محمد
خزیمہ مغل (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان عثمان غنی ، کراچی، پاکستان)
اسلام نے ہر طرح کی خیانت سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے،
چاہے وہ مالی امانت ہو، عہد و پیمان ہو، یا اللہ کی طرف سے دی گئی ذمہ داری ہو۔
قرآنِ کریم خدا کا روشن پیغام ہے جو ہمیں راستبازی، امانت و وفاداری کی طرف بلاتا
ہے اور ہر برائی، خاص طور پر خیانت کی سخت مذمت کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں واضح حکم دیا:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
یہ آیت صرف ایک عام اخلاقی اصول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا
صریح حکم ہے۔ اس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ایمان والو! تمہاری سب سے بڑی
ذمہ داری یہ ہے کہ تم وہ امانتیں واپس لو جو تمہیں سونپی گئی ہیں چاہے وہ دنیاوی
ہوں یا آخرت سے متعلق اور ان میں خیانت نہ کرو۔
امانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ محض مال و دولت ہی امانت نہیں
بلکہ ہر عہد، وعدہ اور ذمہ داری بھی امانت ہے۔ اگر انسان اپنے کاروبار میں بھروسہ
توڑ دے، کسی کا حق نہ دے، یا اپنے قول و فعل میں منافقت برتے، تو وہ خیانت کا
مرتکب ہوا۔ ایسے لوگ نہ صرف دنیا میں دوسروں کے حقوق پامال کرتے ہیں بلکہ آخرت میں
بھی بڑے عذاب کے مستحق ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ امانتوں کی واپسی ہر
مسلمان کا فرض ہے:
"إِنَّ
اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰى اَهْلِهَا اور
کنزِ الایمان میں اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے: "بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں اُن کے حق داروں کے حوالے کرو۔"
یہ حکم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امانت صرف مال کی چیز نہیں
ہے بلکہ اعتماد، تعلقات، کردار، اور ہر وہ چیز جو دوسروں پر واجب ہے، سب امانت ہیں۔
ان میں خیانت انسان کو گناہگار بناتی ہے اور ایمان کی حقیقت کو زنگ لگاتی ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے کو مضبوط، باوقار اور اخلاقی معیاروں
پر قائم دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں خیانت کے ہر روپ چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا سے
بچنا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں، نوجوانوں، اور معاشرے کے ہر فرد میں امانت
و وفاداری کا جذبہ پیدا کریں، اور خود بھی اس پر عمل پیرا رہیں۔
قرآن کی یہی تعلیم ہے کہ امانت کو سنبھالو، وعدوں کی
پاسداری کرو، اور ہر قسم کی خیانت سے بچو۔ یہی وہ راہ ہے جو انسان کو دنیا و آخرت
میں عزت و تقویٰ عطا کرتی ہے۔
اللہ ہمیں اپنے احکام کی درست سمجھ اور عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے، تا کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیابی کے لائق بن سکیں آمین۔
Dawateislami