انسانی معاشرہ اعتماد، دیانت اور امانت داری کے ستونوں پر قائم ہے۔ جب یہ ستون مضبوط رہیں تو دلوں میں سکون، رشتوں میں مضبوطی اور معاشرے میں انصاف قائم ہوتا ہے۔ لیکن جب امانت میں خیانت پھیل جائے تو باہمی بھروسہ ٹوٹ جاتا ہے اور اخلاقی اقدار کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے خیانت کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور اسے ایمان کی روح کے خلاف بتایا ہے۔

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

خیانت کی ممانعت:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورۃ انفال آیت نمبر 27)

اے ایمان والوں جب اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم تمہیں کسی کام کا حکم دیں تو تم اس کام کو چھوڑ کر ان سے خیانت نہ کرنا ۔معلوم ہوا کہ فرائض چھوڑنا اللہ عزوجل سے اور سنت ترک کرنا رسول اللہ صلی علیہ وسلم سےخیانت کرنا ہے۔

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی ممانعت: وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ ( پارہ 5 سورۃ نساء آیت نمبر 107)

فرمایا کہ ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو گناہ کرکے اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں کیونکہ ان کی خیانت کا وبال انہی پر ہوگا۔ اور اللہ عزوجل خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

خائن کی بروز قیامت سزا: وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ ترجمہ کنزالایمان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(پارہ 4 سورۃ آل عمران آیت نمبر 161 )

اس آیت میں خیانت کی مذمت ہے کہ کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

آخر میں خلاصہ یہی ہے کہ خیانت وہ برائی ہے جو انسان کے ایمان، کردار اور اعتماد تینوں کو مجروح کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے اسے انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا ہے تاکہ مومن اپنی زندگی کو امانت داری اور دیانت کی روشنی سے سنوارے ہمیں چاہئے کہ ہر معاملے میں سچائی اور امانت کا دامن مضبوطی سے پکڑ لیں۔ کیونکہ یہی راستہ دنیا کی عزت اور آخرت کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق دے آمین۔


فی زمانہ اسلامی تعلیمات کم ہونے کی وجہ سے بہت سی معاشرتی اور اخلاقی برائیاں عام ہو چکی ہیں اور فی زمانہ لوگ برائی کہ برائی سمجھنے کے لیئے بھی تیار نہی۔ ان میں سے ایک برائی خیانت بھی ہے۔

خیانت کسے کہتے ہیں: خیانت امانت کی ضد ہےخفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا!رب تعالیٰ فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:27)

آج اسی خیانت کے بارے میں سنتے ہیں اور پھر دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ فی زمانہ جتنے بھی لوگ اس گناہ میں سرزد ہیں وہ توبہ کر کے نیکیوں والی زندگی بسر کرنے لگ جائیں۔

ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخْنُهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَايَهْدِي كَيْدَ الْخَابِنِينَ (52)ترجمہ کنزالایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہو جائے کہمیں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی او اللہ دغابازوں کا کر نہیں چلنے دیتا۔

يَعْلَمُ خَابِنَةَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ (19)ترجمہ کنزالایمان: لہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔

وَإِنْ يُرِيدُوا خِيَا نَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (71)

ترجمہ کنزالایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کر چکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذُ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِينَ (58)

ترجمہ کنزالایمان: ور اگر تم کسی قوم سے دعا کا اندیشہ کرو توان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔

یہ تمام تر قرآنی آیات میں خیانت کرنے والوں کی مزمت بیان کی گئی اللہ پاک ہم سب کو اس فتنے والے دور میں دین اسلام پر قادر رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کہ بھی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


خیانت کی تعریف : اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ، 1 / 347)

خیانت کا حکم : ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔(الحدیقۃ الندیۃ،1/652)

آج اس پُر فتن دور میں ہر جگہ گناہوں کا بازار گرم ہی دکھائی دیتا ہے۔ وہ گناہ جس کی وعید اور مذمت پر قراٰنِ پاک کی بہت ساری آیات کریمہ وارد ہے ۔ ان گناہوں میں سے ایک گناہ خیانت بھی ہے۔

آیئے! اب ہم خیانت کی مذمت قرآن مجید فرقان حمید کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) اللہ عزوجل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کی ممانعت:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( پ 9، سورة الانفال 8، آیت 27)

(2) امانت ادا کرنے کا صریح حکم :اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ترجمہ کنز العرفان : بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو ۔ ( پ 5 ، سورة النساء 4 ، آیت 58 )

(3) خیانت کرنے والے کا انجام: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ

ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(پ 4 ، سورة آل عمران3 ، آیت 161 )

(4) خیانت کرنے والا اللہ عزوجل کا ناپسندیدہ شخص :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت ، ناشکرے کو پسند نہیں فرماتا۔ ( پ 17، سورة الحج 22، آیت 38 )

(5) خیانت کار کی چال ناکام ہوتی ہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (پ 12، سورة یوسف 12، آیت 52)

مذکورہ بالا تمام آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ امانت داری ، اہل ایمان کی پہچان اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے ۔ آج اگر ہم معاشرے میں امن ، اعتماد اور برکت چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق دیانت داری کو اختیار کرنا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے برے فعل سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم


خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔

الله عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ترجمہ کنزالایمان:اور کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے۔(آل عمران:161)

خیانت کا حکم:ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

خیانت ایک خاموش مگر خطرناک گناہ:خیانت ایک ایسا عمل ہے جو بظاہر چھوٹا لگتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ خیانت کا مطلب ہے امانت میں بددیانتی کرنا، اعتماد توڑنا یا کسی کے حق کو ناجائز طریقے سے استعمال کرنا۔ یہ صرف مال و دولت تک محدود نہیں بلکہ وعدوں، ذمہ داریوں، رشتوں اور باتوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں خیانت کی کئی شکلیں پائی جاتی ہیں۔ کوئی ملازم اپنے کام میں سستی کرتا ہے، کوئی دکاندار ناپ تول میں کمی کرتا ہے، کوئی طالب علم نقل کرتا ہے، اور کوئی اپنے عہدے کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ سب خیانت کی ہی شکلیں ہیں۔ شروع میں یہ کام فائدہ مند لگتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ انسان کی عزت، اعتبار اور سکون سب ختم ہو جاتا ہے۔

خیانت سب سے زیادہ نقصان اعتماد کو پہنچاتی ہے۔ جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔ خاندان، دوست، اور معاشرہ سب متاثر ہوتے ہیں۔ ایک خیانت کرنے والا شخص آہستہ آہستہ تنہا ہو جاتا ہے کیونکہ لوگ اس پر بھروسا کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اسلام میں خیانت کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ امانت داری کو ایمان کی علامت کہا گیا ہے۔ ایک سچا اور امانت دار انسان نہ صرف اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی عزت پاتا ہے۔ سچائی اور دیانت سے کمائی گئی تھوڑی سی کامیابی، خیانت سے حاصل کی گئی بڑی کامیابی سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے روزمرہ کے معاملات میں ایمانداری اختیار کریں۔ جو ذمہ داری ہمیں دی جائے اسے پوری کوشش اور دیانت سے ادا کریں۔ اگر ہم خود کو بدلیں گے تو ہمارا معاشرہ بھی بدلے گا۔ یاد رکھیں، خیانت وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر دیانت ہمیشہ کامیابی اور سکون کا ذریعہ بنتی ہے۔

ایک بہتر معاشرہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خیانت کو چھوڑ کر امانت داری کو اپنائیں۔ یہی راستہ ہمیں عزت، اعتماد اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔


خیانت کا مفہوم:خیانت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں امانت میں کمی کرنا، بددیانتی کرنا، وعدے یا اعتماد کو توڑ دینا۔ لغت میں خیانت کا اطلاق ہر اس عمل پر ہوتا ہے جس میں کسی کے حق کو پوشیدہ طور پر ضائع کیا جائے۔اصطلاحی معنی:اصطلاحِ شریعت میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ انسان کسی کی دی ہوئی امانت، ذمہ داری یا اختیار کو اس کے مقررہ حق کے مطابق ادا نہ کرے، بلکہ جان بوجھ کر اس میں کمی، غلط استعمال یا بے ایمانی سے کام لے۔ خواہ وہ مال کی امانت ہو، راز کی حفاظت ہو، عہد و پیمان ہو یا کسی منصب و ذمہ داری کا حق۔

خیانت ایک نہایت مذموم اخلاقی اور سماجی برائی ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ جہاں خیانت کا رواج ہو جائے وہاں اعتماد ختم ہو جاتا ہے، تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں اور عدل و انصاف کا نظام بگڑ جاتا ہے۔ اسلام نے خیانت کو سختی سے منع کیا ہے اور امانت داری کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ ایک بااخلاق اور مہذب معاشرہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب اس کے افراد دیانت دار ہوں اور ہر طرح کی خیانت سے خود کو بچائیں۔ اسی لیے خیانت سے اجتناب اور امانت داری کا فروغ اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔

خیانت کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال آ یت 27)

یعنی فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)

ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ۔

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاملات، ذمہ داریوں، عہد و پیمان اور امانتوں میں پوری دیانت داری اختیار کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کریں اور ہر اس عمل سے بچیں جو خیانت کے زمرے میں آتا ہو، تاکہ ہم ایک پاکیزہ کردار اور مضبوط معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اللہ پاک ہمیں اس مذموم امر سے محفوظ فرمائے۔آ مین 


وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں

چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ۔(بقرہ:۴۲)

اور ارشاد فرمایا:وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پرجان بوجھ کر کھالو۔‏ (بقرہ:۱۸۸)‏

اور ارشاد فرمایا:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گاجس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (اٰل عمران:۱۶۱)

اور حضور پر نور ﷺ کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں ، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، ۳ / ۹۳، الحدیث: ۲۷۱۶)

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’وہ شخص ملعون ہے جو اپنے مسلمان بھائی کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ دھوکہ کرے ۔ (تاریخ بغداد، ۲۶۲-محمد بن احمد بن محمد بن جابرالخ، ۱ / ۳۶۰)

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(161) ترجمۂ کنز الایمان:اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

اس سے کئی مسئلے معلوم ہوئے ۔ ایک یہ کہ غنیمت کی تقسیم کے بغیر ناجائز طریقہ پر کچھ لینا سخت حرام ہے۔ دو سرا یہ کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام گناہوں سے معصوم ہیں۔ گناہ اور نبوت میں وہی نسبت ہے جو اندھیرے اور اجالے میں ہے ۔تیسرا یہ کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام پر بد گمانی منافقوں کا کام ہے اور کفر ہے۔ چوتھا یہ کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام ربُّ العالمین عَزَّوَجَلَّ کے ایسے پیارے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر سے لوگوں کی تہمتیں دور فرماتا ہے ۔

خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵))

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴ / ۲۷۱، الحدیث: ۱۲۳۸۶)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)


خیانت ایک بہت ہی برا عمل ہے ۔انسانی معاشروں کی بنیاد دیانت، اعتماد اور سچائی پر رکھی گئی ہے۔ جب ان بنیادوں میں دراڑ آتی ہے ۔ تو رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں، ادارے بے وقعت ہو جاتے ہیں اور معاشرہ انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔ انہی اخلاقی بنیادوں میں سے ایک اہم ستون "امانت داری" ہے، جس کا الٹ "خیانت" ہے۔ خیانت نہ صرف انسانی تعلقات کو زہر آلود کرتی ہے بلکہ یہ دین و دنیا دونوں میں قابل مذمت جرم ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی وجہ سے اعتماد ٹوٹتا ہے، دل زخمی ہوتے ہیں اور معاشرے میں بگاڑ جنم لیتا ہے۔ دین اسلام نے خیانت کو نہایت سختی سے روکا ہے اور اسے منافق کی علامت قرار دیا ہے۔

(1) اللہ پاک اور حضور ﷺ کے ساتھ خیانت نہ کرو :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃالانفال آیت 27 )

تفسیر صراط الجنان :فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: 27، 2 / 190)

شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال، اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔

اس پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ﷺ سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ رسالت ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ کریم ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ ﷺ نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد ِ عالم ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: 27، 2 / 203-204، جمل، تحت الآیۃ: 27، 3 / 185-184، ملتقطاً)

اس سے معلوم ہوا کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔

(2) حضور ﷺ سے خیانت کی مذمت :وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورۃ الانفال آیت 71)

تفسیر صراط الجنان:اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ ، اگر وہ قیدی تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امیدوار رہنا چاہئے۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ﷺ نے کفار کو قید سے آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ﷺ ، اگر انہوں نے عَہد کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار بندہ بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت میں مبتلا ہو گئے۔ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 /231، روح البیان، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 3 / 374، تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: 71، 5 / 514، ملتقطاً)

(3) خیانت کرنے والا ذلیل ہوجاتاہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنز الایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)

تفسیر صراط الجنان:اَخلاقی خیانت مذموم وصف اور اخلاقی امانتداری قابلِ تعریف وصف ہے: اس سے یہ بھی معلوم ہوا اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداریایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک کو اختیار کرنا چاہئے ،آنکھ کی خیانت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔

(4) اللہ پاک کی رحمت سے دور :یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (سورۃ المؤمن آیت 19 )

تفسیر صراط الجنان :اخلاقی خیانت کرنے والوں سے متعلق حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’گھروں میں بیٹھ رہنے والوں پر مجاہدین کی عورتوں کی حرمت ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے اور گھروں میں بیٹھ رہنے والوں میں سے جو شخص مجاہدین میں سے کسی کے گھروالوں میں (اس کا) نائب بنے(اور اس کے گھر بار کی دیکھ بھال کرے) اور وہ اس مجاہد کے اہلِ خانہ میں خیانت کرے تو قیامت کے دن اسے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کی نیکیوں میں سے جو چاہے گا لے لے گا ، اب (اس مجاہد کے نیکیاں لینے کے بارے میں ) تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب حرمۃ نساء المجاہدین واثم من خانہم فیہنّ، ص1051، الحدیث: 139 ( 1897)

حضرت فُضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں ہوگا، (اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، ان میں سے ایک) وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس (کے شوہر) نے اس کی دنیوی ضروریات (جیسے نان نفقہ وغیرہ) پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البیوع وغیرہ، ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، 3 / 18، الحدیث: 4)

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاقی خیانت کرنے سے محفوظ فرمائے اور اخلاقی طور پر بھی امانت دار بننے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔


(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)

تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔

خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران:۱۶۱)

اور حضور پر نور ﷺ کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے برے افعال سے توبہ کریں ، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب النہی عن الستر علی من غلّ، ۳ / ۹۳، الحدیث: ۲۷۱۶)

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ترجمۂ کنز الایمان:اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو ان کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶۱،۱ / ۵۰۵)

خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔

احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵))

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر، ۴ / ۲۷۱، الحدیث: ۱۲۳۸۶)

حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، ۸ / ۲۷۶، الحدیث: ۲۲۲۳۲)


خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔

‎‎جیسا کہ اللہ رب العزت قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( الانفال: ۲۷)

اللہ رب العزت نے قران پاک میں ارشاد فرمایا :وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء :107)

اللہ عزوجل نے فرمایا :ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)

ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف:52)

ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔یقیناً خیانت ایک خاموش مگر خطرناک گناہہے ۔خیانت ایک ایسا عمل ہے جو بظاہر چھوٹا لگتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ خیانت کا مطلب ہے امانت میں بددیانتی کرنا، اعتماد توڑنا یا کسی کے حق کو ناجائز طریقے سے استعمال کرنا۔ یہ صرف مال و دولت تک محدود نہیں بلکہ وعدوں، ذمہ داریوں، رشتوں اور باتوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں خیانت کی کئی شکلیں پائی جاتی ہیں۔ کوئی ملازم اپنے کام میں سستی کرتا ہے، کوئی دکاندار ناپ تول میں کمی کرتا ہے، کوئی طالب علم نقل کرتا ہے، اور کوئی اپنے عہدے کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ سب خیانت کی ہی شکلیں ہیں۔ شروع میں یہ کام فائدہ مند لگتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ انسان کی عزت، اعتبار اور سکون سب ختم ہو جاتا ہے۔

‎‎خیانت سب سے زیادہ نقصان اعتماد کو پہنچاتی ہے۔ جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔ خاندان، دوست، اور معاشرہ سب متاثر ہوتے ہیں۔ ایک خیانت کرنے والا شخص آہستہ آہستہ تنہا ہو جاتا ہے کیونکہ لوگ اس پر بھروسا کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اسلام میں خیانت کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ امانت داری کو ایمان کی علامت کہا گیا ہے۔ ایک سچا اور امانت دار انسان نہ صرف اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی عزت پاتا ہے۔ سچائی اور دیانت سے کمائی گئی تھوڑی سی کامیابی، خیانت سے حاصل کی گئی بڑی کامیابی سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے روزمرہ کے معاملات میں ایمانداری اختیار کریں۔ جو ذمہ داری ہمیں دی جائے اسے پوری کوشش اور دیانت سے ادا کریں۔ اگر ہم خود کو بدلیں گے تو ہمارا معاشرہ بھی بدلے گا۔ یاد رکھیں، خیانت وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر دیانت ہمیشہ کامیابی اور سکون کا ذریعہ بنتی ہے۔ ایک بہتر معاشرہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خیانت کو چھوڑ کر امانت داری کو اپنائیں۔ یہی راستہ ہمیں عزت، اعتماد اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔


فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہی میں سے ایک خیانت بھی ہے۔

خیانت کسے کہتے ہیں؟ خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا۔قران مجید میں بھی کئی مقامات پر خیانت کی مذمت آئی ہے۔رب تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ9،الانفال:2)

ایک اور مقام پرارشاد باری تعالی ہے :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (پ4 ، آل عمران : 161)

حدیث پاک میں بھی اس کی مذمت آئی ہے:حضرت ثوبان رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : الْكِبْرِ، وَالدَّيْنِ، وَالْغُلُولِ یعنی جو شخص اس حال میں مَرا کہ وہ تین چیزوں سے بَری تھا: تکبر، خیانت اور دَین (قرض)،تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔(مسند احمد، مسندالانصار، حدیث :22434)

ہمارے صادق وامین آقا ،مکی مدنی مصطَفٰے ﷺ دعا کیا کرتے تھے : اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُوعِ فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَة یعنی الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیرکار ہے ۔ (ابوداؤد،ج2،ص130، حدیث:1547)


خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیرکسی کی امانت میں تصرف کرناخیانت کہلاتا ہے۔

خیانت کا حکم :ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

خیانت کسے کہتے ہیں؟خیانت امانت کی ضد ہے پوشیدہ طور پرکسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا اللہ تعالی فرماتا ہے۔

(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورةانفال آیت27)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

نور کے پیکر اور تمام نبیوں کے سرور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگر چہ نماز روزہ کی پابندی کیوں نہ کرتا ہو:(1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(3)جب امانت اس کے سپرد کی جائےتو وہ خیانت کرے۔(بخاری شریف حدیث نمبر 2632)

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ درستگی اس کے علاوہ میں ہےاس نے اس کےساتھ خیانت کی( ابوداؤدج3صفحہ 449،حدیث3657)

یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ کرےاور وہ غلط مشورہ دےحالانکہ وہ جانتا ہے کہ درستگی اس کےعلاوہ میں ہےتو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی ہے ۔نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاہم تم میں سےجسے کسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم میں سےسوئی یااس سےزیادہ چھپالےتو یہ بھی خیانت ہےجسے وہ قیامت کے دن لائے گا( مسلم ص،787،حدیث 4743)

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجالس امانت ہیں سوائےتین کے:(1)جس مجلس میں کسی کو ناحق قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہو(2)حرام کاری کا منصوبہ بنایاگیاہو(3)ناحق مال لینے کا منصوبہ بنایاگیا ہو۔(ابوداؤد،ج4ص،351حدیث4869)

خیانت کے اسباب وعلاج:خیانت کا پہلاسبب بدنیتی ہےجس طرح اچھی نیت اخلاق وکردارکےلیے شفا اکسیرکادرجہ رکھتی ہے اسی طرح بدنیتی کازہربندےکےاعمال کوتباہ وبربادکردیتا ہےاس کاعلاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت کو درست رکھےاوراپنایہ ذہن بنائےکہ اللہ عزوجل میری حسن نیت اور ایمانداری کی بدولت دنیا میں کامیابی عطافرمانےپرقادرہےلہذاخیانت کرکےدنیوی واخرونقصان کرکے کیافائدہ خیانت کا دوسرا سبب دوکھادیناکی عادت ہےاس کاعلاج یہ ہےکہ بندہ اپنےذہن میں دوکھادہی کےنقصانات کوپیش نظررکھےکہ دوکھادیناایک براعمل ہےدوکھادینےوالے سےرسول اللہ صلی علیہ وسلم نےبراءت کا اظہار فرمایا دوکھا دینےوالامومن نہیں۔اس لیے ہمیں چاہیےکا اگرہم کسی سےامانت لیں تو اسےواپس کردیں اور جس سےوعدہ کریں تواس کوپوراکریں کیونکہ اس کے بارےمیں بہت وعیدیں آئی ہیں۔


خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔خیانت کا معنی ہے بددیانتی، بے ایمانی، دھوکا، یا کسی کے اعتماد کو توڑنا، خاص طور پر جب کسی امانت میں چوری یا ناجائز تصرف کیا جائے یا کسی راز کو فاش کیا جائے، یہ اللہ و رسول یا کسی بندے کے حقوق ادا نہ کرنے کا عمل ہے جس سے اعتماد مجروح ہوتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹، الانفال: ۲۷)

(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)

(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)

(1) نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور ﷺ کاارشادِ حقیقت بنیاد ہے: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز،رو زہ کا پابند ہی کیوں نہ ہو: (1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (3)جب امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔ ( مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان خصال المنافق، ص 50، حدیث: 107)

(2)روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے کہ نہ بغیر پاکی کے نماز قبول اور نہ خیانت کے مال سے صدقہ و خیرات قبول ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 1 حدیث : 301)

(3) روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولُ اللہ ﷺ عرض کرتے تھے الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیر کار ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 4 ،حدیث: 2469)

(4) رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم شخص کو پاؤ کہ وہ اللہ پاک کی راہ میں خیانت کرے تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، حدیث : 3633)

(5) فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جا سکتا ہے سواء خیانت اور جھوٹ کے ۔ ( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد، 6 حدیث : 4860)

(6)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت مت کرو ۔( مسند امام احمد جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 4)

خیانت کے بارے میں چند سبق آموز اقوال:خیانت وہ زخم ہے، جو جسم پر نہیں، اعتماد پر لگتا ہے،ایمان اور خیانت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے،جس نے تم پر بھروسا کیا، اُس سے خیانت دراصل اپنے ضمیر کا قتل ہے،خیانت صرف وعدہ توڑنا نہیں، بلکہ کسی کی سچائی کو روند دینا ہے،،سچ بولنے والا تھوڑا بولتا ہے، مگر خیانت کرنے والا بہت کچھ چھپاتا ہے،خیانت وہ آگ ہے جو رشتوں کو راکھ بنا دیتی ہے،امانت داری ایمان کا آئینہ ہے، اور خیانت نفاق کی علامت جس نے ایک بار خیانت کی، اس پر بھروسہ مر گیا۔

ان تمام روایات سے سبق ملا کہ خیانت سے بچنا ہی چاہئے کیونکہ ہر مسلمان پر امانتداری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ان شاء الله

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت اور تمام کبیرہ و صغیرہ گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ