محمد
حسن اعوان (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد، کراچی، پاکستان)
خیانت کی تعریف :خیانت کا لغوی معنی
دھوکہ دہی، بے ایمانی، غبن، بددیانتی
ہے ۔اصطلاح شرع میں اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت
میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ہرمسلمان پر امانت
داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵،١٧٦)
خیانت کی مذمت میں قران پاک میں کئی آیات کریمہ وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
اس آیت مبارکہ سے ان لوگوں کو درس عبرت حاصل کرنا چاہیے جو باطل کا ساتھ دے کر کسی بے قصور کا حق مارتے ہیں۔دوسروں کے مالوں پر قبضہ کرنے کے لیے وکیل بناتے
ہیں تاکہ کہ دوسرے کے خلاف جھوٹے ثبوت بنوا کر
اس کے مال پر قبضہ کر لے ۔الامان و الحفیظ ۔ مزید ارشاد
فرمایا:
-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (ال عمران:۱٦١)
احادیث کریمہ میں بھی خیانت کی مذمت آئی ہے۔ اس ضمن میں چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں۔
چنانچہ
حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ
پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی
کی طرح ہے۔
(ابو داؤد،
کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، ۳ / ۹۳، الحدیث:
۲۷۱۶)
رسولُ اللہ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: منافق کی
تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ
کرے تو وعدہ خلافی کرے(اور) جب اس کے پاس
امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
(بخارى ، 1
/24، حدیث: 33 )
حضرت
انس رضی اللہُ عنہ سے روایت ہےکہ سرکارِ عالی
وقار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو امانتدار
نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی
پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔
(مسند امام
احمد، 8 / 276، حدیث: 22232)
آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو خیانت سے اور ہر قسم کے ظاہری و باطنی امراض سے محفوظ فرمائے امین بجاہ النبی الکریم وما علینا الا البلاغ
المبین۔
Dawateislami