خیانت کی تعریف:اجازت شرعیہ کے بغیرکسی کی امانت میں تصرف کرناخیانت کہلاتا ہے۔

خیانت کا حکم :ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

خیانت کسے کہتے ہیں؟خیانت امانت کی ضد ہے پوشیدہ طور پرکسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا یا اسلام کا یا کسی بندہ کا اللہ تعالی فرماتا ہے۔

(1)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ ( سورةانفال آیت27)

(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (سورۃ الانفال، آیت 58)

نور کے پیکر اور تمام نبیوں کے سرور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگر چہ نماز روزہ کی پابندی کیوں نہ کرتا ہو:(1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے(3)جب امانت اس کے سپرد کی جائےتو وہ خیانت کرے۔(بخاری شریف حدیث نمبر 2632)

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ درستگی اس کے علاوہ میں ہےاس نے اس کےساتھ خیانت کی( ابوداؤدج3صفحہ 449،حدیث3657)

یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ کرےاور وہ غلط مشورہ دےحالانکہ وہ جانتا ہے کہ درستگی اس کےعلاوہ میں ہےتو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی ہے ۔نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایاہم تم میں سےجسے کسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم میں سےسوئی یااس سےزیادہ چھپالےتو یہ بھی خیانت ہےجسے وہ قیامت کے دن لائے گا( مسلم ص،787،حدیث 4743)

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا مجالس امانت ہیں سوائےتین کے:(1)جس مجلس میں کسی کو ناحق قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہو(2)حرام کاری کا منصوبہ بنایاگیاہو(3)ناحق مال لینے کا منصوبہ بنایاگیا ہو۔(ابوداؤد،ج4ص،351حدیث4869)

خیانت کے اسباب وعلاج:خیانت کا پہلاسبب بدنیتی ہےجس طرح اچھی نیت اخلاق وکردارکےلیے شفا اکسیرکادرجہ رکھتی ہے اسی طرح بدنیتی کازہربندےکےاعمال کوتباہ وبربادکردیتا ہےاس کاعلاج یہ ہے کہ بندہ اپنی نیت کو درست رکھےاوراپنایہ ذہن بنائےکہ اللہ عزوجل میری حسن نیت اور ایمانداری کی بدولت دنیا میں کامیابی عطافرمانےپرقادرہےلہذاخیانت کرکےدنیوی واخرونقصان کرکے کیافائدہ خیانت کا دوسرا سبب دوکھادیناکی عادت ہےاس کاعلاج یہ ہےکہ بندہ اپنےذہن میں دوکھادہی کےنقصانات کوپیش نظررکھےکہ دوکھادیناایک براعمل ہےدوکھادینےوالے سےرسول اللہ صلی علیہ وسلم نےبراءت کا اظہار فرمایا دوکھا دینےوالامومن نہیں۔اس لیے ہمیں چاہیےکا اگرہم کسی سےامانت لیں تو اسےواپس کردیں اور جس سےوعدہ کریں تواس کوپوراکریں کیونکہ اس کے بارےمیں بہت وعیدیں آئی ہیں۔