خیانت کرنا ظاہری اور باطنی اعتبار سے مہلک ہے کیونکہ یہ
بندہ کو الله اور اس کی رسول ﷺ کی بارگاہ
اور لوگوں کے نزدیک رسوا کر دیتی ہےخیانت کی تاثیر یہ ہے کہ جو قوم امانت میں خیانت
کرنے لگے گی تو وہ قوم اپنے دشمنوں سے خائف ،ڈرپوک اور بزدل ہوجائے گی ۔خیانت کئی
قسم کی ہوتی ہےآنکھ کی خیانت دل کی خیانت اور جسم کے کئی اعضاء سے خیانت کرنا۔ لفظی
اعتبار سے خان یخون سے نکلا ہے جس کا معنی ہے خیانت کرنا غبن کرنا کمی کرنا بے ایمانی
کرنا ، کسی کے اعتماد کو توڑنا ۔
آنکھوں اور دلوں کی خیانت:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی
الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(مومن:۱۹)
آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں
میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ
دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، مؤمن، تحت
الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
خیانت
پرانا مرض ہے جو پہلے کی قوموں میں بھی پایا جاتا تھا :جس کے
بارے اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:
وَ
لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُم ترجمہ
کنز الایمان: اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے سوا تھوڑوں کے ۔(المائدۃ:13)
سرورِ عالم ﷺ کو
فرمایا گیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہمیشہ ان
لوگوں کی خیانتوں پر مطلع ہوتے رہیں گے کیونکہ دغابازی، خیانت ،عہد توڑنا اور
رسولوں کے ساتھ بدعہدی اُن کی اور اُن کے آباء و اجداد کی قدیم عادت ہے۔ ہاں ان میں
سے جو ایمان لانے والوں کی تھوڑی سی تعداد ہے یہ خائن نہیں ہیں اور ان لوگوں سے جو
کچھ پہلے سرزد ہوا اس پر گرفت نہ کرو۔ (بیضاوی، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۳، ۲ / ۳۰۶)
خیانت
کرنے والا کا حال قیامت کے روز بدحال :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی
کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے
گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا
جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت
کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی
خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ظاہری اور باطنی خیانتوں
سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین بجاہ الخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Dawateislami