عاقب
علی بن اصغر علی (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی، کراچی، پاکستان)
"خیانت" عربی لفظ "خَانَ ، يَخُونُ ، خِيَانَةً"
سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ہیں: امانت میں بددیانتی کرنا، کسی کے اعتماد کو
توڑنا، وعدہ خلافی کرنا اصطلاحی معنی:خیانت سے مراد وہ عمل ہے جس میں کوئی شخص
دوسروں کے مال، حق، یا اعتماد کو بلا اجازت یا ناجائز طریقے سے استعمال کرے، یا اس
میں کمی کرے۔
-
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ کنزالعرفان:
بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 58)
خیانت کرنے والے کا انجام :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور
کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو
لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا
بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃ آل عمران آیت نمبر 161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت
کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی
خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات ﷺ
نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی
ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔
(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب الصفات التی یعرف
بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص1532، الحدیث: 63(2865)
اللہ پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت
کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ ( سُورۃ الانفال: 27 )
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے
اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن،
سُورۃ الانفال: 27 )
خیانت
کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت: اس سے وکالت کا پیشہ کرنے
والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا
موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم
کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش
کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن
حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے
حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے
کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ
کے ان فرامین پر غور کریں ۔
نوٹ: اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو خیانت کرنے سے محفوظ
فرمائے۔ آمین
Dawateislami