محمد
جمشید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد اور امانت پر قائم ہے۔ جب
تک لوگ ایک دوسرے کے حق میں سچے، دیانت دار اور امانت کے پابند رہیں، معاشرے میں
سکون، بھائی چارہ اور انصاف قائم رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے خیانت چاہے وہ اللہ کے
احکام میں ہو، رسول کے فرامین میں ہو یا لوگوں کے مال و حقوق میں، کو ایک سخت اور
ناپسندیدہ گناہ قرار دیا ہے۔قرآنِ مجید نے خیانت کو ایمان کے منافی رویہ بتایا ہے
اور واضح احکامات کے ساتھ اس سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امانتوں کو ادا کرنے کا
حکم دیا اور خیانت کو اخلاقی بگاڑ، معاشرتی فساد اور دینی کمزوری کی علامت قرار دیا۔
مسلمان کے کردار کا حسن اسی میں ہے کہ وہ ہر معاملے میں سچائی اور امانت داری کو
اپنا شعار بنائے۔
(1)
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-وَ
اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-اِنَّ اللّٰهَ
نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ
امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف
کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیا ہی خوب نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ سننے
والا ،دیکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء، آیت 58)
(1) امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز
تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی
چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔ جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمانوں کا
حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود
جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے
تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر،
عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴،
الحدیث: ۱۱۲۱۶)
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)شانِ نزول: یہ آیت حضرت
ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔
(3) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)
تفسیر صراط الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ:
اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا
ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی
کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ص ﷺ نے
اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت
الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)
(4) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔(انفال:58)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً:اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہو۔ اس آیت
میں عام مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں سے خطاب ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ معاہدے
کے بعد جب کسی قوم کی طرف سے عہد شکنی کی علامات ظاہر ہوں تو عہد توڑنے کیلئے مسلمانوں
کے امیر پر لازم ہے کہ انہیں بتا دے کہ آج کے بعد ہمارا تم سے معاہدہ ختم ہے اور
ان پر حملہ کرنے سے پہلے انہیں جنگ کی اطلاع دے دے تاکہ یہ اس قوم سے بدعہدی کرنے
والا شمار نہ ہو اور اگر ان کی عہد شکنی روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جائے تو عہد ختم
ہونے اور جنگ کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ڈائریکٹ ان پر حملہ کر دیاجائے۔(
صاوی، الانفال، تحت الآیۃ: ۵۸،
۳ / ۷۷۴)
اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت دھوکےبازی اور لغویات سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین۔
Dawateislami