حضور ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی
خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔ (مسلم، ص1184 ، حدیث:2865)
حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد
فرمایا: جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس
کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد ، 4 / 271، حدیث: 12386)
حضرت ابو اُمامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے
والا نہیں ہو سکتا ۔ (مسند امام احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)اللہ تعالیٰ ہم سب کو
اس خیانت جیسے گناہ سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین۔
Dawateislami