اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اسے امانت و دیانت کا پابند ٹھہرایا ہے۔ انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی اعتماد، سچائی اور وفاداری پر قائم ہوتی ہے، لیکن جب یہ بنیادیں کمزور ہو جائیں تو معاشرہ انتشار اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ خیانت ایسا ہی ایک مہلک اخلاقی مرض ہے جو فرد کی کردار کشی کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے امن اور انصاف کو تباہ کر دیتا ہے۔ قرآنِ مجید، جو ہدایتِ کاملہ اور ضابطۂ حیات ہے، خیانت کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیتا ہے اور اہلِ ایمان کو ہر حال میں امانتوں کی حفاظت اور وعدوں کی پاسداری کا حکم دیتا ہے۔ قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ خیانت نہ صرف انسانوں کے ساتھ ظلم ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی بھی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے والوں کو اپنا محبوب قرار نہیں دیا اور انہیں دنیا و آخرت میں نقصان سے خبردار فرمایا ہے۔آئیے چند ایسی ایات ملاحظہ کیجئے جس میں خیانت کو بیان کیا گیا ہے۔

(‎‎1) اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت نہ کرنا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

صراط الجنان :لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔

(‎‎2)پیٹھ پیچھے خیانت نہ کرنا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف :52)

اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے۔(تفسیر صراط الجنان ،پ12،سورۃ یوسف ،آیت52)

(‎‎3) خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا :اللہ عزوجل ان کے متعلق قرآن کریم میں فرماتا ہے:

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پ4،سورۃالنساء ،آیت107)

(‎‎4) آنکھوں کی خیانت : یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (المؤمن:19)

یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ آنکھوں  کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں  کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں  میں  چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں  سوچنا ہے،یہ سب چیزیں  اگرچہ دوسرے لوگوں  کو معلوم نہ ہوں  لیکن انہیں  اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: 19، ص1055)