رضوان
علی قادری رضوی(درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ ،لاہور،پاکستان)
اسلام دینِ امانت ہے۔ یہ جس طرح عبادات کی پابندی کا حکم
دیتا ہے، اسی طرح معاملات میں امانت داری اور دیانت کے چراغ جلانے کی بھی تلقین
کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت (یعنی امانت میں کمی، دھوکا، بددیانتی) کو سخت گناہ
قرار دیتے ہوئے بارہا اس سے منع فرمایا گیا ہے۔
اللہ ربّ العزت ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
اس آیتِ مبارکہ میں دو طرح کی خیانت سے منع کیا گیا ہے:(1)اللہ
و رسول کے احکام میں خیانت: یعنی ان کے بتائے راستے سے ہٹنا، دین کو پیچھے ڈال کر
اپنی خواہشات کی پیروی کرنا۔ (2)لوگوں کی امانتوں میں خیانت :یعنی مال، ذمہ داریوں،
راز اور وعدوں کو توڑ ڈالنا۔
دعوتِ اسلامی کا پیغام ہمیشہ یہی رہا ہے کہ مسلمان ہر
حال میں دیانت شعار بنے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہم العالیہ بارہا اس بات کی
طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔خیانت صرف مال کی چوری
نہیں، بلکہ بات کی بے وفائی، ذمہ داری میں کوتاہی، وعدہ خلافی، یہاں تک کہ وقت پر
کام نہ کرنا بھی خیانت میں شامل ہو جاتا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمۂ
کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الأنفال، آیت 58)
اللہ کی ناپسندیدگی سے بڑا خوف اور کیا ہو سکتا ہے؟ ایک
ایسا کام جو انسان کو ربِّ کریم کی محبت سے محروم کر دے، اسے اختیار کرنا کیسے ممکن
ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین اور اہلِ دعوت ہمیشہ امانت داری کو ایمان کا حصہ
قرار دیتے آئے ہیں۔
ہمارا کردار کیسا ہونا چاہیے؟امانت ملے
تو اسے بہترین طریقے سے ادا کریں۔ وعدہ کریں تو پورا کریں۔کسی کا راز جانیں تو اسے
سینے میں محفوظ رکھیں۔ملازمت، تجارت، درس و تدریس ہر جگہ دیانت کو شعار بنائیں ۔
کسی پر ظلم، دھوکا یا چالبازی سے بچیں۔آخر میں، دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں خیانت سے
بچنے، سچی امانت داری اپنانے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین بجاہِ سیدِ المرسلین ﷺ۔
فاحد
علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور،پاکستان)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی
ہے جو انسان کے کرداراعتماد اور دیانت کو جڑ سے کمزور کر دیتی ہےقرآنِ کریم نے خیانت
کرنے والوں کو سخت ناپسند فرمایا اور اسے ایمان کے منافی قرار دیاہے ۔
آئیے اس کے
بارے میں کچھ قرانی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)محبوب سے دغہ چاہنا:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔(انفال:71)
(2)اللہ ورسول سے دغہ نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
(3)اللہ عزوجل کا بڑے دغہ باز کو نہ چاہنا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
(4)پیٹھ پیچھے خیانت کرنا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ
وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)
خیانت معاشرے کی بنیادیں ہلا دیتی ہے، اس لیے اسلام نے
ہر معاملے میں امانت و دیانت کی تاکید فرمائی۔ آج ہمیں چاہیئے کہ وعدوں، مالی
معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی اختیار کریں، دوسروں کا حق نہ ماریں اور ہر جگہ
انصاف کے ساتھ پاکیزہ کردار پیش کریں اللہ عزوجل سے دعا ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں انسانوں پر کئی حقوق و
فرائض کو بیان فرمایا ۔ان حقوق میں سے ایک حق یہ ہے امانت رکھوانا مسلمان کے پاس
کسی شخص کی خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم امانت رکھوائے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ
اس کی حفاظت کرے اس میں کچھ بھی کمی نہ کرے یعنی خیانت نہ کرے خیانت کرنا گناہ ہے ۔اور
یہ حقوق العباد میں سے ہے ۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں اپنے حقوق تو معاف کر
سکتا ہوں لیکن بندوں کے حقوق کومعاف نہیں کر سکتا جب تک بندہ نہ معاف کر دے آج ہم
امانت میں خیانت کرنے کے بارے میں قرانی آیات اور ان سے حاصل ہونے والی نصیحت و
عبرت پڑھتے ہیں۔
اللہ تعالی خیانت کو باخوب جانتا ہے :یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور
جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ ( المومن ٫: 19)
اللہ تعالی سے کوئی بھی خیانت چھپی نہیں ہے وہ دلوں میں
چھپی ہر بات جانتا ہے۔
خیانت کرنے والوں کے ساتھ نہ جھگڑنا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النسا٫: 107)
خیانت کرنے والوں کا نہ ساتھ دیا جائے اور نہ ان سے
جھگڑا کیا جائے۔
خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلتا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ
وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:52)
مذکورہ آیات سے معلوم ہوا کہ خیانت کوئی بھی ہو اللہ
تعالی سے نہیں چھپ سکتی اللہ تعالی خیانت کرنے والے کی خیانت سے خوب واقف ہے اور
پھر اگلی آیت سے معلوم ہوا کہ خیانت کرنے والوں کا نہ ساتھ دیا جائے نہ ان سے جھگڑا
جائے کیونکہ خائن جھوٹ بولتا ہے ،جھوٹے گواہ پیش کرتا ہے، ہر چیز میں جھوٹا ہوتا
ہے اور جھوٹ بدترین گناہ ہے اور خیانت کرنے والے کا مرض زیادہ دیر نہیں چلتا ہمیں
چاہیے کہ جب ہمارے پاس کوئی امانت ہو تو ہمیں اس میں خیانت نہیں کرنی چاہیے بلکہ
اس کی حفاظت کرنی چاہیے پھر امانت دار کو اس کی امانت صحیح سلامت واپس کر دی جائے
اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین بجاہ نبی الامین صلی
اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم
آج کے اس پر فتن دور میں جہاں دیگر گناہوں سے بچنا مشکل
سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے وہیں ایک گناہ جس کی وعیدیں قرآن و احادیث میں کثرت
سے وارد ہوئی ہیں اس سے بچنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔اور وہ گناہ خیانت ہے۔شرعی اجازت
کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب الایمان،
باب علامات المنافق، تحت الباب: ۲۴،
ج۱، ص۳۲۸)
اورہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور
جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ،الخلق الثانی و العشرون الخ،ج۱،ص۶۵۲)
اب وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں رب قہار نے خیانت کی
مذمت فرمائی ہے:
(1)اللہ و رسول سے خیانت نہ کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر
اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (پ9،الانفال،آیت نمبر 27)
فرائض چھوڑ دینا
اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا
ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ / ۱۹۰)
(2)خائن روز قیامت مال ِخیانت کے ساتھ ہو گا: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4،آل
عمران،آیت نمبر 161)
(3)خائن کی طرف سے مت جھگڑو: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے
ہیں بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔
(پ5،النساء،آیت نمبر :107)
(4)خائن الله کو ناپسند ہے:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً
فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی
طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو
پسند نہیں کرتا۔ (پ10،الانفال،یت نمبر58)
ان آیات مبارکہ کے علاوہ اور بہت سی آیات مبارکہ ہیں جن
میں خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے
کبیرہ گناہ سے بچنے اور بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم
اللہ پاک نے یہ کائنات تخلیق فرمائی اور اس میں بے شمار
انسانوں کو پیدا فرمایا اور انسانوں کے لیے بے شمار نعمتوں کو بھی پیدا فرمایا
تاکہ انسان ان نعمتوں کو استعمال میں لا کر اپنی زندگی بسر کر سکے مگر وہ انسان جو
ان نعمتوں کو استعمال تو کر رہا ہے مگر وہ اللہ پاک کا شکر ادا نہیں کر رہا یعنی
وہ انسان نہ تو پانچ وقت اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کے حبیب
صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کر رہا ہے تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ
انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی تو کر رہا ہے اور اس کے
ساتھ ساتھ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت بھی کر رہا ہے
وہ ایسے کہ وہ انسان اللہ کی نعمتوں کو استعمال بھی کر رہا ہے مگر اس کے باوجود نہ
ہی وہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم کی سنتوں پر عمل کر رہا ہے ۔ایک طرح سے وہ خیانت اس طرح بھی کر رہا ہے کہ یہ
دنیا اور یہ زندگی اللہ تعالی نے انسان کو امانت کے طور پر دی ہے یعنی انسان اس
امانت کی حفاظت اس طرح کرے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرے اور اس کے حبیب صلی
اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرے پھر وہ بندہ صحیح معنوں میں اللہ کی امانت کی
حفاظت کرے گا۔اور اسی وجہ سے اللہ پاک نے قران پاک میں جگہ جگہ بنی نو انسان کی
ہدایت کے لیے قران پاک میں فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور جگہ
جگہ خیانت کرنے والوں کی مذمت کو قران پاک میں بیان فرمایا اسی لیے میں آپ کے
سامنے وہ آیات پیش کروں گا جن میں خیانت کی مذمت موجود ہے۔
(1)اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃانفال:
27)
(2)اللہ جانتا ہے جو کچھ سینوں میں چھپا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمہ
کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (سورۃ
المومن :19)
(3)خیانت کرنے والے کی طرف سے نہ جھگڑنا: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا
یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور
ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النسا ء: 107)
ان تمام آیات سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ اللہ پاک نے ہمیں
ہر معاملے میں خیانت سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور خیانت کرنے والوں کی مذمت
کو بیان فرمایا ہے تو لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کے فرمانبرداری کرے اور اور جو زندگی اور دنیا جو ہمیں امانت کے طور پر ملی
ہے اس میں ہم خیانت نہ کریں آمین بجاہ خاتم النبیین۔
محمد
مدثر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی میں جن اقدار کا ہم کردار
ہوتا ہے ان میں سے ایک امانت و دیانت بھی ہے اس لیے ہر دور اور ہر معاشرے میں خواہ
اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور تہزیب سے ہو امانت داری کو پسند کیا گیا ہے جس کی ایک
مثال یہ ہے کہ کوئی گزشتہ قوموں کے پاس جب اللہ تعالی کے رسول۔ اللہ کے احکام
پہنچانے جاتے تو ان کے سامنے اپنی شان امانت داری کو بطور خاص بیان کرتے دین اسلام
میں امانت داری کو خاص مقام عطا کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
امانت داری کو ایمان کا ایک حصہ قرار دیا اور اپ اپنے خطبوں میں اکثر ارشاد فرماتے
ہیں۔ لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ولا
دین لمن لا عھد لہ۔ ترجمہ اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس
کا کوئی دین نہیں جو عہد پورا نہیں
آئیے خیانت کے بارے میں چند قرانی ایات مبارکہ پڑھتے ہیں۔
(1)خیانت کرنے
والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا:
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى
سَوَآءٍؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠
ترجمۂ کنز العرفان:اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔( سورۃ الانفال آیت نمبر 58)
(2) اپنی امانتوں
میں خیانت نہ کرو:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(سورۃ الانفال آیت نمبر 27)
(3)خیانت کرنے
والا بڑا گناہ گار ہے:
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا
یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا
ترجمۂ کنز العرفان:اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔( سورۃ النساء آیت نمبر 107)
(4)خیانت سے بچنا
انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کی سنت مبارکہ ہیں:
ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ
كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ
ترجمۂ کنز العرفان:یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا
تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی
اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورۃ یوسف آیت نمبر 52)
(5)اللہ پاک
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے:
یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی
الصُّدُوْرُ
ترجمۂ کنز العرفان:اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(سورۃ المؤمن آیت نمبر
19)
محمد
تیمور عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی میں جن اقدار کاا ہم کردار
ہوتا ہے ان میں سے ایک امانت و دیانت بھی ہے اس لیے ہر دور اور ہر معاشرے میں خواہ
اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور تہذیب سے ہو امانت داری کو پسند کیا گیا ہے جس کی ایک
مثال یہ ہے کہ گزشتہ قوموں کے پاس جب اللہ تعالی کے رسول احکام پہنچانے جاتے تو ان کے سامنے اپنی شان
امانت داری کو بطور خاص بیان کرتے۔ دین اسلام میں امانت داری کو خاص مقام عطا کیا
گیا۔
( 1 ) خیانت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ ( سورۃ النساء آیت نمبر 107)
( 2 ) آنکھوں کی خیانت کیا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی
الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (سورۃ
المؤمن آیت نمبر 19 )
تفسیر صراط
الجنان:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ:
اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم
عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت
کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ
ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔
( 3 ) اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 27 )
تفسیر صراط
الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
( 4 ) خیانت سے بچنا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی
سنت مبارکہ ہیں:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)ترجمہ
کنزالعرفان: یوسف نے فرمایا: یہ میں نے اس لیے کیا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں
نے اس کی عدمِ موجودگی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر
نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف آیت نمبر 52)
پیارے پیارے اسلام بھائیو !خیانت کبیرہ گناہوں میں سے
گناہ ہے اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ
فرمائے اللہ پاک ہم سب کو بھی نیکی کی
دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
محمد
حمزہ رضا عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ
ٹاؤن شپ ،لاہور ،پاکستان)
قرآنِ مجید نے خیانت ،امانت میں بے وفائی، وعدے کی خلاف
ورزی، سچائی کو چھپانا، یا حق تلفی کو سخت گناہ اور اخلاقی بگاڑ قرار دیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر خیانت کی مذمت، اس کے نتائج اور ایمان
سے اس کے تعلق کو واضح کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر
اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 57)
اللہ تعالی فرماتا ہے: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً
فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد
ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے
والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)
یعنی یہ عمل اللہ کی محبت سے محرومی کا سبب بنتا ہے،
چاہے خیانت چھوٹی ہو یا بڑی ہو۔
خیانت کے متعلق
حدیث :ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے
کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا
: ’’منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2)جب وعدہ
کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(کتاب:فیضان ریاض
الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:199)
اللہ پاک ہمیں ہر طرح کی خیانت سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے اور ہمیں دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔
خیانت ایسا گناہ ہے جو نہ صرف انسان کے کردار کو داغدار
کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتا ہے۔اسلام ایک ایسا دین ہے جو
امانت، دیانت اور سچائی پر قائم ہے، اس لیے قرآن کریم بار بار اس بُرے عمل سے
روکتا ہے۔مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے رب، رسول اور لوگوں کے حقوق میں کبھی خیانت
نہ کرے۔قرآن نے خیانت کو صرف گناہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیماری قرار دیا ہے جو
نفاق کی طرف لے جاتی ہے۔اسی لیے مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اس کے انجام اور
اس سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن
کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت
سورۃ الانفال میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(27)
ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(سورۃ الانفال، آیت 27)
یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے
ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔
خیانت کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی
صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠ترجمہ:بیشک
اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ الانفال، آیت 58)
یہ آیت بتاتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ
سخت ناراض ہوتا ہے۔
حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:سورۃ
النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى
اَهْلِهَاؙیہ آیت
حکومتی عدل، انصاف اور امانت داری کے لئے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔(سورۃ النساء،
آیت 58)
خیانت کے نتائج بہتر اور مؤثر بیان:قرآن و
سنت بتاتے ہیں کہ خیانت کا انجام نہایت تباہ کن ہے۔دنیا میں خیانت کرنے والے پر
لوگوں کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، اس کی عزت گھٹتی ہے اور معاشرے میں اس کی ساکھ
برباد ہو جاتی ہے۔ جن معاشروں میں خیانت عام ہو جائے وہاں امن، انصاف اور اعتماد
باقی نہیں رہتا، نتیجتاً انتشار، لڑائیاں اور بے اعتمادی پھیل جاتی ہے۔آخرت میں خیانت
کرنے والا اپنے کیے ہوئے ظلم اور چھپائی ہوئی چیزوں کا بوجھ خود اٹھا کر اللہ کے
سامنے حاضر ہوگا:
وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ۔(سورۃ آلِ عمران، آیت
161)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت کا بوجھ قیامت کے دن رسوائی
کا سبب بنے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔یوں قرآنِ حکیم
نے زندگی کے ہر شعبے میں امانت داری کو مومن کی پہچان بنایا ہے۔جو لوگ دیانت پر
قائم رہتے ہیں وہ اللہ کی رضا اور بندوں کا بھروسہ دونوں پاتے ہیں۔خیانت سے بچنا
دراصل اپنے کردار، ایمان اور آخرت کو محفوظ کرنے کا راستہ ہے۔مومن ہمیشہ یاد رکھتا
ہے کہ اللہ ہر نیت اور ہر عمل کو دیکھتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ہر امانت کو سچائی
اور دیانت کے ساتھ ادا کریں، یہی حقیقی ایمان کی روح ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ دین اسلام ہمیں زندگی کے
تمام تر شعبہ جات میں رہنمائی فرماتا ہے اخلاقی اور سماجی طور پر ہر وہ کام جو
معاشرے میں تباہی کا باعث بنتا ہو اسلام ہمیں اس کام سے روکتا ہے ۔ امانت میں خیانت
کرنا بھی اسی میں شامل ہوتا ہے لہٰذا اسلام ہمیں اس عمل سے بھی بچنے کا درس دیتا
ہے ۔
امانت اور خیانت کا مفہوم:لفظ
امانت ہر اُس ذمہ داری، حق، راز یا معاملے کو کہتے ہیں جو انسان کے سپرد کیا جائے
اور جس کی حفاظت اور درست ادائیگی ضروری ہو۔ اس کے برعکس خیانت اس امانت میں کوتاہی،
دھوکا، بے وفائی یا ناجائز تصرف کو کہتے ہیں۔ اسلام میں امانت صرف مالی معاملات تک
محدود نہیں، بلکہ قول و قرار، عہد، حکومتی اختیارات، علم، عدل اور حتیٰ کہ جسم و
روح تک کو امانت سمجھا گیا ہے۔
خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن
کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت
سورۃ الانفال میں ہے:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے
ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت
کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے
اس کی گرفت بھی سخت ہے۔
خیانت
کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان
کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:- اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند
نہیں کرتا۔(سورۃ الانفال، آیت 58)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جسے اللہ
کی ناپسندیدگی حاصل ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو اللہ کو پسند
ہو اور اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔
حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن
حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی
بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ
اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ
اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے
سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ
تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ
النساء، آیت 58)
یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی
معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب،
اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے
بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔
یہ آیت ہر قسم کی مالی خیانت رشوت، دھوکا، جھوٹ، جعل سازی،
کاروباری دھوکہ دہی سب کو حرام قرار دیتی ہے۔
خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی
اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد
ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ
جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
(سورۃ آلِ عمران، آیت 161)
یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی
غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔ان تمام تر آیات پر غور کی جائے تو یہی
معلوم ہوتا ہے کہ امانتوں میں خیانت کرنا معاشرے کے اندر ایک ناسور کی طرح پھیلتا
ہے اور نہایت ہی برا عمل ہے ہمیں بھی چاہیے کہ اگر ہمیں کوئی ایماندار سمجھتے ہوئے
امانت دیتا ہے تو ہم اس کو مکمل طور پر دیہان رکھتے ہوئے اور اس کو اپنا فرض
سمجھتے ہوئے اس کا خیال رکھیں ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو عمل کو توفیق عطا
فرمائے ۔
حافظ
محمد واصف رضا عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ ،لاہور،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، امانت اور دیانت پر قائم
ہے۔ جب یہ اوصاف قائم رہتے ہیں تو دلوں میں اطمینان اور معاملات میں استحکام پیدا
ہوتا ہے، اور جب انہی بنیادی اقدار میں دراڑ پڑتی ہے تو معاشرتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا
شکار ہونے لگتا ہے۔ خیانت انہی تباہ کن برائیوں میں سے ایک ہے، جس سے نہ صرف افراد
کا کردار مجروح ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے
مختلف مقامات پر خیانت کی سخت مذمت فرمائی ہے اور اہلِ ایمان کو بار بار تنبیہ کی
ہے کہ وہ امانتوں اور عہدوں کی حفاظت کریں، کیونکہ خیانت اللہ اور اس کے رسول کے
ہاں ایک نہایت سنگین جرم ہے۔قرآن کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں
مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت سورۃ الانفال میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے
ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت
کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے
اس کی گرفت بھی سخت ہے۔
خیانت کو نفاق کی
نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ
خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت
58)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس سے
اللہ کی ناپسندیدگی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو
اللہ کو پسند ہو اور اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔
حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن
حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی
بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ
اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ
اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے
سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک
اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ
النساء، آیت 58)
یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی
معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب،
اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے
بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔
خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی
اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد
ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ
جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت
161)
یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی
غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے
ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی برائی ہی نہیں بلکہ ایمان کے
منافی عمل ہے، جسے قرآنِ مجید نے مسلسل تنبیہات اور سخت وعیدات کے ساتھ منع فرمایا
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں مومنوں کی صفات میں امانت و دیانت کو بنیادی رکن قرار دیا،
وہیں خیانت کو اُن اعمال میں شامل کیا جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں۔
اس لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں سچائی، دیانت اور امانت
کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھےچاہے معاملہ مالی ہو، گھریلو ہو، سماجی ہو یا مذہبی
ذمہ داری کا۔آج کے دورِ فتن میں جب جھوٹ، دھوکہ اور بے وفائی عام ہوتے جا رہے ہیں،
قرآن کا یہ پیغام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
پس کامیابی اسی شخص کا مقدر ہے جو اپنے رب اور مخلوق دونوں کے حق میں وفادار،
امانت دار اور سچا ہو۔ یہی کردار ایک صالح فرد کی پہچان اور ایک مضبوط معاشرے کی
بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر
اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
خیانت
کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان
کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند
نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)
حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ
اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ
اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے
سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک
اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ
النساء، آیت 58)
خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی
اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد
ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ
جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ
مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت
161)الله سے دعا ہے عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
Dawateislami