فاحد
علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور،پاکستان)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!خیانت ایک ایسی اخلاقی برائی
ہے جو انسان کے کرداراعتماد اور دیانت کو جڑ سے کمزور کر دیتی ہےقرآنِ کریم نے خیانت
کرنے والوں کو سخت ناپسند فرمایا اور اسے ایمان کے منافی قرار دیاہے ۔
آئیے اس کے
بارے میں کچھ قرانی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1)محبوب سے دغہ چاہنا:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔(انفال:71)
(2)اللہ ورسول سے دغہ نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
(3)اللہ عزوجل کا بڑے دغہ باز کو نہ چاہنا:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
(4)پیٹھ پیچھے خیانت کرنا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ
وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)
خیانت معاشرے کی بنیادیں ہلا دیتی ہے، اس لیے اسلام نے
ہر معاملے میں امانت و دیانت کی تاکید فرمائی۔ آج ہمیں چاہیئے کہ وعدوں، مالی
معاملات اور ذمہ داریوں میں سچائی اختیار کریں، دوسروں کا حق نہ ماریں اور ہر جگہ
انصاف کے ساتھ پاکیزہ کردار پیش کریں اللہ عزوجل سے دعا ہے اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
Dawateislami