حافظ
محمد واصف رضا عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ ،لاہور،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، امانت اور دیانت پر قائم
ہے۔ جب یہ اوصاف قائم رہتے ہیں تو دلوں میں اطمینان اور معاملات میں استحکام پیدا
ہوتا ہے، اور جب انہی بنیادی اقدار میں دراڑ پڑتی ہے تو معاشرتی نظام ٹوٹ پھوٹ کا
شکار ہونے لگتا ہے۔ خیانت انہی تباہ کن برائیوں میں سے ایک ہے، جس سے نہ صرف افراد
کا کردار مجروح ہوتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے
مختلف مقامات پر خیانت کی سخت مذمت فرمائی ہے اور اہلِ ایمان کو بار بار تنبیہ کی
ہے کہ وہ امانتوں اور عہدوں کی حفاظت کریں، کیونکہ خیانت اللہ اور اس کے رسول کے
ہاں ایک نہایت سنگین جرم ہے۔قرآن کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں
مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت سورۃ الانفال میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے
ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت
کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے
اس کی گرفت بھی سخت ہے۔
خیانت کو نفاق کی
نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ
خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت
58)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس سے
اللہ کی ناپسندیدگی حاصل ہوتی ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو
اللہ کو پسند ہو اور اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔
حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن
حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی
بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ
تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ
اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ
اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے
سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک
اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ
النساء، آیت 58)
یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی
معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب،
اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے
بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔
خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی
اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد
ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ
جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:
وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن
اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا
پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت
161)
یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی
غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔آخر میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے
ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے کہ خیانت صرف ایک اخلاقی برائی ہی نہیں بلکہ ایمان کے
منافی عمل ہے، جسے قرآنِ مجید نے مسلسل تنبیہات اور سخت وعیدات کے ساتھ منع فرمایا
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں مومنوں کی صفات میں امانت و دیانت کو بنیادی رکن قرار دیا،
وہیں خیانت کو اُن اعمال میں شامل کیا جو انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتے ہیں۔
اس لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں سچائی، دیانت اور امانت
کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھےچاہے معاملہ مالی ہو، گھریلو ہو، سماجی ہو یا مذہبی
ذمہ داری کا۔آج کے دورِ فتن میں جب جھوٹ، دھوکہ اور بے وفائی عام ہوتے جا رہے ہیں،
قرآن کا یہ پیغام مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
پس کامیابی اسی شخص کا مقدر ہے جو اپنے رب اور مخلوق دونوں کے حق میں وفادار،
امانت دار اور سچا ہو۔ یہی کردار ایک صالح فرد کی پہچان اور ایک مضبوط معاشرے کی
بنیاد ہے۔
Dawateislami