اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی معاشرے کے لیے امانت داری، دیانت اور انصاف کو بنیادی و اخلاقی اصول مانتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ خیانت نہ صرف حقوق العباد کی پامالی ہے بلکہ یہ معاشرتی نظام، باہمی اعتماد اور انسانی تعلقات کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ اسلام میں امانت کی حفاظت کو ایمان کا حصہ سمجھا گیا ہے اور خیانت کو ایک قبیح فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف انسان کے کردار کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے ایمان اور ذمہ داری کی روح کے بھی خلاف ہے۔قرآنِ کریم میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور قیامت کے دن ان کا سخت حساب لیا جائے گا۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں دیانت داری اختیار کرے اور ہر قسم کی خیانت چاہے وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ سے بچتا رہے               اسی بارے میں چند آیاتِ کریمہ ملاحظہ فرمائیں:

(1) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)

(3) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت 161)

قرآن کی ان آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ یہ ایک بڑا گناہ اور معاشرتی فساد کا بنیادی سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی پہچان امانت داری پر رکھی ہے اور خائنوں کو اپنی رحمت سے دور فرمایا ہے۔ جب کوئی معاشرہ دیانت داری کو اپناتا ہے تو اس کے اندر اعتماد، امن اور انصاف کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ دوسری طرف، خیانت عام ہونے سے انتشار، بے اعتمادی اور ظلم بڑھتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے قول و فعل، لین دین، معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی اور امانت کو ملحوظ رکھے اور خیانت سے دور رہے۔ اس طرح وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ جو کچھ ہم نے پڑھا اور سیکھا، اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو امانت و دیانت سے مزین فرمائے۔ آمین، بجاہِ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم