اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاق،
سچائی، دیانت داری اور امانت کا درس دیتا ہے۔ ان اعلیٰ صفات کے برخلاف خیانت ایک
مذموم صفت ہے ۔ خیانت صرف دنیاوی نقصان نہیں بلکہ اللہ کی ناراضی اور اخروی خسارے
کا سبب بھی بنتی ہے۔
خیانت کا مفہوم:"خیانت" عربی
زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے: امانت میں بددیانتی کرنا، دھوکہ دینا،
یا کسی کے اعتماد کو توڑ دینا۔اسلام میں خیانت کو سخت
ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف مالی امانت میں نہیں بلکہ ہر قسم کے اعتماد،
وعدہ، راز، تعلقات اور ذمہ داری میں شامل ہوتی ہے۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی)
کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو
پسند نہیں۔(انفال:58)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)
ان آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کی تعلیمات پر عمل
کرتے ہوئے سچائی، امانت داری اور دیانت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور خیانت جیسے
گناہ سے ہمیشہ بچیں، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالی ہمیں اس
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ
وسلم۔
Dawateislami