قرآنِ مجید نے خیانت ،امانت میں بے وفائی، وعدے کی خلاف ورزی، سچائی کو چھپانا، یا حق تلفی کو سخت گناہ اور اخلاقی بگاڑ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر خیانت کی مذمت، اس کے نتائج اور ایمان سے اس کے تعلق کو واضح کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 57)

اللہ تعالی فرماتا ہے: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)

یعنی یہ عمل اللہ کی محبت سے محرومی کا سبب بنتا ہے، چاہے خیانت چھوٹی ہو یا بڑی ہو۔

خیانت کے متعلق حدیث :ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:199)

اللہ پاک ہمیں ہر طرح کی خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔