محمدعلی
رضا(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی، پاکستان)
اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 27)
اللہ پاک نے
قرآن کریم میں امانت میں خیانت کر نےوالوں کی مذمت بیان فرمائی اور اس آیت مبارکہ
میں جواللہ عزوجل اور اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کا ذکر
ہوا اس سے مراد یہ ہے کہ" فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور
سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے"۔(تفسیر خازن جلد نمبر 2 صفحہ
نمبر190)
(2)
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز العرفان : بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت
نمبر58)
قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے امانت میں خیانت
کرنے کی مذمت بیان فرمائی اور حکم فرمایا کہ اپنی امانتوں کو ادا کرو ۔
خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر
کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے اسکے تحت ساری خیانتیں مراد ہے چاہے
مال میں ہو یا اس کے علاؤہ ہو ۔
حدیث پاک کے اندر بھی خیانت کی مذمت بیان ہوئی ہے اللہ
کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :جس شخص میں یہ چار
باتیں ہوں گی وہ خالص مُنافِق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک بات ہوگی
اس میں نِفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑدے۔(1)جب امین بنایا جائے
تو خیانت کرے(2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3) اور جب کسی سے کوئی عہد کرے تو
عہدشِکْنی کرے (4) اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب
علامۃ المنافق، الحدیث:34، ج۱،
ص25)
اس حدیث پاک کے اندر بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے
امانت کی مذمت کو بیان کرتے ہوئے اور منافق کی علامت کو نفاق کی علامت کو بیان
کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جسے امین بنایا جائے وہ امانت میں خیانت کرے یہ نفاق کی ایک
خوبصورت اس کو حدیث پاک میں شمار کیا گیا یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے اس سے ثابت
ہوا اس سے ثابت ہوا کسی شخص کو امین بنایا جائے تو وہ اس میں خیانت نہ کرے۔
Dawateislami