محمد
عزیز عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، امانت اور باہمی سچائی
پر قائم ہے۔ جب تک لوگ ایک دوسرے کے حقوق ، ذمہ داریوں اور امانتوں کا پاس رکھیں،
معاشرہ امن و سکون سے چلتا ہے مگر جب خیانت، بددیانتی اور دھوکا دہی عام ہوجائے تو
اعتماد ٹوٹتا ہے۔
(1)جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء،آیت نمبر 107)
(2)اللہ حکمت والا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔ ( سورۃ الانفال آیت نمبر 71)
(3) اللہ دل کے حال کو جاننے والا ہے: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُترجمۂ کنزُالعِرفان : اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(سورۃالمومن آیت نمبر
19)
(4)خیانت کرنے والوں کو پورا بدلہ دیا جائے گا:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تو وہ قیامت کے
دن اس چیز کو لے کر آئے گاجس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال
کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(ال عمران: آیت
نمبر 141)
محمد
آصف قادری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور ،پاکستان)
آج کل معاشرے میں یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے کہ
لوگ ایک دوسرے کی خیانت کرتے ہیں اللہ تبارک و تعالی نے اور اس کے حبیب نے ہمیں اس
سے منع فرمایا ہے واضح طور پر اللہ تعالی نے اپنی پیاری کتاب میں اور حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان سے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی خیانت کرے گا
تو اس کی سزا کیا ہوگی اور ہم حضور کے امتی ہیں اور ہمیں اپنے حبیب کے احکامات سن
کر اس پر عمل کرنا چاہیے اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم جو سنیں
گے قرآن و احادیث کی روشنی میں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے:
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ
وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:52)
تفسیر صراط
الجنان:ذٰلِكَ:یہ
بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں
نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے اس پر
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف
اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی
میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ
مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر
نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25) اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو
فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔
اَخلاقی خیانت
مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے:اس سے یہ
بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے اور
اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے آنکھ کی
خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمۂ
کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(مؤمن:19)
حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
رسول کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی
حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص
مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں اس کا نائب بنےاور اس کے گھر بار کی دیکھ بھال
کرے اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے
گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب اس مجاہد کے نیکیاں لینے
کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟( مسلم، کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاہدین
واثم من خانہم فیہنّ، ص1051 الحدیث: 139(1898)
حضرت
فُضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد
فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا اور انہیں حساب کتاب کے
بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ان میں سے ایک وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس
موجود نہ تھا اور اس کے شوہر نے اس کی دنیوی ضروریات جیسے نان نفقہ وغیرہ پورے کیں
پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع وغیرہ،
ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، 3 / 18، الحدیث: 4)
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاقی خیانت کرنے سے
محفوظ فرمائے اور اخلاقی طور پر بھی امانت دار بننے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( خازن، الانفال، تحت الآیۃ: 27،
2/ 190 )
شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ص ﷺ نے
بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا وہ اس محاصرہ سے
تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا
کہ اب تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ص ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی
بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی
رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال اہل و
اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی
اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر
تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ص ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو
ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی
بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ص ﷺ
سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ
رسالت ص ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ص ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات
منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے
فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ص ﷺ
نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے
رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ
منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو
گلے کٹوانے کی بات ہے۔
حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے
کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ص ﷺ کی
خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت ص ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے
مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا
اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے
لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور
انور ص ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے
مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک
اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا
نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی،
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔
تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ کریم ص ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں
نہ کھولوں گا۔
رسولُ اللہ ص ﷺ
نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں
جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد
ِ عالم ص ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل
ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: 27، 2 / 203، 204جمل، تحت الآیۃ: 27، 3
/ 185-186، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا
سخت جرم ہے۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ
اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
تفسیر صراط
الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت
میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل
کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں
مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے اس کی
طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے
کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
اس فرمان کو بغور پڑھیں نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ،چنانچہ اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ
وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور
جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ۔(بقرہ:46)
اور ارشاد
فرمایا: وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت
کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر
شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے
گا۔ (اٰل عمران:161)
حضور پر نورص ﷺ
کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں چنانچہ حضرت سمرہ بن
جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا
جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب
الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، 3/ 93، الحدیث: 2716)
یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام
ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:
وَ
اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ
مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(71)
ترجمۂ کنز الایمان:اور
اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس
پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے
آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا
عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ اگر انہوں نے عَہد
کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے اللہ
تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار بندہ
بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں
مبتلا ہو گئے اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے بعد
انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت
الآیۃ: 71، 3 / 123، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 / 376، تفسیر کبیر،
الانفال، تحت الآیۃ: 71، 5 / 514، ملتقطاً)
اللہ رب العزت ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے
اور ان سب کو پڑھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر
بحیثیت مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی و معاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی
ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کو بھی تیار نہیں ، انہی میں سے ایک خیانت
بھی ہے۔ یہ ایسا بدترین گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ عام طور
پر خیانت کا مفہوم مالی امانت کے ساتھ خاص سمجھا جاتا ہے کہ کسی کے پاس مال امانت
رکھوایا پھر اس نے واپس کرنے سے انکار کردیا تو کہا جاتا ہے کہ اس نے خیانت کی ، یقینا
یہ بھی خیانت ہی ہے لیکن خیانت کا شرعی مفہوم بڑا وسیع ہے۔ چنانچہ حکیم الامت مفتی
احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی ، راز ،
عزت ، مشورے تمام میں ہوتی ہے۔ ( مرأة المناجيح ، 1 / 212 )
خیانت امانت کی ضد ہے ۔ پوشیدہ طور پرکسی کا حق مارنا خیانت
کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندے کا ! رب
تعالیٰ فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز
العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی
امانتوں میں خیانت کرو۔ ( پ 9 ، الانفال)
خیانت یہ ہے کہ اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں
تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے ۔ ( باطنی بیماریوں کی معلومات ، ص 175 )ہر مسلمان پر
امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ( باطنی بیماریوں
کی معلومات ، ص 176 )
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قرآن مجید میں خیانت
کرنے سے منع کیا گیا ہےمسلمان کو اس کے ارتکاب سے بچنا چاہئے۔ خیانت جیسے بُرے فعل
میں پڑنے کے بہت سارے اسباب ہو سکتے ہیں جن میں سے چند اسباب یہاں ذکر کئے جا رہے
ہیں :
(1) بدنیتی ( 2 ) دھوکا دینے کی عادت ( 3 ) بُری صحبت ( 4 ) توكل على الله کی کمی
( 5 ) مسلمانوں کو نقصان دینے کی عادت ( 6
) نفسانی خواہشات کی تکمیل۔
الله پاک سے دعا ہے کہ الله پاک ہم سب کو خیانت سے بچنے
کی توفیق عطا فرمائے اور دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین بِجَاهِ خاتَمِ النَّبين صلى الله علیہ والہ وسلم
عامر
فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور ،پاکستان)
خیانت کا مطلب ہے کسی کے ساتھ دھوکہ، بے ایمانی یا غداری
کرنا۔ اس میں امانت میں چوری، ناجائز تصرف یا اعتماد شکنی شامل ہے، جس سے تعلقات میں
اخلاقی اور نفسیاتی تنازع پیدا ہوتا ہے۔ یہ کسی کے حقوق کی خلاف ورزی اور بددیانتی
ہے۔
(1)اللہ تعالیٰ اور رسول کی خیانت نہ کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9سورت
انفال آیت نمبر 27)
(2)اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو جانتا ہے:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے
کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا
بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 13 سورت یوسف آیت نمبر 52)
تفسیر صراط
الجنان :حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:’’ میں نے قاصد کو
بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر
موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی
ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت
کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔
(3)خیانت کرنے والوں کے ساتھ جھگڑا نہ کرو :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5سورت النساء آیت نمبر 107)
تفسیر صراط
الجنان:اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
(4)رسول اکرم ﷺکو کفار کی خیانت سے تسلی :وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔ (پارہ 10سورت انفال آیت نمبر 71)
تفسیر صراط
الجنان: ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور
کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں۔
محمد
عمر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
،لاہور،پاکستان)
خیانت کا مطلب ہے بددیانتی، بے ایمانی، دھوکہ دہی، اور
کسی کی امانت میں ناجائز تصرف کرنا۔ یا کسی پر اعتماد کر کے اس کے اعتماد کو
توڑنے، پوشیدہ سازش کرنے یا کسی دوسرے شخص کے حقوق کو غصب کرنے جیسے اعمال پر
مشتمل ہوتا ہے۔ خیانت سے نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے اور اس کا دنیا و آخرت میں
نقصان ہوتا ہے۔
(1) جھگڑا نہ کرو:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
تفسیر صراط
الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت
میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل
کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں
مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی
طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے
کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان
باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ،چنانچہ اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ
بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)ترجمۂ
کنزُالعِرفان:اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ
چھپاؤ۔(بقرہ:42)
(2) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا :وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ
تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ
کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس
نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان
پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)
اور حضور پر نورص ﷺ کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے
برے افعال سے توبہ کریں ، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی
کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی
من غلّ، 3 / 93، الحدیث: 2716)
(3)کافر لوگ خیانت دار ہیں:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا
اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت
کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا
ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی
ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر
اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ
میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے
اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے
گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا
چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے آزاد کیا تو
آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا عہد لیا تھا اس
پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے عَہد کی خلاف ورزی
کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی
عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار بندہ بننے کا عہد کیا
تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں مبتلا ہو گئے۔
اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے بعد انہوں نے اللہ
تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 /
123، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 / 376، تفسیر کبیر، الانفال، تحت
الآیۃ: 71، 5 / 516)
(4) حضرت یوسف علیہ
السلام کی پاکی :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(یوسف:52)
تفسیر صراط
الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔
بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں
نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر
حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی
طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس
کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ
تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: 51، 3 / 25)
اس سے معلوم ہوا
کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا
ہے۔
(5) اللہ پاک جاننے والا ہے : یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے
اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(مؤمن:19)
اخلاقی خیانت
کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول
کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی
حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص
مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس کے گھر بار کی دیکھ
بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا
جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، اب (اس مجاہد کے نیکیاں
لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء
المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص1051، الحدیث: 139(1897)
محمد
جمشید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد اور امانت پر قائم ہے۔ جب
تک لوگ ایک دوسرے کے حق میں سچے، دیانت دار اور امانت کے پابند رہیں، معاشرے میں
سکون، بھائی چارہ اور انصاف قائم رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے خیانت چاہے وہ اللہ کے
احکام میں ہو، رسول کے فرامین میں ہو یا لوگوں کے مال و حقوق میں، کو ایک سخت اور
ناپسندیدہ گناہ قرار دیا ہے۔قرآنِ مجید نے خیانت کو ایمان کے منافی رویہ بتایا ہے
اور واضح احکامات کے ساتھ اس سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانتوں کو ادا کرنے کا
حکم دیا اور خیانت کو اخلاقی بگاڑ، معاشرتی فساد اور دینی کمزوری کی علامت قرار دیا۔
مسلمان کے کردار کا حسن اسی میں ہے کہ وہ ہر معاملے میں سچائی اور امانت داری کو
اپنا شعار بنائے۔
(1)
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ
اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ
نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف
کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے
والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)
(1) امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز
تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی
چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔ جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا
حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود
جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے
تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر،
عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴،
الحدیث: ۱۱۲۱۶)
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)شانِ نزول: یہ آیت حضرت
ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔
(3) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)
تفسیر صراط الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ:
اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا
ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی
کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ص ﷺ نے
اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت
الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
(4) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔(انفال:58)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً:اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہو۔ اس آیت
میں عام مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں سے خطاب ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ معاہدے
کے بعد جب کسی قوم کی طرف سے عہد شکنی کی علامات ظاہر ہوں تو عہد توڑنے کیلئے مسلمانوں
کے امیر پر لازم ہے کہ انہیں بتا دے کہ آج کے بعد ہمارا تم سے معاہدہ ختم ہے اور
ان پر حملہ کرنے سے پہلے انہیں جنگ کی اطلاع دے دے تاکہ یہ اس قوم سے بدعہدی کرنے
والا شمار نہ ہو اور اگر ان کی عہد شکنی روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جائے تو عہد ختم
ہونے اور جنگ کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ڈائریکٹ ان پر حملہ کر دیاجائے۔(
صاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۸،
۳ / ۷۷۴)
اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت دھوکےبازی اور لغویات سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین۔
محمد
نواز(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی ،لاہور،پاکستان)
اللہ پاک نے قرآن پاک میں مسلمانوں کی تربیت فرمائی ہے بعض چیزوں سے منع
فرما کر بعض چیزوں کا حکم فرما کر ۔جن چیزوں میں منع فرمایا ہے ان میں سے ایک یہ
ہے کہ خیانت سے بچنا ہے قرآن پاک کی چند آیات مبارکہ پیش کرتا ہوں:
(1)وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی
جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ
5سورۃالنساء آیت نمبر 107)
(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں
دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (پارہ 10سورۃالانفال آیت نمبر 71)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔
(3) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ
12سورۃ یوسف آیت نمبر 52)
تفسیر صراط
الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔ بادشاہ
نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ
کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے
لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں
کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے
ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں
چلنے دیتا۔
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9سورۃالانفال آیت نمبر 27)
تفسیر صراط
الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو انفرادی اور
اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ کردار، امانت داری اور راست روی کی تعلیم دیتا
ہے۔ انہی بنیادی اخلاقی اصولوں میں امانت اور اس کے مقابل خیانت کا تصور نہایت اہم
ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف انفرادی کردار
کو مجروح کرتی ہے بلکہ معاشرتی اعتماد، تعلقات اور عدل کے نظام کو بھی تباہ کر دیتی
ہے۔ اسی وجہ سے قرآن خیانت کو ایک اخلاقی اور ایمانی جرم قرار دیتا ہے۔
امانت اور خیانت کا مفہوم:لفظ
امانت ہر اُس ذمہ داری، حق، راز یا معاملے کو کہتے ہیں جو انسان کے سپرد کیا جائے
اور جس کی حفاظت اور درست ادائیگی ضروری ہو۔ اس کے برعکس خیانت اس امانت میں کوتاہی،
دھوکا، بے وفائی یا ناجائز تصرف کو کہتے ہیں۔ اسلام میں امانت صرف مالی معاملات تک
محدود نہیں، بلکہ قول و قرار، عہد، حکومتی اختیارات، علم، عدل اور حتیٰ کہ جسم و
روح تک کو امانت سمجھا گیا ہے۔
خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن
کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت
سورۃ الانفال میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے
ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت
کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے
اس کی گرفت بھی سخت ہے۔
خیانت
کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان
کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت
58)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس کواللہ
ناپسندیدکرتاہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو اللہ کو پسند ہو اور
اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔
حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن
حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی
بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا
حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا
یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف
کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے
والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)
یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی
معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب،
اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے
بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔
خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی
اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد
ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ
جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا
یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل
عمران:161)
یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی
غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔
اسلامی معاشرہ اور امانت کا معیار:ایک
مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد امانت داری پر قائم ہوتی ہے کہ خیانت صرف اخلاقی جرم
نہیں بلکہ ایمان کے منافی عمل ہے۔ جو قومیں امانت داری کو اپناتی ہیں وہ ترقی کرتی
ہیں، جبکہ خیانت کرنے والی قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی روشنی میں یہ
حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خیانت تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ ہے۔ یہ انسان کے ایمان،
کردار، معاشرتی اعتماد اور عدل کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے اسلام ہر فرد
کو نہ صرف مالی بلکہ قول و قرار، عہد، ذمہ داریوں اور رازوں کی حفاظت کا پابند
بناتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ معاشرتی بے راہ روی عام ہے، قرآنی تعلیمات کی بنیاد
پر امانت داری کا احیا وقت کی ضرورت ہے۔ یہی رویہ ایک پاکیزہ، مضبوط اور منصفانہ
معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔
اللہ عزوجل ہمیں خیانت سمیت تمام برائیوں سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے اور صحیح اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم۔
حافظ
محمد ثوبان عطاری(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
اللہ ربّ العزت نے انسان کو امانت دار بنایا ہے۔ یہ دنیا،
یہ نعمتیں، یہ رشتے، یہ منصب، یہ مال سب کچھ ہمارے پاس بطور امانت رکھا گیا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآنِ مجید میں خیانت کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ خیانت وہ
بدترین صفت ہے جو انسان کو اخلاقی، روحانی اور معاشرتی طور پر برباد کر دیتی ہے۔
قرآنِ مجید میں
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں یہ حکم دے دیا
کہ خیانت مومن کی شان نہیں ہو سکتی۔ مومن وہ ہے جو امانت کو حفاظت کے ساتھ پورا
کرے، جو وعدہ پورا کرے، جو لوگوں کے مال، عزت، راز اور ذمہ داریوں کی حفاظت کرے۔
اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے:
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔(انفال:58)
وہ بندہ کتنا بدقسمت ہوگا جس کے بارے میں اللہ خود فرما
دے کہ میں اسے پسند نہیں کرتا! اللہ کی ناراضگی سے بڑی مصیبت کوئی نہیں۔ خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہےمال میں خیانت،تجارت
میں دھوکہ،دفتر میں کام چوری،لیڈرشپ میں ناجائز فائدہ،دوستوں کے راز فاش کرنا،وعدہ
خلافی کرنا،یہ سب خیانت میں شامل ہے۔
اِنَّ
اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا
حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا
یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف
کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے
والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)
یہ آیت بتاتی ہے کہ امانت ادا کرنا اللہ کا حکم ہے، اور
خیانت کرنا اللہ کی نافرمانی ہے۔ جس پر ذمہ داری ہو اسے چاہیے کہ پورے اخلاص، دیانت
اور خوفِ خدا کے ساتھ اسے ادا کرے، چاہے وہ منصب کی امانت ہو، مال کی ہو، زبان کی
ہو یا رویے کی۔ اے اللہ! ہمیں خیانت، دھوکے اور بے ایمانی سے بچا۔اے اللہ! ہمیں
امانت داروں میں شامل فرما۔اے اللہ! ہمارے نفس کو پاکیزہ بنا، اس میں دیانت اور
سچائی پیدا فرما۔آمین بجاہ الخاتم النبیین صلی الله علیہ وسلم۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق،
سچائی، دیانت داری اور امانت کا درس دیتا ہے۔ ان اعلیٰ صفات کے برخلاف خیانت ایک
مذموم صفت ہے ۔ خیانت صرف دنیاوی نقصان نہیں بلکہ اللہ کی ناراضی اور اخروی خسارے
کا سبب بھی بنتی ہے۔
خیانت کا مفہوم:"خیانت" عربی
زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے: امانت میں بددیانتی کرنا، دھوکہ دینا،
یا کسی کے اعتماد کو توڑ دینا۔اسلام میں خیانت کو سخت
ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف مالی امانت میں نہیں بلکہ ہر قسم کے اعتماد،
وعدہ، راز، تعلقات اور ذمہ داری میں شامل ہوتی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔(انفال:58)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)
ان آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کی تعلیمات پر عمل
کرتے ہوئے سچائی، امانت داری اور دیانت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور خیانت جیسے
گناہ سے ہمیشہ بچیں، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالی ہمیں اس
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ
وسلم۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو معاشرے میں امانت، عدل اور دیانت
داری کو بنیادی اخلاقی اصولوں میں شمار کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا خیانت کی سختی
سے مذمت کی ہے، کیونکہ خیانت نہ صرف حقوق العباد کی پامالی ہے بلکہ اجتماعی نظم،
باہمی اعتماد اور انسانی تعلقات کی بنیادوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔ امانت کی حفاظت
کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ خیانت کو ایک ایسا قبیح فعل بتایا گیا ہے
جو انسان کے کردار، اس کے ایمان اور اس کی ذمہ دارانہ زندگی کے خلاف ہے۔ قرآن مجید
ہمیں واضح طور پر تنبیہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خائنوں کو پسند نہیں فرماتا اور قیامت
کے دن خیانت کے بارے میں سخت جواب دہی ہوگی۔ اسی لیے ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ
وہ ہر معاملے میں دیانت داری اختیار کرے اور خیانت کے ہر ظاہری و پوشیدہ پہلو سے
بچتا رہے۔آئیے اس کے متعلق چند آیت کریمہ ملاحظہ ہوں:
ترجمہ کنزالایمان:
اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک
دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃالانفال آیت نمبر:27)
ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا
کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے
گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ آل
عمران آیت نمبر: 161)
قرآنِ کریم کی روشنی میں یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے
کہ خیانت محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک سنگین گناہ اور معاشرتی فساد کی جڑ
ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومن کی پہچان امانت داری قرار دی ہے اور خائنوں کو اپنی رحمت
سے دور ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے قول و
فعل، معاملات، فرائض اور ذمہ داریوں میں امانت کی پاسداری کرے۔ جب افراد دیانت کو
اختیار کر لیتے ہیں، تو معاشرہ امن، اعتماد اور انصاف کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔اور
جب خیانت عام ہو جائے تو بگاڑ، ظلم اور بے اعتمادی پھیل جاتی ہے۔ اس لیے ضرورت ہے
کہ ہم قرآن کی ہدایات کو اپنا رہنما بنائیں، خیانت سے مکمل اجتناب کریں اور امانت
کو اپنے کردار کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی نصیب ہو
سکے۔اللہ پاک سے دعا ہے جو کچھ سیکھا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
بجاہ الخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہمیں ہر معاملے میں نصیحت کرتا
ہے چاہے دینی معاملات ہوں یا دنیاوی معاملات اور ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح حقوق
اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرناہے اور اس طرح ہمیں درس دیتا ہے کہ اپنے ظاہر
کےساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی اچھا بناؤ کہ ہمیشہ تم سچ بولتے رہو وعدہ کی پابندی
کرتے رہو اس طرح ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ تم خیانت کرنے سے بچتے رہنا۔چاہے خیانت
امانت میں بددیانتی ہو یا وعدے کو توڑ دینا ہو یا کسی کے حق کو چھپانا یا بلا
اجازت مال میں تصرف کرنا کیوں نہ ہو یہ سب اس قبیح عمل میں شامل ہیں۔ ان تمام سے
بچتے رہنا ہے ۔کیوں کہ خیانت کرنے والے کئی لوگوں کے لئے قیامت کے دن جہنم ہوگی ،
خیانت کرنا یہ منافقین کی علامت ہے کیونکہ مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا
اور خیانت کرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ اس طرح قرآن مجید میں خیانت کرنے والے کی مذمت
کی گئی ہے ۔
اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان :`بیشک
دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(سورۃ الانفال:58)
اس کے علاوہ اللہ تعالٰی نےایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ
الانفال 27)
اس آیت میں اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرنے کا حکم دیا گیا
ہے فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنارسولُ اللہ
ﷺسے خیانت کرنا ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ
اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ
ترجمہ کنز الایمان :بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(سورۃ النساء: آیت 58 )
اس آیت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ امانت کی ادائیگی میں
بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور
بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ
هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت
کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر
شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے
گا۔ (آل عمران:161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت
کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔لہذاہر مومن پر
فرض ہے کہ نہ کسی مومن سے خیانت کرے نہ ا س کافر کی جس کا مسلمانوں سے معاہدہ ہے
اور یہ خیانت نہ قلیل امانت میں ہو نہ کثیر میں ہو ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں یتیم
کے مال میں خیانت کرنے سے بچتے رہنے کا حکم دیا ہے اور جب وقت آئے تو اس کا مال اس
کے حوالے کردیا جائے ، ایک مومن مسلمان کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جب اس کے پاس
امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرے ۔اور اگر انکا مشترکہ کاروبار ہے تو
اس میں بھی ایک شریک کا دوسرے سے خیانت کرنے سے بچتے رہنا چاہیے، کیونکہ اَخلاقی خیانت
انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ
تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے،اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن
پاک تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین یارب العالمین۔
Dawateislami