خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔خیانت کا معنی ہے بددیانتی، بے ایمانی، دھوکا، یا کسی کے اعتماد کو توڑنا، خاص طور پر جب کسی امانت میں چوری یا ناجائز تصرف کیا جائے یا کسی راز کو فاش کیا جائے، یہ اللہ و رسول یا کسی بندے کے حقوق ادا نہ کرنے کا عمل ہے جس سے اعتماد مجروح ہوتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹، الانفال: ۲۷)

(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)

(3) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)

(1) نور کے پیکر،تمام نبیوں کے سرور ﷺ کاارشادِ حقیقت بنیاد ہے: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز،رو زہ کا پابند ہی کیوں نہ ہو: (1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (3)جب امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔ ( مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان خصال المنافق، ص 50، حدیث: 107)

(2)روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے کہ نہ بغیر پاکی کے نماز قبول اور نہ خیانت کے مال سے صدقہ و خیرات قبول ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 1 حدیث : 301)

(3) روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولُ اللہ ﷺ عرض کرتے تھے الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیر کار ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 4 ،حدیث: 2469)

(4) رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم شخص کو پاؤ کہ وہ اللہ پاک کی راہ میں خیانت کرے تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، حدیث : 3633)

(5) فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا جا سکتا ہے سواء خیانت اور جھوٹ کے ۔ ( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد، 6 حدیث : 4860)

(6)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت مت کرو ۔( مسند امام احمد جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 4)

خیانت کے بارے میں چند سبق آموز اقوال:خیانت وہ زخم ہے، جو جسم پر نہیں، اعتماد پر لگتا ہے،ایمان اور خیانت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے،جس نے تم پر بھروسا کیا، اُس سے خیانت دراصل اپنے ضمیر کا قتل ہے،خیانت صرف وعدہ توڑنا نہیں، بلکہ کسی کی سچائی کو روند دینا ہے،،سچ بولنے والا تھوڑا بولتا ہے، مگر خیانت کرنے والا بہت کچھ چھپاتا ہے،خیانت وہ آگ ہے جو رشتوں کو راکھ بنا دیتی ہے،امانت داری ایمان کا آئینہ ہے، اور خیانت نفاق کی علامت جس نے ایک بار خیانت کی، اس پر بھروسہ مر گیا۔

ان تمام روایات سے سبق ملا کہ خیانت سے بچنا ہی چاہئے کیونکہ ہر مسلمان پر امانتداری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ خیانت کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ان شاء الله

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت اور تمام کبیرہ و صغیرہ گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ