اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر پہلو سے خیر،
دیانت اور امانت داری کی تلقین کرتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح
کے لیے واضح ہدایات فراہم کرتا ہے، جن میں خیانت کی شدید مذمت بھی شامل ہے۔ خیانت،
چاہے مال میں ہو، راز میں ہو یا ذمہ داریوں میں، اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور
معاشرے میں بداعتمادی، انتشار اور بے سکونی کو جنم دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف
مقامات پر خائن (خیانت کرنے والے) افراد کے لیے وعید بیان کی ہے اور مومنوں کو
خبردار کیا ہے کہ وہ امانتوں میں خیانت نہ کریں۔ یہ ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جو
انسان کی نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور اسے معاشرتی و اخروی نقصان میں مبتلا کر دیتا
ہے۔
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ص ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ص ﷺ نے
بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے
تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا
کہ اب تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ص ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی
بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی
رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال، اہل و
اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی
اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر
تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ص ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو
ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی
بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ص ﷺ
سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ
رسالت ص ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ص ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات
منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے
فیصلہ کو منظور کریں۔
اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ص ﷺ
نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے
رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ
منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو
گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے
قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ
عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ص ﷺ کی خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت
ص ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے
اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ
پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان
کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور
پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور ص ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ
میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو
میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات
روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ
تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے
اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ
کریم ص ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے اُنہیں
اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض
کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ
خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد ِ عالم ص ﷺ نے
فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر
بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل،
تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ اپنی
قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔
(2) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں
دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔(انفال:71)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ:اور
اے حبیب! اگر وہ تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں۔ اس آیت میں ذکر کی گئی اللہ تعالیٰ
اور اس کے رسول سے کفار کی خیانت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب رسولُ اللہ ص ﷺ نے کفار کو قید سے
آزاد کیا تو آپ نے ان سے دوبارہ جنگ نہ کرنے اور مشرکین سے معاہدہ نہ کرنے کا
عہد لیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! ص ﷺ ، اگر انہوں نے
عَہد کی خلاف ورزی کر کے آپ سے خیانت کی ہے توآپ اَفْسُردہ نہ ہوں یہ لوگ پہلے
اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کر کے اسے توڑ چکے ہیں۔ مصیبت سے نجات کے لئے شکر گزار
بندہ بننے کا عہد کیا تو مصیبت دور ہونے کے بعد اپنے وعدے کے خلاف کرکے کفر و معصیت
میں مبتلا ہو گئے۔ اولاد کی نعمت ملنے پر شکر گزاری کا عہد کیا اور اولاد ملنے کے
بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا میں اس کے شریک ٹھہرا دئیے۔ (بیضاوی، الانفال، تحت
الآیۃ: ۷۱، ۳ / ۱۲۳، روح البیان، الانفال، تحت
الآیۃ: ۷۱، ۳ / ۳۷۶، تفسیر کبیر، الانفال، تحت
الآیۃ: ۷۱، ۵ / ۵۱۴، ملتقطاً)
قرآن مجید کی
روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ خیانت نہ صرف گناہ ہے بلکہ ایمان کے منافی عمل
بھی ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ہر امانت کو اس کے حق دار تک پہنچائے اور کبھی
بھی دھوکہ یا خیانت کا سوچے بھی نہیں۔ اگر معاشرہ خیانت سے پاک ہو جائے تو عدل،
امن اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر
عمل کرتے ہوئے اپنی ذات کو خیانت سے پاک رکھیں اور دوسروں کے لیے مثال بنے۔ اللہ
تعالیٰ ہمیں سچائی، دیانت داری اور امانت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے، آمین۔
Dawateislami