اللہ پاک نے یہ کائنات تخلیق فرمائی اور اس میں بے شمار انسانوں کو پیدا فرمایا اور انسانوں کے لیے بے شمار نعمتوں کو بھی پیدا فرمایا تاکہ انسان ان نعمتوں کو استعمال میں لا کر اپنی زندگی بسر کر سکے مگر وہ انسان جو ان نعمتوں کو استعمال تو کر رہا ہے مگر وہ اللہ پاک کا شکر ادا نہیں کر رہا یعنی وہ انسان نہ تو پانچ وقت اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کر رہا ہے تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی تو کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت بھی کر رہا ہے وہ ایسے کہ وہ انسان اللہ کی نعمتوں کو استعمال بھی کر رہا ہے مگر اس کے باوجود نہ ہی وہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کر رہا ہے ۔ایک طرح سے وہ خیانت اس طرح بھی کر رہا ہے کہ یہ دنیا اور یہ زندگی اللہ تعالی نے انسان کو امانت کے طور پر دی ہے یعنی انسان اس امانت کی حفاظت اس طرح کرے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرے اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرے پھر وہ بندہ صحیح معنوں میں اللہ کی امانت کی حفاظت کرے گا۔اور اسی وجہ سے اللہ پاک نے قران پاک میں جگہ جگہ بنی نو انسان کی ہدایت کے لیے قران پاک میں فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور جگہ جگہ خیانت کرنے والوں کی مذمت کو قران پاک میں بیان فرمایا اسی لیے میں آپ کے سامنے وہ آیات پیش کروں گا جن میں خیانت کی مذمت موجود ہے۔

(1)اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃانفال: 27)

(2)اللہ جانتا ہے جو کچھ سینوں میں چھپا ہے:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)

ترجمہ کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔ (سورۃ المومن :19)

(3)خیانت کرنے والے کی طرف سے نہ جھگڑنا: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا

یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النسا ء: 107)

ان تمام آیات سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ اللہ پاک نے ہمیں ہر معاملے میں خیانت سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور خیانت کرنے والوں کی مذمت کو بیان فرمایا ہے تو لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانبرداری کرے اور اور جو زندگی اور دنیا جو ہمیں امانت کے طور پر ملی ہے اس میں ہم خیانت نہ کریں آمین بجاہ خاتم النبیین۔