قرآن پاک میں خیانت (دھوکہ دہی، امانت میں خیانت) کی شدید مذمت کی گئی ہے، خاص طور پر سورۃ آل عمران کی آیت 161 میں فرمایا گیا کہ قیامت کے دن خیانت کرنے والا اپنی خیانت کی ہوئی چیز کے ساتھ پیش ہوگا، اور اس سے پہلے سورۃ النساء میں بھی امانت کے حق کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ احادیث میں بھی خیانت کو منافقت کی نشانی اور سخت گناہ قرار دیا گیا ہے، جو شخص خیانت کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ دہی کرتا ہے۔

(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃالنساء:  107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)

ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورۃالانفال ، 71)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ ، اگر وہ قیدی  تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا چاہئے۔

(3) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف ، 52)

ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت  یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25)

اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

   ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃالانفال ، 27)

تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے۔


قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خیانت کے متعلق آیت مبارکہ نازل فرمائیں آئیےچند آیات ملاحظہ فرمائیں :

(1) نہ جھگڑو:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورت نساء پارہ 5 آیت107)

(2) پہلے ہی خیانت کر چکے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(سورت انفال پارہ 10 آیت 71)

(3) پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورت یوسف پارہ 12 آیت 52 )

(4) دغا نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت انفال پارہ9 آیت 27 )


(1) خیانت کرنے والا بڑا گنہگار : وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ ( پارہ ، 5 ، سورۃ النساء ، 107)

(2) اعمال کا پورا بدلا : وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ( پارہ ،4 ، سورۃ آل عمران ، 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ ( صراط الجنان ، جلد ، 2 ص: 94)

(3) اللہ اور اس کے رسول سے خیانت: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ ( پارہ ، 9 سورۃ الانفال ، 27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: 27 ٫ 2 / 190)

(4) اللہ خیانت کرنے والے کو پسند نہیں کرتا : وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ( پارہ ، 10 ، سورۃ الانفال ، 58 )

(5) آنکھوں کی خیانت: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ ( پارہ ،24 ، سورۃ المؤمن ( الغافر ) 19)

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: 19، ص1055)


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اسے امانت و دیانت کا پابند ٹھہرایا ہے۔ انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی اعتماد، سچائی اور وفاداری پر قائم ہوتی ہے، لیکن جب یہ بنیادیں کمزور ہو جائیں تو معاشرہ انتشار اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ خیانت ایسا ہی ایک مہلک اخلاقی مرض ہے جو فرد کی کردار کشی کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے امن اور انصاف کو تباہ کر دیتا ہے۔ قرآنِ مجید، جو ہدایتِ کاملہ اور ضابطۂ حیات ہے، خیانت کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیتا ہے اور اہلِ ایمان کو ہر حال میں امانتوں کی حفاظت اور وعدوں کی پاسداری کا حکم دیتا ہے۔ قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ خیانت نہ صرف انسانوں کے ساتھ ظلم ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی بھی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے والوں کو اپنا محبوب قرار نہیں دیا اور انہیں دنیا و آخرت میں نقصان سے خبردار فرمایا ہے۔آئیے چند ایسی ایات ملاحظہ کیجئے جس میں خیانت کو بیان کیا گیا ہے۔

(‎‎1) اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت نہ کرنا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

صراط الجنان :لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔

(‎‎2)پیٹھ پیچھے خیانت نہ کرنا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف :52)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے۔(تفسیر صراط الجنان ،پ12،سورۃ یوسف ،آیت52)

(‎‎3) خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا :اللہ عزوجل ان کے متعلق قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پ4،سورۃالنساء ،آیت107)

(‎‎4) آنکھوں کی خیانت : یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (المؤمن:19)

یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ آنکھوں  کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں  کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں  میں  چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں  سوچنا ہے،یہ سب چیزیں  اگرچہ دوسرے لوگوں  کو معلوم نہ ہوں  لیکن انہیں  اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: 19، ص1055)


اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 27)

اللہ پاک نے قرآن کریم میں امانت میں خیانت کر نےوالوں کی مذمت بیان فرمائی اور اس آیت مبارکہ میں جواللہ عزوجل اور اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کا ذکر ہوا اس سے مراد یہ ہے کہ" فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے"۔(تفسیر خازن جلد نمبر 2 صفحہ نمبر190)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان : بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر58)

قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے امانت میں خیانت کرنے کی مذمت بیان فرمائی اور حکم فرمایا کہ اپنی امانتوں کو ادا کرو ۔

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے اسکے تحت ساری خیانتیں مراد ہے چاہے مال میں ہو یا اس کے علاؤہ ہو ۔

حدیث پاک کے اندر بھی خیانت کی مذمت بیان ہوئی ہے اللہ کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ خالص مُنافِق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک بات ہوگی اس میں نِفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑدے۔(1)جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے(2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3) اور جب کسی سے کوئی عہد کرے تو عہدشِکْنی کرے (4) اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق، الحدیث:34، ج۱، ص25)

اس حدیث پاک کے اندر بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے امانت کی مذمت کو بیان کرتے ہوئے اور منافق کی علامت کو نفاق کی علامت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جسے امین بنایا جائے وہ امانت میں خیانت کرے یہ نفاق کی ایک خوبصورت اس کو حدیث پاک میں شمار کیا گیا یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے اس سے ثابت ہوا اس سے ثابت ہوا کسی شخص کو امین بنایا جائے تو وہ اس میں خیانت نہ کرے۔


خیانت ایسا گناہ ہے جو نہ صرف انسان کے کردار کو داغدار کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتا ہے۔اسلام ایک ایسا دین ہے جو امانت، دیانت اور سچائی پر قائم ہے، اس لیے قرآن کریم بار بار اس بُرے عمل سے روکتا ہے۔مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے رب، رسول اور لوگوں کے حقوق میں کبھی خیانت نہ کرے۔قرآن نے خیانت کو صرف گناہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیماری قرار دیا ہے جو نفاق کی طرف لے جاتی ہے۔اسی لیے مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اس کے انجام اور اس سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔

خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت سورۃ الانفال میں ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(سورۃ الانفال، آیت 27)

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔

خیانت کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے: ِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان:بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ الانفال، آیت 58)

یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے۔

حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَایہ آیت حکومتی عدل، انصاف اور امانت داری کے لئے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

جو شخص اپنے عہدے، اختیار یا وسائل میں خیانت کرتا ہے وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔

خیانت کے نتائج بہتر اور مؤثر بیان:قرآن و سنت بتاتے ہیں کہ خیانت کا انجام نہایت تباہ کن ہے۔دنیا میں خیانت کرنے والے پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، اس کی عزت گھٹتی ہے اور معاشرے میں اس کی ساکھ برباد ہو جاتی ہے۔ جن معاشروں میں خیانت عام ہو جائے وہاں امن، انصاف اور اعتماد باقی نہیں رہتا، نتیجتاً انتشار، لڑائیاں اور بے اعتمادی پھیل جاتی ہے۔آخرت میں خیانت کرنے والا اپنے کیے ہوئے ظلم اور چھپائی ہوئی چیزوں کا بوجھ خود اٹھا کر اللہ کے سامنے حاضر ہوگا:

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ

ترجمہ کنز الایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا۔(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت کا بوجھ قیامت کے دن رسوائی کا سبب بنے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔یوں قرآنِ حکیم نے زندگی کے ہر شعبے میں امانت داری کو مومن کی پہچان بنایا ہے۔جو لوگ دیانت پر قائم رہتے ہیں وہ اللہ کی رضا اور بندوں کا بھروسہ دونوں پاتے ہیں۔خیانت سے بچنا دراصل اپنے کردار، ایمان اور آخرت کو محفوظ کرنے کا راستہ ہے۔مومن ہمیشہ یاد رکھتا ہے کہ اللہ ہر نیت اور ہر عمل کو دیکھتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ہر امانت کو سچائی اور دیانت کے ساتھ ادا کریں، یہی حقیقی ایمان کی روح ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ دین اسلام ہمیں زندگی کے تمام تر شعبہ جات میں رہنمائی فرماتا ہے اخلاقی اور سماجی طور پر ہر وہ کام جو معاشرے میں تباہی کا باعث بنتا ہو اسلام ہمیں اس کام سے روکتا ہے ۔ امانت میں خیانت کرنا بھی اسی میں شامل ہوتا ہے لہٰذا اسلام ہمیں اس عمل سے بھی بچنے کا درس دیتا ہے ۔

امانت اور خیانت کا مفہوم:لفظ امانت ہر اُس ذمہ داری، حق، راز یا معاملے کو کہتے ہیں جو انسان کے سپرد کیا جائے اور جس کی حفاظت اور درست ادائیگی ضروری ہو۔ اس کے برعکس خیانت اس امانت میں کوتاہی، دھوکا، بے وفائی یا ناجائز تصرف کو کہتے ہیں۔ اسلام میں امانت صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ قول و قرار، عہد، حکومتی اختیارات، علم، عدل اور حتیٰ کہ جسم و روح تک کو امانت سمجھا گیا ہے۔

خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت سورۃ الانفال میں ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے اس کی گرفت بھی سخت ہے۔

خیانت کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:- اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ الانفال، آیت 58)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جسے اللہ کی ناپسندیدگی حاصل ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو اللہ کو پسند ہو اور اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔

حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)

یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب، اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔

یہ آیت ہر قسم کی مالی خیانت رشوت، دھوکا، جھوٹ، جعل سازی، کاروباری دھوکہ دہی سب کو حرام قرار دیتی ہے۔

خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)

ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)

یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔ان تمام تر آیات پر غور کی جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ امانتوں میں خیانت کرنا معاشرے کے اندر ایک ناسور کی طرح پھیلتا ہے اور نہایت ہی برا عمل ہے ہمیں بھی چاہیے کہ اگر ہمیں کوئی ایماندار سمجھتے ہوئے امانت دیتا ہے تو ہم اس کو مکمل طور پر دیہان رکھتے ہوئے اور اس کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس کا خیال رکھیں ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو عمل کو توفیق عطا فرمائے ۔


اسلام میں حقوق کی پاسداری کا بہت خیال رکھا گیا ہے ہر وہ حق جسے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا لازم ہو اسے امانت کہتے ہیں اور امانت کی ضد خیانت ہے شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹، الانفال: ۲۷)

(1 )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے کلام نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا:(1) والدین کا نافرمان(2)شراب پینے والا(3)امانت میں خیانت کرنے والا۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 106)

(2 )حضور ﷺ نے جہنمیوں۔ میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، ص 1184 ، حدیث:2865)

خیانت کے کئی انداز :

( 1)مشورے میں خیانت :جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔ (ابی داود،ج 3 ،ص 449، حدیث: 3657)

( 2 ) کام میں خیانت :ہم تم میں سے جسےکسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے زیادہ چھپالے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لائے گا۔(مسلم، ص787، حدیث:4743)

(3 )مجلس میں خیانت مجالس امانت ہیں سوائے تین کے : (۱)جس مجلس میں کسی کو ناحق قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہو(۲)حرام کاری کا منصوبہ بنا ہو(۳)ناحق مال لینے کا منصوبہ بنا ہو۔ (ابو داود،ج 4،ص351، حدیث: 4869)

حکیم الامت مفتی احمد یارخان علیہ رحمۃ الحنَّان ’’مجالس امانت ہیں‘‘کی وضاحت میں لکھتے ہیں:یعنی جب کوئی خاص مجلس یا میٹنگ کی جائے، وہاں جو کچھ طے ہو اسے مشتہر(یعنی عام ) نہ کرو بلکہ صیغہ راز میں رکھو کہ وہاں جو کچھ پاس ہوا وہ امانت ہے۔(مراۃ المناجیح ، ج 6،ص 630)

اسباب خیانت

(1 )خیانت کا پہلا سبب بدنیتی ہے۔جس طرح اچھی نیت اخلاق و کردار کے لیےشفاء اور اکسیر کا درجہ رکھتی ہے اسی طرح بدنیتی کازہربندے کے اعمال کو بے ثمر بلکہ تباہ و برباد کردیتا ہے۔

( 2 )خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے دھوکہ دینے والے سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ہے، دھوکہ دینا مومن کی صفت نہیں ہے۔

( 3 )خیانت کا تیسرا سبب تَوَکُّلْ عَلَی اللہ کی کمی ہے۔کیوں کہ بندہ اپنے کمزور اعتقاد کی بناء پر یہ سمجھتا ہے کہ خیانت کا راستہ اختیار کرنے میں ہی میری کامیابی ہے ۔

( 4 )خیانت کا چوتھا سبب بری صحبت ہے۔بعض اوقات انسان اپنے ارد گرد کے ماحول کی ہر خامی و خوبی کو قبول کرلیتا ہے جس کا اثر اس کے ذاتی اخلاق و کردار پر ہوتا ہےخاص طور پربداطوار افراد کی بددیانتی سے انسان بہت جلد متاثر ہوجاتا ہے ۔

خیانت ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے معاشرہ تباہی و بربادی کی وادیوں میں چلا جاتا ہے اور اس سے نکلنے کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ بندہ امانت میں خیانت نہ کریں اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دیتا رہے اللہ تعالی ہم سب کو اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


خیانت ایک ایسا عمل ہے جو انسانیت کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات میں بھی سختی سے ممنوع اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں خیانت کو نہ صرف حرام سمجھا گیا ہے بلکہ اس کی روحانی اور دنیاوی سزا بھی بیان کی گئی ہے۔ قرآن میں مختلف آیات میں خیانت کی مذمت کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

خیانت کی تعریف:خیانت کا لغوی معنی "کسی کی امانت میں چوری یا ناجائز تصرف" ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کسی فرد یا گروہ کی دی ہوئی امانت کو ناحق استعمال کیا جاتا ہے یا اس میں کسی قسم کی دھوکہ دہی کی جاتی ہے۔ خیانت کسی بھی شکل میں ہو سکتی ہے، چاہے وہ مال، حقوق، وعدے یا ذاتی تعلقات میں ہو۔

(1) قرآن میں خیانت کی مذمت:قرآن میں خیانت کو ایک سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا:

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ انفال 8:27)

اس آیت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کرنا، بلکہ آپس میں امانتوں میں خیانت کرنا بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے۔

(2)خیانت کے اثرات:خیانت نہ صرف دین کے لحاظ سے ایک گناہ ہے بلکہ اس کے دنیاوی اثرات بھی بہت سنگین ہیں۔ خیانت کے باعث معاشرتی تعلقات میں دراڑ آتی ہے، اعتماد کا فقدان ہوتا ہے اور افراد کے درمیان کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے میں بداعتمادی اور فساد پیدا ہوتا ہے۔چونکہ قرآن کریم میں خیانت کی سختی سے مذمت کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ خیانت نہ صرف دین کے اعتبار سے گناہ ہے بلکہ اس کے معاشرتی اور اخلاقی اثرات بھی بہت سنگین ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی زندگی میں امانت داری کو اپنانا چاہیے تاکہ وہ اللہ کی رضا اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔اللہ ہمیں خیانت سے بچئے اور ہمیں امانت داری پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔


بلا اجازت شرعی کسی کی امانت میں نا جائز تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے کسی بھی مسلمان کو ہاتھ زبان وغیرہ سے بلا اجازت شرعی تکلیف نہیں دینی چاہیے قیامت کے دن خیانت کرنے والے کو ذلت و رسوائی کا سامنا ہو گا۔

(1) امانت میں خیانت: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(سورۃ الانفال:27)

صراط الجنان:فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔

(2)آنکھوں کی خیانت:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)ترجمہ کنز العرفان:اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔( سورۃ المؤمن:19)

صراط الجنان:آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے۔

(3)خود کو خیانت میں ڈالنے والوں سے پرہیز:ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء:107)

صراط الجنان:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے ۔

(4)انبیاء سے خیانت ہونا نا ممکن:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران:161)

(5)اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو جانتا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو بیشک یہ اس سے پہلے اللہ سے خیانت کرچکے ہیں جس پر اُس نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورۃ الانفال:71)

پیارے اسلامی بھائیو! کسی بھی مسلمان بھائی کی امانت میں خیانت کرنا ناجائز و گناہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے۔


اللہ پاک نے انسان کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے انبیاء کرام اور رسل عظام کو بھیجا اور ان کے ساتھ آسمانی کتابوں کو اتارا ان میں انسان کی رہنمائی اتاری اور ان کتب کے ذریعے انسان کی باطنی اور خارجی تربیت کی باطنی امراض میں سے ایک مرض خیانت بھی ہےاس کی مذمت کی گئی چنانچہ ارشاد فرمایا :

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

(2) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔(آل عمران:۱۶۱)

تفسیر صراط الجنان : اور حضور پر نور ﷺ کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں ، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، ۳ / ۹۳، الحدیث: ۲۷۱۶)

(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار اپنانے کا درس دیتا ہے۔ ان اقدار میں "امانت داری" کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے برعکس، "خیانت" ایک ایسا گھناؤنا عمل اور اخلاقی برائی ہے جس سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔ خیانت کا مطلب ہے کسی کے بھروسے کو ٹھیس پہنچانا یا کسی کی امانت میں بددیانتی کرنا۔ قرآن مجید میں خیانت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں اہل ایمان کو خیانت سے باز رہنے کا حکم دیا ہے۔ یہ برائی ایمان کی ضد اور منافقت کی جڑ ہے۔

(1) اللہ و رسول اور امانتوں سے دغا:اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امانتوں میں خیانت کا ارتکاب نہ کریں۔ سورۃ الانفال میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)

اس آیت سے واضح ہے کہ خیانت صرف مالی نہیں، بلکہ اللہ کے احکامات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے روگردانی بھی بہت بڑی خیانت ہے۔

(2) اللہ کی ناپسندیدگی کا سبب:جو شخص دھوکہ دہی، خیانت اور بددیانتی کا راستہ اپناتا ہے، وہ اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔ سورۃ الحج میں ایسے شخص کی مذمت اس طرح بیان کی گئی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ کنزا لایمان: بےشک اللہ دوست نہیں رکھتا ہر بڑے دغا باز ناشکرے کو۔ (سورۃ الحج: 38)

یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت اور ناشکری کا گناہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ایسے لوگوں سے اللہ کی محبت اُٹھ جاتی ہے۔

(3)خیانت کاروں کی فریب کاری نہیں چلتی:خیانت کار کتنا ہی فریب کیوں نہ دے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ حق کا ساتھ دیتا ہے اور خیانت کاروں کی مکاریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ سورۃ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ سے ایک اہم اصول بیان ہوا ہے:

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف: 52)

خیانت کی مختلف صورتیں:قرآنی تعلیمات کی روشنی میں خیانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس میں مادی اور روحانی دونوں صورتیں شامل ہیں:مالی و مادی امانتیں: کسی کا مال، راز، یا وعدہ جو آپ کے پاس بطور امانت ہو۔فرائض کی امانت: اللہ کے حقوق (جیسے نماز و روزہ) اور بندوں کے حقوق (جیسے ملازمت یا عہدے کے فرائض) کو پوری ایمانداری سے ادا نہ کرنا۔

خیانت ایمان کی کمزوری کی علامت ہے اور معاشرتی بے چینی کا سبب ہے۔ قرآن مجید نے سختی سے اس کی مذمت کرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ خیانت کرنے والا شخص اللہ کی نظر میں ناپسندیدہ ہے اور وہ آخرت میں سخت عذاب کا مستحق ہوگا۔ بحیثیت مسلمان، ہمیں امانت داری کو اپنے کردار کا لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ ہم دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں۔