محمد
جمیل عطاری ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
خیانت کی تعریف :لغوی معنی: امانت میں
بددیانتی کرنا، یعنی کسی کے اعتماد یا امانت کو ضائع کرنا، یا اس میں حق تلفی
کرنا۔اصطلاحی تعریف:ایسا کام جس میں کسی کی امانت، حق یا اعتماد کو توڑا جائے، یا
جان بوجھ کر دھوکہ دیا جائے، وہ خیانت ہے۔ اب ہم قرآن وحدیث سے خیانت کے بارے کچھ
جانتے ہیں :
(1) امانتوں میں دانستہ خیانت :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9
،سورۃانفال ،آیت نمبر 27)
(2) خیانت نہ کی :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف ،آیت نمبر 52)
ذٰلِكَ:یہ۔
بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں
نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی
طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس
کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ
تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25) اس سے معلوم ہوا کہ
جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔
اَخلاقی خیانت
مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی
خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک
قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے ۔
آنکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے
اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (سورۃ المؤمن، آیت نمبر 19)
اخلاقی خیانت
کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول
کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی
حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص
مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس کے گھر بار کی دیکھ
بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا
جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، اب (اس مجاہد کے نیکیاں
لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء
المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص1015، الحدیث: 139(1897)
حضرت فُضالہ
بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا، (اور انہیں حساب کتاب کے بغیر
ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، ان میں سے ایک) وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس
موجود نہ تھا اور اس (کے شوہر) نے اس کی دنیوی ضروریات (جیسے نان نفقہ وغیرہ) پوری
کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع
وغیرہ، ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، 3 / 18، الحدیث: 4)
(3)خیانت میں ڈالتے ہیں :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
(4) اعمال کا پورا پورا بدلہ :وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:۱۶۱)
اور حضور پر نورص ﷺ کے ان ارشادات پر
غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں ۔
خائن کی
پردہ پوشی: چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی
کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی
من غلّ، 3 / 93، الحدیث: 2716)
یہ
بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں مطلقاً خیانت اور
اخلاقی خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے اور اخلاقی طور پر بھی امانت دار بننے کی توفیق
عطا فرمائے،اٰمین۔
یاسر
علی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان )
خیانت کی تعریف:خیانت عربی لفظ خَانَ یَخُونُ سے ماخوذ ہے، جس کا بنیادی
معنی ہے:کسی امانت، ذمہ داری یا اعتماد میں کمی کرنا، اسے ضائع کرنا، یا اس کے
ساتھ دھوکا کرنا۔ اصطلاح میں خیانت سے مراد یہ ہے:کوئی شخص وہ حق ادا نہ کرے جو اس
کے سپرد کیا گیا ہوخواہ وہ مال ہو، راز ہو، وعدہ ہو، عہد ہو، منصب ہو یا کوئی ذمہ
داری۔معاشرہ اعتماد اور امانت داری پر قائم رہتا ہے، اور جب خیانت پھیل جاتی ہے تو
فرد اور قوم دونوں تباہ ہونے لگتے ہیں۔ اسلام نے کردار کی پاکیزگی اور امانت کی
ادائیگی پر زور دیتے ہوئے خیانت کو سختی سے منع کیا ہے۔ قرآنِ کریم نے خیانت کرنے
والوں کو اللہ کی ناپسندیدگی، دنیاوی بداعتمادی اور آخرت کی سزا کا مستحق قرار دیا
ہے۔ اس لیے ایک مضبوط، دیانت دار اور پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے خیانت کی
قرآنی مذمت کو سمجھنا اور اس سے بچنا ضروری ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ
خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد
ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے
والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت58)
(2)خیانت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف بغاوت ہے:اللہ
تعالیٰ ایمان والوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الأنفال، آیت27)
اس آیت میں امانت میں خیانت کرنے کو اللہ اور رسول سے خیانت
کے برابر قرار دیا گیا ہے، جو اس گناہ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
(3) خیانت قیامت کے دن رسوائی کا سبب بنے گی:قیامت
کے دن ہر انسان سے اس کی امانتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد
ہے:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی
نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت
کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم
نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران، آیت161)
تصور کیجیے! ایک انسان پوری دنیا کے سامنے اس مال یا چیز
کے ساتھ شرمندہ کھڑا ہوگا جس میں اس نے دنیا میں خیانت کی تھی۔ یہ کتنی بڑی رسوائی
ہے!
(4)خیانت عدل اور اعتماد کو تباہ کرتی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ
اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ
اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن
کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ
فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا
،دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ النساء ، آیت58)
خیانت کی تباہ کاریاں:خیانت
محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایسا گہرا زہر ہے جو فرد، خاندان، معاشرے اور پوری
ریاست کو برباد کر دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس کی سخت مذمت اسی لیے کی گئی ہے کہ
اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔
(1)معاشرتی اعتماد کا خاتمہ:معاشرہ
اعتماد پر چلتا ہے۔جب لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کھو دیتے ہیں، تو ہر رشتہ کمزور ہو
جاتا ہےچاہے وہ کاروباری رشتہ ہو، خاندانی ہو یا حکومتی۔خیانت اعتماد کی جڑ کاٹ دیتی
ہے۔
(2) دل اور کردار کی تباہی:خیانت
انسان کے دل کو سخت کر دیتی ہے۔اس کے اندر نفاق، جھوٹ، دھوکا
اور بددیانتی پیدا ہو جاتی ہے۔ایسا شخص نیکی کے راستے سے
دور ہو جاتا ہے۔
(3) معاشی زوال:مالی خیانت، رشوت اور
بدعنوانی قوموں کی معیشت برباد کر دیتی ہے۔کاروبار میں جھوٹ اور دھوکا عام ہو جائے
تو تجارت، مارکیٹ، اور ادارے سب کمزور پڑ جاتے ہیں۔
(4) انصاف کا خاتمہ:جب ذمہ
داری والے لوگ خیانت کریں تو عدل ختم ہو جاتا ہے۔فیصلے ذاتی فائدے یا سفارش کی بنیاد
پر ہونے لگتے ہیں، اور غریب و کمزور طبقہ مظالم کا شکار ہوتا ہے۔
(5) قوموں کی بربادی:قرآن
نے کئی قوموں کی ہلاکت کی وجہ ان کی خیانت، بددیانتی اور رسولوں سے دھوکا بتائی
ہے۔جب خیانت عام ہو جائے تو اللہ کی مدد بھی قوم کو نہیں ملتی۔
(6) گھروں اور رشتوں میں فساد:راز کی
خیانت، وعدہ خلافی اور بے وفائی گھروں میں جھگڑے، نفرت اور جدائی کا باعث بنتی ہے۔خاندان
کا نظام اعتماد کے بغیر نہیں چل سکتا۔
اسلام ہمیں خیانت سے کیسے بچاتا ہے؟اسلام
ایک ایسا مکمل نظامِ حیات ہے جو فرد کو اندر سے بھی پاک کرتا ہے اور معاشرے کو
باہر سے بھی مضبوط بناتا ہے۔ خیانت چونکہ ایک تباہ کن اخلاقی برائی ہے، اس لیے
اسلام نے اس سے بچانے کے لیے واضح ہدایات، عملی طریقے اور اخلاقی اصول مقرر کیے ہیں۔
سخت وعیدیں اور
نتائج کی وضاحت:قرآن و حدیث میں خیانت پر سخت عذاب، رسوائی اور اللہ کی ناراضی کا
اعلان کیا گیا ہے۔یہ وعیدیں انسان کو ڈرا کر خیانت سے روک دیتی ہیں۔
. خوفِ خدا اور تقویٰ:اسلام
کے مطابق خیانت سے بچنے کی سب سے مضبوط دیوار تقویٰ ہے۔
جب انسان محسوس کرتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے،اللہ حساب
لے گا،اللہ دل کے راز جانتا ہے،تو وہ خیانت سے بچ جاتا ہے۔
قرآن کی روشنی میں خیانت محض ایک اخلاقی خرابی نہیں بلکہ
ایسا گناہ ہے جو فرد، خاندان، قوم اور پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔اسلام انسان
کو نہ صرف خیانت سے روکتا ہے بلکہ اس کے مقابلے میں اعلیٰ ترین کردار یعنی امانت
داری، دیانت، سچائی اور انصاف کی دعوت دیتا ہے۔مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ امانت
دار، بااعتماد اور دیانتدار ہو، اور ہر صورت میں خیانت سے دور رہے۔کیونکہ اللہ کا
قرب انہی لوگوں کے لیے ہے جو پاک دل اور صاف کردار کے مالک ہوں۔اے اللہ! ہمارے
دلوں میں تقویٰ، خوفِ خدا اور امانت داری پیدا فرما۔ہمیں وہ لوگ بنا جو تنہائی میں
بھی تیری نافرمانی نہ کریں، نہ کسی کی امانت میں خیانت کریں۔
اے اللہ! ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے
اور ہمیں صادق اور امین بنادے ۔ ہمارے معاملات میں آسانی فرما، ہمارے دلوں کو درست
فرما اور ہمارے کردار کو پاک فرما۔اے اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں رسوائی سے بچا،
اور اپنی رحمت، برکت اور حفاظت سے نواز۔آمین یا ربّ العالمین۔
آصف
شوکت علی( درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
(2) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)
(3) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے
محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر
اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (انفال:71)
(4) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی
طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی
بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل
عمران:161)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر پہلو سے خیر،
دیانت اور امانت داری کی تلقین کرتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح
کے لیے واضح ہدایات فراہم کرتا ہے، جن میں خیانت کی شدید مذمت بھی شامل ہے۔ خیانت،
چاہے مال میں ہو، راز میں ہو یا ذمہ داریوں میں، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور
معاشرے میں بداعتمادی، انتشار اور بے سکونی کو جنم دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف
مقامات پر خائن (خیانت کرنے والے) افراد کے لیے وعید بیان کی ہے اور مومنوں کو
خبردار کیا ہے کہ وہ امانتوں میں خیانت نہ کریں۔ یہ ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جو
انسان کی نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور اسے معاشرتی و اخروی نقصان میں مبتلا کر دیتا
ہے۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ص ﷺ نے
بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے
تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا
کہ اب تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ص ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی
بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی
رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال، اہل و
اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی
اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر
تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ص ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو
ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی
بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ص ﷺ
سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ
رسالت ص ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ص ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات
منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے
فیصلہ کو منظور کریں۔
اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ص ﷺ
نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے
رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ
منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو
گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے
قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ
عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ص ﷺ کی خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت
ص ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے
اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ
پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان
کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور
پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور ص ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ
میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو
میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات
روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ
تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے
اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ
کریم ص ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے اُنہیں
اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض
کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ
خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد ِ عالم ص ﷺ نے
فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر
بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل،
تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ اپنی
قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔
(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں
دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے
آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا
عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے
عَہد کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے
اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار
بندہ بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت
میں مبتلا ہو گئے۔ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے
بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت
الآیۃ: ۷۱، ۳ / ۱۲۳، روح البیان، الانفال، تحت
الآیۃ: ۷۱، ۳ / ۳۷۶، تفسیر کبیر، الانفال، تحت
الآیۃ: ۷۱، ۵ / ۵۱۴، ملتقطاً)
قرآن مجید کی
روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ خیانت نہ صرف گناہ ہے بلکہ ایمان کے منافی عمل
بھی ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر امانت کو اس کے حق دار تک پہنچائے اور کبھی
بھی دھوکہ یا خیانت کا سوچے بھی نہیں۔ اگر معاشرہ خیانت سے پاک ہو جائے تو عدل،
امن اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر
عمل کرتے ہوئے اپنی ذات کو خیانت سے پاک رکھیں اور دوسروں کے لیے مثال بنے۔ اللہ
تعالیٰ ہمیں سچائی، دیانت داری اور امانت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے، آمین۔
محمد
حسن اعوان (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد، کراچی، پاکستان)
خیانت کی تعریف :خیانت کا لغوی معنی
دھوکہ دہی، بے ایمانی، غبن، بددیانتی
ہے ۔اصطلاح شرع میں اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت
میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ہرمسلمان پر امانت
داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵،١٧٦)
خیانت کی مذمت میں قران پاک میں کئی آیات کریمہ وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
اس آیت مبارکہ سے ان لوگوں کو درس عبرت حاصل کرنا چاہیے جو باطل کا ساتھ دے کر کسی بے قصور کا حق مارتے ہیں۔دوسروں کے مالوں پر قبضہ کرنے کے لیے وکیل بناتے
ہیں تاکہ کہ دوسرے کے خلاف جھوٹے ثبوت بنوا کر
اس کے مال پر قبضہ کر لے ۔الامان و الحفیظ ۔ مزید ارشاد
فرمایا:
-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (ال عمران:۱٦١)
احادیث کریمہ میں بھی خیانت کی مذمت آئی ہے۔ اس ضمن میں چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں۔
چنانچہ
حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ
پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی
کی طرح ہے۔
(ابو داؤد،
کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، ۳ / ۹۳، الحدیث:
۲۷۱۶)
رسولُ اللہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: منافق کی
تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ
کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس
امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
(بخارى ، 1
/24، حدیث: 33 )
حضرت
انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی
وقار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو امانتدار
نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی
پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔
(مسند امام
احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)
آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو خیانت سے اور ہر قسم کے ظاہری و باطنی امراض سے محفوظ فرمائے امین بجاہ النبی الکریم وما علینا الا البلاغ
المبین۔
جس طرح ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کو دوسرے انسان
کے حقوق و فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں اسی طرح قرض ہو دین ہو یا ودیعت ہو امانت ہو اس
کا بھی انسان کو خیال رکھنا چاہیے خواہ وہ کسی طرح کی امانت ہی کیوں نہ ہو۔ آیے ہم
قران پاک سے 5 آیات مبارکہ کہ جن میں خیانت کی مذمت وارد ہوئی ہے وہ ملاحظہ کرتے
ہیں:
(1) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ
خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان:
اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک
دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)
(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)
تفسیر صراط الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ:
اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا
ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی
کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ص ﷺ نے
اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔
(3) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ
جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔(المؤمن:19)
تفسیر صراط الجنان:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت
کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے
حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن
انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(4) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں
دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے
آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا
عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے
عَہد کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے
اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار
بندہ بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت
میں مبتلا ہو گئے۔ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے
بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئے۔
(5) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ﳐ
ترجمہ کنز الایمان:
اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ:
اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا
کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ ان قرآنی آیات
مبارکہ میں خیانت کی مذمت کے بارے میں پڑھا اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے اور خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی
اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی معاشرے کے لیے امانت
داری، دیانت اور انصاف کو بنیادی و اخلاقی اصول مانتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت کی
سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ خیانت نہ صرف حقوق العباد کی پامالی ہے بلکہ یہ معاشرتی
نظام، باہمی اعتماد اور انسانی تعلقات کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ اسلام میں امانت کی
حفاظت کو ایمان کا حصہ سمجھا گیا ہے اور خیانت کو ایک قبیح فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہ
نہ صرف انسان کے کردار کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے ایمان اور ذمہ داری کی روح کے
بھی خلاف ہے۔قرآنِ کریم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے
والوں کو پسند نہیں کرتا اور قیامت کے دن ان کا سخت حساب لیا جائے گا۔ اس لیے ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں دیانت داری اختیار کرے اور ہر قسم کی خیانت
چاہے وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ سے بچتا رہے اسی بارے میں چند آیاتِ کریمہ
ملاحظہ فرمائیں:
(1) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
(3) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت 161)
قرآن کی ان آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک
اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ یہ ایک بڑا گناہ اور معاشرتی فساد کا بنیادی سبب ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے مومن کی پہچان امانت داری پر رکھی ہے اور خائنوں کو اپنی رحمت سے دور
فرمایا ہے۔ جب کوئی معاشرہ دیانت داری کو اپناتا ہے تو اس کے اندر اعتماد، امن اور
انصاف کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ دوسری طرف، خیانت عام ہونے سے انتشار، بے اعتمادی
اور ظلم بڑھتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے قول و فعل، لین دین،
معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی اور امانت کو ملحوظ رکھے اور خیانت سے دور رہے۔
اس طرح وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ جو کچھ ہم نے پڑھا اور سیکھا، اُس
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو امانت و دیانت سے مزین
فرمائے۔ آمین، بجاہِ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
زین
العابدین شبیر احمد( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور،پاکستان)
اجازت شریعہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت
کہلاتا ہے ہر مسلمان پر ایمانداری واجب اور خیانت کرنا حرام ہے اور جہنم میں لے
جانے والا کام ہے اللہ تبارک و تعالی نے قران پاک میں کئی جگہ پر خیانت کے مذمت
فرمائی ہے آئیے ہم بھی خیانت کی مذمت پر پانچ قرآنی آیات پڑھتے اور خیانت سے
بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
(1) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے
محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر
اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (پارہ 10 آیت
نمبر 71 سورۃ الانفال)
(2) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی
طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی
بڑے دغا باز گنہگار کو۔(پارہ 5 سورۃ النساء آیت نمبر 107)
(3) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 12 سورۃ الیوسف آیت نمبر 52)
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔
(پارہ 9 سورۃ انفال ایت نمبر 27 )
(5) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (پارہ 4 سورۃ آل عمران ایت نمبر 161)
خیانت کا ایک سبب بد نیتی ہے جس طرح اچھی نیت شفا کا
درجہ رکھتی ہے اسی طرح بد نیتی کا زہر بندے کے اعمال کو بے ثمر بلکہ تباہ و برباد
کر دیتا ہے اس کا علاج ہے کہ بندہ اپنی نیت کو درست رکھے۔ اللہ تعالی خیانت سے
بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ
تعالی علیہ وسلم۔
احمد
مرتضیٰ عطاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے
اور امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے۔بلا اجازتِ شرعی کسی کی امانت میں ناجائز
تصرف کرنامطلقا خیانت کی تعریف تو ہے لیکن خیانت کی مختلف صورتیں ہیں خیانت صرف
مال یا چیزوں میں نہیں، بلکہ وعدے، باتوں، تعلقات اور رازوں میں بھی ہو سکتی ہے۔
حدیث میں خیانت کو منافق کی علامت کہا گیا ہے، اور مومن کی شان اس سے پاک ہوتی ہے۔
اور قرآن میں بھی خیانت کی مختلف صورتوں کی مذمت متعدد مقامات پر کی گئی ہے ان میں
سے کچھ آیتیں بیان کی جارہی ہیں لہذا اللہ تعالی کے ان فرامین پر غور کریں اور
عبرت حاصل کرتے ہوئے اس باطنی بیماری سے خود کو بچائیں۔
(1)اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت نہ کرو:اللہ
تعالی ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (پارہ 9 سورة الانفال آیت 27)
تفسیر خازن میں ہے: کہ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت
کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال،
تحت الآیۃ: 27، ج 2 / ص190)
(2)خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:اسلام
میں تو خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے میں بھی مذمت آئی ہے تو پھر خود خیانت کرنا
کتنا برا ہے اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ 5 سورة النساء آیت 107)
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ
بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن
وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی
طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا
حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔(صراط الجنان سورة
النساء تحت آیت 107)
(3)خیانت کرنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا:خیانت
کے بُرا ہونے اور اس سے بچنے کےلیے یہی بات کافی ہونی چاہئے کہ اللہ پاک خیانت
کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ فرمان باری تعالی ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷ ترجمہ
کنزالعرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار
ہو۔(پارہ 5 سورة النساء آیت 107)
(4)اخلاقی خیانت کی مذمت:وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں
چلنے دیتا۔(پارہ 12 سورۃ یوسف آیت 52)
اس سے معلوم ہوا اخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس
سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک
کو اختیار کرنا چاہئے ، جیسے آنکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ
جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (پارہ 24 سورہ مومن: آیت
19)
اللہ تعالیٰ
ہمیں ہر قسم کی خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے اور امانت دار بننے کی توفیق عطا
فرمائے،اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
محمد
محسن اقبال رضوی عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
پنڈی گھیب ضلع اٹک،پاکستان)
خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے کردار، ایمان
اور معاشرے کے اعتماد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے جگہ جگہ اس عمل کی شدید
مذمت بیان فرمائی اور ہر مسلمان کو اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام میں امانت داری
کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔اس کے بغیر ایک صالح اور مضبوط معاشرہ قائم نہیں
ہو سکتا۔اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی لاریب کتاب میں ایک جامع حکم دیتے ہوئے فرماتا
ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ ترجمہ کنز الایمان: بے شک
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔ (
سورۃ النساء، آیت 58، پارہ 5)
امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو
مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے۔ البتہ
اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں
داخل ہیں۔
جیسے
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم
مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت
کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام
مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورۃ الأنفال، آیت 27، پارہ 9)
حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’
منافق کی تین نشانیاں ہیں (1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔
(3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے ۔ (بخاری،کتاب الایمان، باب علامۃ
المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث
۳۳)
اللہ کریم نے فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے
دو وصف بیان کئے :وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ
رٰعُوْنَۙ(۸)ترجمۂ
کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور
اپنے عہد کی رعایت کرتے ہی۔( سورۃ المؤمنون آیت 8،پارہ 18)
اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو
وصف بیان کیے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت
نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا
مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۶۹،
خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸،
۳ / ۳۲۱، ملتقطاً)
حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ان میں سے ایک
چیز یہ ہے کہ تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو۔ ( مستدرک، کتاب الحدود، ستّ یدخل
بہا الرجل الجنّۃ، ۵ / ۵۱۳، الحدیث:
۸۱۳۰)
محمد یوسف
قریشی(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد، کورنگی ،کراچی،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد امانت، دیانت اور وفاداری پر
قائم ہوتی ہے۔ اگر ان صفات کی جگہ خیانت، دھوکہ اور بددیانتی آ جائے تو نہ صرف
افراد کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے بلکہ پورا معاشرہ بگاڑ اور فساد کا شکار ہو
جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے ساتھ خیانت کو پسند نہیں کرتا، اسی لیے اسلام نے خیانت
کو ایک بڑا گناہ قرار دیا ہے اور قرآنِ مجید میں اس کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔قرآنِ
پاک ہمیں بتاتا ہے کہ خیانت صرف لوگوں کے مال یا امانت میں نہیں ہوتی بلکہ اللہ
اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی بھی خیانت کے زمرے میں آتی ہے۔ اس لیے ہر
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر طرح کی خیانت سے بچے۔
(1) اللہ اور رسول ﷺ کی خیانت سے ممانعت:اللہ
تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ
وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( الانفال: 27)اس آیت سے معلوم ہوا کہ
اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر مومنوں کو ہر قسم کی خیانت سے منع فرمایا ہے، چاہے وہ
دینی امانت ہو یا دنیاوی۔ جان بوجھ کر خیانت کرنا سخت گناہ ہے۔
(2) خیانت کرنے والوں سے اللہ کی ناراضی:اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(الانفال:
58)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت کرنے والا اللہ تعالیٰ
کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے، اور اللہ کی ناراضی سب سے بڑا نقصان ہے۔
(3) خیانت دراصل اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے:قرآنِ
مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی
جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔
(النساء: 107)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص خیانت کرتا ہے وہ حقیقت
میں دوسروں کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
(4) امانت داری مومن کی صفت ہے:اللہ
تعالیٰ مؤمنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ
عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ترجمہ کنز الایمان اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی
رعایت کرتے ہیں ۔(المؤمنون: 8)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ امانت داری اور وعدے کی پاسداری
ایمان کی علامت ہے، اور خیانت ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔
ان تمام آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآنِ پاک میں خیانت
کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ خیانت اللہ تعالیٰ کی ناراضی، معاشرتی بگاڑ اور آخرت کی
ناکامی کا سبب ہے، جبکہ امانت داری، دیانت اور وفاداری ایمان کی علامت اور معاشرے
کی ترقی کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں خیانت سے
بچیں اور امانت دار بن کر ایک پُرامن اور صالح معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا
کریں۔
زین
العابدین(درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
خیانت عربی لفظ "خانَ یخونُ"سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں:امانت میں کمی
کرنا، بددیانتی کرنا، اعتماد کے خلاف عمل کرنا، دھوکا دینا۔ شرعی اصطلاح میں خیانت
سے مراد یہ ہے کہ:کسی شخص کے سپرد کی گئی امانت، ذمہ داری یا حق کو جان بوجھ کر اس
کے مقررہ تقاضوں کے خلاف استعمال کرنا یا ادا نہ کرنا، خواہ وہ مال ہو، راز ہو،
عہدہ ہو یا کوئی اور ذمہ داری قرآنِ مجید نے خیانت کو نہایت سنگین گناہ قرار دیا
ہے اور اہلِ ایمان کو ہر قسم کی خیانت سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ خیانت دراصل
امانت کی ضد ہے، اور امانت داری ایمان کی علامت ہے۔ اسی لیے قرآن میں خیانت کو
اللہ اور نبی پاک علیہ السلام کے ساتھ بے وفائی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
(1)اللہ پاک اور اس کے رسول سے خیانت کرنا:اللہ
پاک قرآن میں ارشاد فرماتا:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (الانفال(27)
لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ )
(2)خیانت کرنے والے اللہ پاک نہ پسندہیں:اللہ
پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان:بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)
اس آیت میں بتایا جارہا ہے جو لوگ خیانت کرتے وہ اللہ
پاک نہ پسند ہے ۔
(3)خیانت کر نے والوں کی چال نہ کام :اللہ
پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے:
وَ
اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
تر
جمہ کنزالایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:38)
اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ پاک خیانت کرنے
والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ہے ان کے مکر کو نہ کام کر دیتا ہے۔
اس آیت میں اللہ پاک فرما رہا ہے کہ جن کے پاس کسی کی امانت ہو اسے
اس کے حق دار تک پہنچا دے ۔
ان آیاتِ کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی
برائی نہیں بلکہ ایک بڑا دینی جرم ہے، جو انسان کو اللہ کی ناراضی اور معاشرتی
فساد کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنِ مجید نے امانت کی ادائیگی اور وعدوں کی پاسداری کو
ایمان کا تقاضا قرار دے کر مسلمانوں کو ایک پاکیزہ اور بااعتماد معاشرہ قائم کرنے
کی تعلیم دی ہے۔
Dawateislami