آج کے اس پر فتن دور میں جہاں دیگر گناہوں سے بچنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے وہیں ایک گناہ جس کی وعیدیں قرآن و احادیث میں کثرت سے وارد ہوئی ہیں اس سے بچنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔اور وہ گناہ خیانت ہے۔شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔‘‘ (عمدۃ القاری، کتاب الایمان، باب علامات المنافق، تحت الباب: ۲۴، ج۱، ص۳۲۸)

اورہرمسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ،الخلق الثانی و العشرون الخ،ج۱،ص۶۵۲)

اب وہ آیات ملاحظہ فرمائیں جن میں رب قہار نے خیانت کی مذمت فرمائی ہے:

(1)اللہ و رسول سے خیانت نہ کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (پ9،الانفال،آیت نمبر 27)

فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

(2)خائن روز قیامت مال ِخیانت کے ساتھ ہو گا: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4،آل عمران،آیت نمبر 161)

(3)خائن کی طرف سے مت جھگڑو: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پ5،النساء،آیت نمبر :107)

(4)خائن الله کو ناپسند ہے:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (پ10،الانفال،یت نمبر58)

ان آیات مبارکہ کے علاوہ اور بہت سی آیات مبارکہ ہیں جن میں خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے کبیرہ گناہ سے بچنے اور بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم