فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہی میں سے ایک خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک  ﷺ نے فرمایا:کہ منافق کی تین علامتیں ہیں: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ یعنی جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، ج1، ص24، حدیث:33)

یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)

خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے ۔

(1)وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پارہ 4 سورۃ آل عمران آیت 161)

(2) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت 107)

(3) اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ -وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ (۱۰۵) ترجمہ کنز العرفان:اے حبیب !بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری تا کہ لوگوں میں اس (حق)کے ساتھ فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھایا اور تم خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کرنا۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت 5)

(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (پارہ 9 سورہ انفال آیت 27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

(5) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (پارہ 10 سورہ انفال آیت 58)


امانت مومن کی ایک عظیم اخلاقی اور دینی صفت ہے جو انسان کے اخلاق و کردار کی سچائی اور اعتماد کی علامت ہے۔ یہ انسان کی وہ اعلی  خوبی ہے جس پر معاشرتی نظام قائم رہتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ دینِ اسلام میں امانت داری  کو بہت  اہمیت حاصل ہے، حتی کہ امانت داری کو مومن کا اعلی وصف قرار دیا . جبکہ خیانت امانت کی خلاف ورزی اور ایک نہایت قبیح اور مذموم عمل ہے جو انسانی اعتماد، امانت اور سچائی کو مجروح کرتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس سے انسان کا کردار داغدار اور معاشرہ فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ خیانت چاہے کسی بھی شکل میں ہو، دینِ اسلام میں اسے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔اللہ پاک نے جہاں ایمان والوں کو امانت و دیانتداری اختیار کرنے  کا حکم ارشاد فرمایا وہی خیانت سے بچنے کی  تلقین ارشاد فرمائی چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتاہے :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:161)

صراط الجنا ن میں ہے :کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گااور قیامت کے دن جب  خیانت کرنے والا مجرم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عذاب کا فیصلہ فرمائے گا نیز  اللہ پاک انہیں پسند بھی نہیں فرماتا۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو پسند نہیں فرماتا۔(الحج:38)

یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار کو پسند نہیں فرماتا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ َ کے ساتھ کفر کر کے ان کی خیانت اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اس عمل پر سزا دے گا۔(جلالین، الحج، تحت الآیۃ: 38، ص282، خازن، الحج، تحت الآیۃ: 38، 3/ 310، ملتقطاً)

خیانت سے بچنے کی تلقین :خیانت چونکہ کبیرہ یعنی بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے ۔ اللہ پاک نے مومنین کو اس سے دور رہنے کی قرآن کریم فرقان حمید میں متعدد بار تلقین ارشاد فرمائی چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

صراط الجنان میں ہے: فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: 27، 2/ 190)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، 8 / 276، الحدیث: 22232)

امانت میں  خیانت کرنے اورعہد کی خلاف ورزی کرنے سے متعلق حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’چار باتیں  جس میں  ہوں  وہ خالص منافق ہے اور جس کے اندر ان میں  سے کوئی ایک ہو تو اس میں  نفاق کا ایک حصہ ہے یہاں  تک کہ اسے چھوڑ دے(1)جب اسے امانت سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔(2)جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔(3) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔(4)جب جھگڑا کرے تو بیہودہ بکے۔( بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، 1 / 25، الحدیث: 34)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں امانت و دیانتداری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خیانت سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


"خیانت" عربی لفظ "خَانَ ، يَخُونُ ، خِيَانَةً" سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: امانت میں بددیانتی کرنا، کسی کے اعتماد کو توڑنا، وعدہ خلافی کرنا اصطلاحی معنی:خیانت سے مراد وہ عمل ہے جس میں کوئی شخص دوسروں کے مال، حق، یا اعتماد کو بلا اجازت یا ناجائز طریقے سے استعمال کرے، یا اس میں کمی کرے۔

- اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)

خیانت کرنے والے کا انجام :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران آیت نمبر 161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ  سرورِکائنات  ﷺ  نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔

(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص1532، الحدیث: 63(2865)

اللہ پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ ( سُورۃ الانفال: 27 )

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ  ﷺ  سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، سُورۃ الانفال: 27 )

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ۔

نوٹ: اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین 


خیانت کرنا ظاہری اور باطنی اعتبار سے مہلک ہے کیونکہ یہ بندہ کو  الله اور اس کی رسول ﷺ کی بارگاہ اور لوگوں کے نزدیک رسوا کر دیتی ہےخیانت کی تاثیر یہ ہے کہ جو قوم امانت میں خیانت کرنے لگے گی تو وہ قوم اپنے دشمنوں سے خائف ،ڈرپوک اور بزدل ہوجائے گی ۔خیانت کئی قسم کی ہوتی ہےآنکھ کی خیانت دل کی خیانت اور جسم کے کئی اعضاء سے خیانت کرنا۔ لفظی اعتبار سے خان یخون سے نکلا ہے جس کا معنی ہے خیانت کرنا غبن کرنا کمی کرنا بے ایمانی کرنا ، کسی کے اعتماد کو توڑنا ۔

آنکھوں اور دلوں کی خیانت:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (مومن:۱۹)

آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، مؤمن، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)

خیانت پرانا مرض ہے جو پہلے کی قوموں میں بھی پایا جاتا تھا :جس کے بارے اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:

وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُم ترجمہ کنز الایمان: اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے سوا تھوڑوں کے ۔(المائدۃ:13)

سرورِ عالم ﷺ کو فرمایا گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہمیشہ ان لوگوں کی خیانتوں پر مطلع ہوتے رہیں گے کیونکہ دغابازی، خیانت ،عہد توڑنا اور رسولوں کے ساتھ بدعہدی اُن کی اور اُن کے آباء و اجداد کی قدیم عادت ہے۔ ہاں ان میں سے جو ایمان لانے والوں کی تھوڑی سی تعداد ہے یہ خائن نہیں ہیں اور ان لوگوں سے جو کچھ پہلے سرزد ہوا اس پر گرفت نہ کرو۔ (بیضاوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۳، ۲ / ۳۰۶)

خیانت کرنے والا کا حال قیامت کے روز بدحال :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ظاہری اور باطنی خیانتوں سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین بجاہ الخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سُورۃ الانفال،آیت: 27)

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سُورۃ آل عمران، آیت: 161)

یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (سورۃ المؤمن،آیت: 19)

رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جا سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔(مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، ج 6، حدیث: 4860)

حضرت فُضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تین شخص ایسے ہیں جن سے سوال نہیں ہوگا (اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، ان میں سے ایک وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس کے شوہر نے اس کی دنیوی ضروریات (جیسے نان نفقہ وغیرہ) پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔"(الترغیب والترہیب، ج 3، ص 18، حدیث: 4)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا۔" (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ج 8، ص 276، الحدیث: 22232)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین۔


میرے پیارے اسلامی! بھائیو قرآن میں تقریباً چھ سے سات جگہوں پر خیانت کا ذکر آیا ہے جیسا کہ :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّترجمہ کنز العرفان :اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں ۔(آل عمران:161)

اور جب خیانت کی مذمت کی بات آتی ہے تو قرآن میں ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے " وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ کنز العرفان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(آل عمران:161)

اور ایک اور جگہ ارشاد باری تعالٰی ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (انفال:27)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو قرآن کی جو ہم نے پہلی آیت ذکر کی اُس میں تو ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کے لیے خیانت کرنا محال ہے کیونکہ نبی تو معصوم ہوتے ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے اور خیانت کرنا ایک گناہ کا کام ہے اس لیے نبی کیلئے خیانت کرنا محال ہے۔ جب نبی خیانت نہیں کرتا تو اُن کے ماننے والے اسطرح کے یہ کام کیسے کر سکتے ہیں: فافهم ( تو غور و فکر کر)۔

دوسری آیت میں خیانت کی مذمت بیان کی گئی پیارے پیارے اسلامی بھائیوں غور تو کیجئے کہ جس دن بندہ آگے اتنے سارے حساب دے رہا ہوگا اور اوپر سے رب قھار بھی جلال میں ہوگا تو ایسے میں وہ چیز ہم کہاں سے لائیں گیں جس میں خیانت کی لہذا اس سے بچیئے اور جس سے خیانت کی مرنے سے پہلے اُس سے توبہ کر لیجیئے تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو ۔ "

تیسری آیت میں اللہ و رسول سے خیانت کرنے سے منع کیا گیا۔ اللہ و رسول سے خیانت کرنے سے مراد کہ جن چیزوں کا الله ورسول نے حکم دیا اُن کو چھوڑنا اور جن سے منع کیا وہ کرنا ۔ ایک تو اللہ و رسول سے خیانت سے منع کیا گیا اور دوسرا ساتھ میں میں اپنے اموال میں بھی خیانت کرنے سے منع کیا گیا۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خیانت کی تعریف بھی ہم سمجھ لیتے ہیں کہ " شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کو اخلاقِ حسنہ اختیار کرنے اور ہر قسم کی برائی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے جن اخلاقی خرابیوں کی سخت الفاظ میں مذمت فرمائی ہے، ان میں خیانت ایک نہایت قبیح، ناپسندیدہ اور ہلاکت خیز گناہ ہے۔ خیانت کے معنی ہیں امانت میں بددیانتی کرنا، کسی کے اعتماد کو توڑنا، حق کو دبانا یا ذمہ داری کو پورا نہ کرنا۔ اسلام میں خیانت کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو واضح الفاظ میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ تم جانتے ہو۔(سورۃ الانفال: 27)

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خیانت صرف لوگوں کے حقوق میں ہی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی نافرمانی بھی خیانت کے زمرے میں آتی ہے۔ جو شخص نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض میں کوتاہی کرتا ہے، وہ بھی ایک قسم کی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔

مزید اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء: 107)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور اللہ کی محبت سے محرومی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔

قرآنِ کریم میں جگہ جگہ امانت داری کی تعریف اور خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور وعدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔(سورۃ المؤمنون: 8)

اس آیت میں امانت داری کو مومن کی نمایاں صفت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچا مسلمان وہی ہے جو امانتوں اور وعدوں کی حفاظت کرے، جبکہ خیانت ایمان کی کمزوری اور نفاق کی علامت ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا﴾

ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچاؤ۔(سورۃ النساء: 58)

خیانت خواہ مال میں ہو، راز میں ہو، عہد و وعدے میں ہو یا کسی ذمہ داری اور منصب میں، ہر صورت میں سخت گناہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ خیانت معاشرے میں بداعتمادی کو جنم دیتی ہے، تعلقات کو کمزور کرتی ہے اور امن و سکون کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کے لیے دیانت داری کو لازم قرار دیا ہے۔قرآنِ مجید ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ دیانت داری دنیا میں عزت، اعتماد اور سکون کا باعث ہے، جبکہ خیانت رسوائی، ذلت اور آخرت میں سخت عذاب کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر حال میں خیانت سے بچے اور امانت داری کو اپنی زندگی کا شعار بنائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے مہلک گناہ سے محفوظ فرمائے اور ہمیں کامل امانت دار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہِ النبیِ الکریم۔


خیانت ایک ایسا اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے جو فرد، خاندان اور پورے معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ خیانت کے معنی امانت میں بددیانتی، وعدہ خلافی، اعتماد کو توڑنا اور حق کے برخلاف عمل کرنا ہیں۔ قرآنِ مجید میں خیانت کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اسے ایمان کے منافی عمل قرار دیا گیا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں امانت داری کو بنیادی اخلاقی قدر اور خیانت کو سنگین گناہ بتایا گیا ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بھی ہے۔ جو شخص خیانت کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔

ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

اس آیت میں خیانت کو ایمان کے منافی قرار دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ امانت میں خیانت دراصل اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کے مترادف ہے۔

خیانت صرف مال و دولت میں ہی نہیں ہوتی بلکہ بات، راز، ذمہ داری، عہدہ اور رشتوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کے سپرد کی جائے وہ امانت ہے، اور اس میں بددیانتی کرنا سخت گناہ ہے۔

سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جان بوجھ کر خیانت کرنے والا دراصل اپنے ہی نفس پر ظلم کرتا ہے۔قرآنِ مجید نے منافقین کی ایک بڑی علامت خیانت کو بتایا ہے۔ خیانت انسان کے کردار کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور معاشرے میں بے اعتمادی، انتشار اور نفرت کو جنم دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو بیٹھیں تو اجتماعی نظام بکھر جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے امانت داری کو کامیابی کی علامت قرار دیا ہے اور خیانت کو ہلاکت کا سبب بتایا ہے۔مزید برآں، قرآن ہمیں عدل و انصاف کی تعلیم دیتا ہے، اور خیانت عدل کی ضد ہے۔ خیانت کرنے والا نہ صرف دوسروں کا حق مارتا ہے بلکہ اپنے انجام کو بھی خراب کرتا ہے۔ قیامت کے دن خیانت کرنے والوں کا انجام نہایت سخت ہوگا، کیونکہ انہوں نے دنیا میں اعتماد کو پامال کیا ہوگا۔اسلامی معاشرے کی بنیاد امانت، سچائی اور دیانت داری پر رکھی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کو نبوت سے پہلے بھی "الصادق" اور "الامین" کہا جاتا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امانت داری ایمان کی روح ہے، اور خیانت ایمان کو کمزور کر دیتی ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید میں خیانت کی شدید مذمت اس لیے کی گئی ہے کہ یہ انسان کو اخلاقی پستی میں گرا دیتی ہے۔ ایک سچا مومن وہی ہے جو ہر حال میں امانت کا حق ادا کرے، وعدہ پورا کرے اور اعتماد کو ٹوٹنے نہ دے۔ اگر ہم ایک پرامن اور مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں خیانت سے بچنا اور قرآنی تعلیمات کے مطابق امانت داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔


اسلام نے ہر طرح کی خیانت سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے، چاہے وہ مالی امانت ہو، عہد و پیمان ہو، یا اللہ کی طرف سے دی گئی ذمہ داری ہو۔ قرآنِ کریم خدا کا روشن پیغام ہے جو ہمیں راست‌بازی، امانت و وفاداری کی طرف بلاتا ہے اور ہر برائی، خاص طور پر خیانت کی سخت مذمت کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں واضح حکم دیا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

یہ آیت صرف ایک عام اخلاقی اصول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا صریح حکم ہے۔ اس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ایمان والو! تمہاری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ تم وہ امانتیں واپس لو جو تمہیں سونپی گئی ہیں چاہے وہ دنیاوی ہوں یا آخرت سے متعلق اور ان میں خیانت نہ کرو۔

امانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ محض مال و دولت ہی امانت نہیں بلکہ ہر عہد، وعدہ اور ذمہ داری بھی امانت ہے۔ اگر انسان اپنے کاروبار میں بھروسہ توڑ دے، کسی کا حق نہ دے، یا اپنے قول و فعل میں منافقت برتے، تو وہ خیانت کا مرتکب ہوا۔ ایسے لوگ نہ صرف دنیا میں دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی بڑے عذاب کے مستحق ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ امانتوں کی واپسی ہر مسلمان کا فرض ہے:

"إِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰى اَهْلِهَا اور کنزِ الایمان میں اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے: "بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے حق داروں کے حوالے کرو۔"

یہ حکم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امانت صرف مال کی چیز نہیں ہے بلکہ اعتماد، تعلقات، کردار، اور ہر وہ چیز جو دوسروں پر واجب ہے، سب امانت ہیں۔ ان میں خیانت انسان کو گناہگار بناتی ہے اور ایمان کی حقیقت کو زنگ لگاتی ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرے کو مضبوط، باوقار اور اخلاقی معیاروں پر قائم دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں خیانت کے ہر روپ چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا سے بچنا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں، نوجوانوں، اور معاشرے کے ہر فرد میں امانت و وفاداری کا جذبہ پیدا کریں، اور خود بھی اس پر عمل پیرا رہیں۔

قرآن کی یہی تعلیم ہے کہ امانت کو سنبھالو، وعدوں کی پاسداری کرو، اور ہر قسم کی خیانت سے بچو۔ یہی وہ راہ ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں عزت و تقویٰ عطا کرتی ہے۔

اللہ ہمیں اپنے احکام کی درست سمجھ اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تا کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیابی کے لائق بن سکیں آمین۔


پیارے اسلامی بھائیو! اسلام زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرماتا ہے اسی طرح جب امانت دی جائے تو ہم پر کن چیزوں کو بجا لانا ضروری ہے نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کو امانت دی جائے اور وہ اس میں خیانت کرے تو وہ خالص منافق ہے ۔( بخاری کتاب الایمان باب علامت المنافق حدیث 34)

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال ،آیت 27)

لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

(2) وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:۱۶۱)

(3 ) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (انفال آیت 58)

(4) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (النساء ، آیت 107)

اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔

(5 ) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (المومن ، آیت 19)


پیارے پیارے اسلامی بھائیو !اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے :چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص1532، الحدیث23: (6825)

(1)ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍؕ-كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ ترجمۂ کنز العرفان:اللہ نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال بنادیا، وہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں پھر ان دونوں عورتوں نے ان سے خیانت کی تو وہ (صالح بندے) اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ آئے اور فرما دیا گیا کہ جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں جاؤ۔( پ 28 سورۃ التحریم،آیت نمبر 10)

(2)آنکھوں کی خیانت کو اللہ جانتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (پ 24، آیت نمبر 19، سورۃ المومن )

تفسیر صراط الجنان:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: 19، ص1055)

(3)خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلتا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)

تفسیر صراط الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25)

اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔

(4)خیانت والے کو اللہ پسند نہیں کرتا: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (پ 10، سُورۃ الانفال، آیت نمبر 58)

(5)اللہ پسند نہیں کرتا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پ 5، سورۃ النساء، آیت نمبر 107)

اللہ پاک ہمیں خیانت جیسی بیماری سے محفوظ فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰه علیہ وسلم۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق، سچائی اور امانت داری کی تعلیم دیتا ہے۔ امانت داری ایمان کی علامت ہے جبکہ خیانت ایک سخت اخلاقی و دینی جرم ہے۔ خیانت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی کے اعتماد، مال، راز یا ذمہ داری میں بددیانتی کرے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں خیانت کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے ایمان کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

(1)امانت میں خیانت سے سخت ممانعت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورۃ الانفال، آیت: 27)

(2)خیانت کرنے والا اللہ کو پسند نہیں:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنزالایمان:بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(سورۃ الانفال، آیت: 58)

(3)خیانت آخرت کے عذاب کا سبب ہے:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پ (سورۃ آلِ عمران، آیت: 161)

(1)خیانت منافق کی علامت ہے:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ۔۔۔ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں… جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح البخاری، کتاب الإيمان، حدیث: 33،صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 59)

(2)امانت نہ ہو تو ایمان کامل نہیں:حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُترجمہ:جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان (کامل) نہیں۔ (مسند احمد، حدیث: 12567،شعب الإيمان البیہقی )

(3)خیانت قیامت کے دن رسوائی کا باعث ہے:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كُلُّ غَادِرٍ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:ہر خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا تاکہ وہ پہچانا جائے۔(صحیح البخاری، حدیث: 3186،صحیح مسلم، حدیث: 1738)

لہذا قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خیانت ایک سنگین گناہ، ایمان کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں امانت داری اختیار کرے، چاہے وہ مالی معاملات ہوں، عہدے کی ذمہ داریاں ہوں یا کسی کا راز۔ امانت داری نہ صرف دنیا میں عزت و اعتماد کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات اور کامیابی کا سبب بھی ہے۔