محمد
فرحان عطاری(درجہ اولی جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی ، کراچی، پاکستان)
اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کو اخلاقِ حسنہ
اختیار کرنے اور ہر قسم کی برائی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید نے جن
اخلاقی خرابیوں کی سخت الفاظ میں مذمت فرمائی ہے، ان میں خیانت ایک نہایت قبیح،
ناپسندیدہ اور ہلاکت خیز گناہ ہے۔ خیانت کے معنی ہیں امانت میں بددیانتی کرنا، کسی
کے اعتماد کو توڑنا، حق کو دبانا یا ذمہ داری کو پورا نہ کرنا۔ اسلام میں خیانت کو
ایمان کے منافی عمل قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو واضح الفاظ میں
ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو حالانکہ
تم جانتے ہو۔(سورۃ الانفال: 27)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خیانت صرف لوگوں کے
حقوق میں ہی نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی نافرمانی بھی خیانت کے
زمرے میں آتی ہے۔ جو شخص نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض میں کوتاہی کرتا ہے، وہ
بھی ایک قسم کی خیانت کا مرتکب ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی امانتیں ہیں۔
مزید اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنزالایمان: بے شک
اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء: 107)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ خیانت کرنے والا
اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور اللہ کی محبت سے محرومی سب سے بڑی
بدقسمتی ہے۔
قرآنِ کریم میں جگہ جگہ
امانت داری کی تعریف اور خیانت کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ
وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ﴾ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور وعدوں کی حفاظت کرنے
والے ہیں۔(سورۃ المؤمنون: 8)
اس آیت میں امانت داری کو مومن کی نمایاں صفت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے
معلوم ہوا کہ سچا مسلمان وہی ہے جو امانتوں اور وعدوں کی حفاظت کرے، جبکہ خیانت ایمان
کی کمزوری اور نفاق کی علامت ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ
اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا﴾
ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق
داروں کو پہنچاؤ۔(سورۃ النساء: 58)
خیانت خواہ مال میں ہو، راز میں ہو، عہد و وعدے میں ہو یا
کسی ذمہ داری اور منصب میں، ہر صورت میں سخت گناہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ خیانت
معاشرے میں بداعتمادی کو جنم دیتی ہے، تعلقات کو کمزور کرتی ہے اور امن و سکون کو
تباہ کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کے لیے دیانت
داری کو لازم قرار دیا ہے۔قرآنِ مجید ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ دیانت داری دنیا میں
عزت، اعتماد اور سکون کا باعث ہے، جبکہ خیانت رسوائی، ذلت اور آخرت میں سخت عذاب
کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر حال میں خیانت سے بچے اور امانت
داری کو اپنی زندگی کا شعار بنائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے مہلک گناہ سے محفوظ
فرمائے اور ہمیں کامل امانت دار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہِ النبیِ الکریم۔
Dawateislami