رضوان
علی قادری رضوی(درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ ،لاہور،پاکستان)
اسلام دینِ امانت ہے۔ یہ جس طرح عبادات کی پابندی کا حکم
دیتا ہے، اسی طرح معاملات میں امانت داری اور دیانت کے چراغ جلانے کی بھی تلقین
کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت (یعنی امانت میں کمی، دھوکا، بددیانتی) کو سخت گناہ
قرار دیتے ہوئے بارہا اس سے منع فرمایا گیا ہے۔
اللہ ربّ العزت ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
اس آیتِ مبارکہ میں دو طرح کی خیانت سے منع کیا گیا ہے:(1)اللہ
و رسول کے احکام میں خیانت: یعنی ان کے بتائے راستے سے ہٹنا، دین کو پیچھے ڈال کر
اپنی خواہشات کی پیروی کرنا۔ (2)لوگوں کی امانتوں میں خیانت :یعنی مال، ذمہ داریوں،
راز اور وعدوں کو توڑ ڈالنا۔
دعوتِ اسلامی کا پیغام ہمیشہ یہی رہا ہے کہ مسلمان ہر
حال میں دیانت شعار بنے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہم العالیہ بارہا اس بات کی
طرف توجہ دلاتے ہیں کہ جس میں امانت نہیں، اس میں ایمان نہیں۔خیانت صرف مال کی چوری
نہیں، بلکہ بات کی بے وفائی، ذمہ داری میں کوتاہی، وعدہ خلافی، یہاں تک کہ وقت پر
کام نہ کرنا بھی خیانت میں شامل ہو جاتا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمۂ
کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الأنفال، آیت 58)
اللہ کی ناپسندیدگی سے بڑا خوف اور کیا ہو سکتا ہے؟ ایک
ایسا کام جو انسان کو ربِّ کریم کی محبت سے محروم کر دے، اسے اختیار کرنا کیسے ممکن
ہے؟ یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین اور اہلِ دعوت ہمیشہ امانت داری کو ایمان کا حصہ
قرار دیتے آئے ہیں۔
ہمارا کردار کیسا ہونا چاہیے؟امانت ملے
تو اسے بہترین طریقے سے ادا کریں۔ وعدہ کریں تو پورا کریں۔کسی کا راز جانیں تو اسے
سینے میں محفوظ رکھیں۔ملازمت، تجارت، درس و تدریس ہر جگہ دیانت کو شعار بنائیں ۔
کسی پر ظلم، دھوکا یا چالبازی سے بچیں۔آخر میں، دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں خیانت سے
بچنے، سچی امانت داری اپنانے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین بجاہِ سیدِ المرسلین ﷺ۔
Dawateislami