جس طرح ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کو دوسرے انسان
کے حقوق و فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں اسی طرح قرض ہو دین ہو یا ودیعت ہو امانت ہو اس
کا بھی انسان کو خیال رکھنا چاہیے خواہ وہ کسی طرح کی امانت ہی کیوں نہ ہو۔ آیے ہم
قران پاک سے 5 آیات مبارکہ کہ جن میں خیانت کی مذمت وارد ہوئی ہے وہ ملاحظہ کرتے
ہیں:
(1) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ
خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنزالایمان:
اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک
دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔(انفال:58)
(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔(آل عمران:161)
تفسیر صراط الجنان:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ:
اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا
ممکن نہیں کیونکہ یہ شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیزانبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی
کے معاملے میں خیانت کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔ شانِ نزول: ایک جنگ میں
مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ص ﷺ نے
اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔
(3) یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ
وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز الایمان: اللہ
جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔(المؤمن:19)
تفسیر صراط الجنان:یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ: اللہ
آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے۔ آنکھوں کی خیانت سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت
کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں میں چھپی چیز سے مراد عورت کے
حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن
انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(4) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں
دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے
آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا
عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے
عَہد کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے
اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار
بندہ بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت
میں مبتلا ہو گئے۔ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے
بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئے۔
(5) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ﳐ
ترجمہ کنز الایمان:
اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔(النساء:107)
تفسیر صراط الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ:
اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا
کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ ان قرآنی آیات
مبارکہ میں خیانت کی مذمت کے بارے میں پڑھا اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے اور خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی
اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
Dawateislami