انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، امانت اور باہمی سچائی پر قائم ہے۔ جب تک لوگ ایک دوسرے کے حقوق ، ذمہ داریوں اور امانتوں کا پاس رکھیں، معاشرہ امن و سکون سے چلتا ہے مگر جب خیانت، بددیانتی اور دھوکا دہی عام ہوجائے تو اعتماد ٹوٹتا ہے۔

(1)جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء،آیت نمبر 107)

(2)اللہ حکمت والا ہے:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ ( سورۃ الانفال آیت نمبر 71)

(3) اللہ دل کے حال کو جاننے والا ہے: یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُترجمۂ کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔(سورۃالمومن آیت نمبر 19)

(4)خیانت کرنے والوں کو پورا بدلہ دیا جائے گا:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تو وہ قیامت کے دن اس چیز کو لے کر آئے گاجس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(ال عمران: آیت نمبر 141)