اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہمیں ہر معاملے میں نصیحت کرتا ہے چاہے دینی معاملات ہوں یا دنیاوی معاملات اور ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرناہے اور اس طرح ہمیں درس دیتا ہے کہ اپنے ظاہر کےساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی اچھا بناؤ کہ ہمیشہ تم سچ بولتے رہو وعدہ کی پابندی کرتے رہو اس طرح ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ تم خیانت کرنے سے بچتے رہنا۔چاہے خیانت امانت میں بددیانتی ہو یا وعدے کو توڑ دینا ہو یا کسی کے حق کو چھپانا یا بلا اجازت مال میں تصرف کرنا کیوں نہ ہو یہ سب اس قبیح عمل میں شامل ہیں۔ ان تمام سے بچتے رہنا ہے ۔کیوں کہ خیانت کرنے والے کئی لوگوں کے لئے قیامت کے دن جہنم ہوگی ، خیانت کرنا یہ منافقین کی علامت ہے کیونکہ مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹا اور خیانت کرنے والا نہیں ہوسکتا ۔ اس طرح قرآن مجید میں خیانت کرنے والے کی مذمت کی گئی ہے ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)ترجمہ کنز الایمان :`بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(سورۃ الانفال:58)

اس کے علاوہ اللہ تعالٰی نےایک اور مقام پر ارشاد فرمایا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال 27)

اس آیت میں اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنارسولُ اللہ ﷺسے خیانت کرنا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ

ترجمہ کنز الایمان :بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(سورۃ النساء: آیت 58 )

اس آیت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:161)

اس آیت میں خیانت کی مذمت بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔لہذاہر مومن پر فرض ہے کہ نہ کسی مومن سے خیانت کرے نہ ا س کافر کی جس کا مسلمانوں سے معاہدہ ہے اور یہ خیانت نہ قلیل امانت میں ہو نہ کثیر میں ہو ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں یتیم کے مال میں خیانت کرنے سے بچتے رہنے کا حکم دیا ہے اور جب وقت آئے تو اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے ، ایک مومن مسلمان کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرے ۔اور اگر انکا مشترکہ کاروبار ہے تو اس میں بھی ایک شریک کا دوسرے سے خیانت کرنے سے بچتے رہنا چاہیے، کیونکہ اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے،اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن پاک تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین یارب العالمین۔