خیانت کا مطلب ہے کسی کے ساتھ دھوکہ، بے ایمانی یا غداری کرنا۔ اس میں امانت میں چوری، ناجائز تصرف یا اعتماد شکنی شامل ہے، جس سے تعلقات میں اخلاقی اور نفسیاتی تنازع پیدا ہوتا ہے۔ یہ کسی کے حقوق کی خلاف ورزی اور بددیانتی ہے۔

(1)اللہ تعالیٰ اور رسول کی خیانت نہ کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9سورت انفال آیت نمبر 27)

(2)اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو جانتا ہے:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 13 سورت یوسف آیت نمبر 52)

تفسیر صراط الجنان :حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:’’ میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔

(3)خیانت کرنے والوں کے ساتھ جھگڑا نہ کرو :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5سورت النساء آیت نمبر 107)

تفسیر صراط الجنان:اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

(4)رسول اکرم ﷺکو کفار کی خیانت سے تسلی :وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (پارہ 10سورت انفال آیت نمبر 71)

تفسیر صراط الجنان: ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں۔