اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو انفرادی اور
اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اعلیٰ کردار، امانت داری اور راست روی کی تعلیم دیتا
ہے۔ انہی بنیادی اخلاقی اصولوں میں امانت اور اس کے مقابل خیانت کا تصور نہایت اہم
ہے۔ قرآنِ کریم میں خیانت کی سخت مذمت کی گئی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف انفرادی کردار
کو مجروح کرتی ہے بلکہ معاشرتی اعتماد، تعلقات اور عدل کے نظام کو بھی تباہ کر دیتی
ہے۔ اسی وجہ سے قرآن خیانت کو ایک اخلاقی اور ایمانی جرم قرار دیتا ہے۔
امانت اور خیانت کا مفہوم:لفظ
امانت ہر اُس ذمہ داری، حق، راز یا معاملے کو کہتے ہیں جو انسان کے سپرد کیا جائے
اور جس کی حفاظت اور درست ادائیگی ضروری ہو۔ اس کے برعکس خیانت اس امانت میں کوتاہی،
دھوکا، بے وفائی یا ناجائز تصرف کو کہتے ہیں۔ اسلام میں امانت صرف مالی معاملات تک
محدود نہیں، بلکہ قول و قرار، عہد، حکومتی اختیارات، علم، عدل اور حتیٰ کہ جسم و
روح تک کو امانت سمجھا گیا ہے۔
خیانت کی قرآنی مذمت:قرآن
کریم میں کئی مقامات پر خیانت کی شدید الفاظ میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ سب سے اہم آیت
سورۃ الانفال میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال، آیت 27)
یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ خیانت نہ صرف لوگوں کے
ساتھ بددیانتی ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔ قرآن یہاں خیانت
کو ایک شعوری گناہ بتاتا ہےیعنی یہ عمل اکثر انسان جانتے بوجھتے کرتا ہے، اس لیے
اس کی گرفت بھی سخت ہے۔
خیانت
کو نفاق کی نشانی قرار دینا:قرآن نے منافقین کی صفات بیان
کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیانت ان کا طرزِ عمل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال، آیت
58)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خیانت ایک ایسا عمل ہے جس کواللہ
ناپسندیدکرتاہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ کام کرے جو اللہ کو پسند ہو اور
اُن امور سے بچے جو اس کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔
حکومتی و اجتماعی ذمہ داریوں میں خیانت:قرآن
حکومتی امور میں ایمانداری کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے، کیونکہ اجتماعی نظام کی
بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
اِنَّ
اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ اِذَا
حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا
یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف
کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے
والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)
یہ آیت حکومتی عدل، انصاف، ذمہ داریوں اور انتظامی
معاملات میں خیانت سے روکنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتی ہے۔ جو شخص اپنے منصب،
اختیارات، وسائل یا عہدے میں خیانت کرتا ہے، وہ نہ صرف لوگوں کا اعتماد توڑتا ہے
بلکہ اللہ کے حکم کی بھی نافرمانی کرتا ہے۔
خیانت کے نتائج:قرآن میں خیانت کے دنیاوی
اور اخروی نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ خیانت کرنے والے افراد پر لوگوں کا اعتماد
ختم ہو جاتا ہے، معاشرہ انتشار کا شکار ہوتا ہے اور عدل و امن کی بنیادیں کمزور پڑ
جاتی ہیں۔ آخرت میں ان کے لیے سخت جواب دہی ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں فرمایا:
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا
یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل
عمران:161)
یہ آیت خیانت کے نتائج کو واضح کرتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی
غلطی نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی ساتھ لاتی ہے۔
اسلامی معاشرہ اور امانت کا معیار:ایک
مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد امانت داری پر قائم ہوتی ہے کہ خیانت صرف اخلاقی جرم
نہیں بلکہ ایمان کے منافی عمل ہے۔ جو قومیں امانت داری کو اپناتی ہیں وہ ترقی کرتی
ہیں، جبکہ خیانت کرنے والی قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں۔قرآن کریم کی روشنی میں یہ
حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خیانت تمام معاشرتی برائیوں کی جڑ ہے۔ یہ انسان کے ایمان،
کردار، معاشرتی اعتماد اور عدل کے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے اسلام ہر فرد
کو نہ صرف مالی بلکہ قول و قرار، عہد، ذمہ داریوں اور رازوں کی حفاظت کا پابند
بناتا ہے۔ آج کے دور میں جبکہ معاشرتی بے راہ روی عام ہے، قرآنی تعلیمات کی بنیاد
پر امانت داری کا احیا وقت کی ضرورت ہے۔ یہی رویہ ایک پاکیزہ، مضبوط اور منصفانہ
معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔
اللہ عزوجل ہمیں خیانت سمیت تمام برائیوں سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے اور صحیح اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم۔
Dawateislami