ذوالقرنین
حیدر(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
اسلام میں حقوق کی پاسداری کا بہت خیال رکھا گیا ہے ہر
وہ حق جسے ادا کرنا اور اس کی حفاظت کرنا لازم ہو اسے امانت کہتے ہیں اور امانت کی
ضد خیانت ہے شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹،
الانفال: ۲۷)
(1 )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے کلام نہیں
کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک
عذاب ہوگا:(1) والدین کا نافرمان(2)شراب پینے والا(3)امانت میں خیانت کرنے
والا۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 106)
(2 )حضور ﷺ نے
جہنمیوں۔ میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر
وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، ص 1184 ، حدیث:2865)
خیانت
کے کئی انداز :
( 1)مشورے میں خیانت :جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں
مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ دُرستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت
کی۔ (ابی داود،ج 3 ،ص 449، حدیث: 3657)
( 2 ) کام میں خیانت :ہم تم میں سے جسےکسی کام پر عامل
بنائیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے زیادہ چھپالے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت
کے دن لائے گا۔(مسلم، ص787، حدیث:4743)
(3 )مجلس میں خیانت مجالس امانت ہیں سوائے تین کے : (۱)جس مجلس میں کسی کو ناحق قتل
کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہو(۲)حرام
کاری کا منصوبہ بنا ہو(۳)ناحق
مال لینے کا منصوبہ بنا ہو۔ (ابو داود،ج 4،ص351، حدیث: 4869)
حکیم الامت مفتی احمد یارخان علیہ رحمۃ الحنَّان ’’مجالس
امانت ہیں‘‘کی وضاحت میں لکھتے ہیں:یعنی جب کوئی خاص مجلس یا میٹنگ کی جائے، وہاں
جو کچھ طے ہو اسے مشتہر(یعنی عام ) نہ کرو بلکہ صیغہ راز میں رکھو کہ وہاں جو کچھ
پاس ہوا وہ امانت ہے۔(مراۃ المناجیح ، ج 6،ص 630)
اسباب خیانت
(1
)خیانت کا پہلا سبب بدنیتی ہے۔جس طرح اچھی نیت اخلاق و کردار کے لیےشفاء اور اکسیر
کا درجہ رکھتی ہے اسی طرح بدنیتی کازہربندے کے اعمال کو بے ثمر بلکہ تباہ و برباد
کردیتا ہے۔
( 2 )خیانت کا دوسر ا سبب دھوکہ دینےکی عادت ہے دھوکہ دینے
والے سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ہے، دھوکہ دینا مومن کی صفت نہیں ہے۔
( 3 )خیانت کا تیسرا سبب تَوَکُّلْ عَلَی اللہ کی کمی
ہے۔کیوں کہ بندہ اپنے کمزور اعتقاد کی بناء پر یہ سمجھتا ہے کہ خیانت کا راستہ اختیار
کرنے میں ہی میری کامیابی ہے ۔
( 4 )خیانت کا چوتھا سبب بری صحبت ہے۔بعض اوقات انسان
اپنے ارد گرد کے ماحول کی ہر خامی و خوبی کو قبول کرلیتا ہے جس کا اثر اس کے ذاتی
اخلاق و کردار پر ہوتا ہےخاص طور پربداطوار افراد کی بددیانتی سے انسان بہت جلد
متاثر ہوجاتا ہے ۔
خیانت ایک ایسی
چیز ہے جس کی وجہ سے معاشرہ تباہی و بربادی کی وادیوں میں چلا جاتا ہے اور اس سے
نکلنے کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ بندہ امانت میں خیانت نہ کریں اور دوسروں
کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دیتا رہے اللہ تعالی ہم سب کو اس سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
Dawateislami