ارسلان
احمد عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم حضرو اٹک ، پاکستان)
میرے پیارے اسلامی! بھائیو قرآن میں تقریباً چھ سے سات
جگہوں پر خیانت کا ذکر آیا ہے جیسا کہ :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّترجمہ
کنز العرفان :اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں ۔(آل عمران:161)
اور جب خیانت کی مذمت کی بات آتی ہے تو قرآن میں ارشاد
باری تعالٰی ہوتا ہے " وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِترجمہ
کنز العرفان: اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(آل
عمران:161)
اور ایک اور جگہ ارشاد باری تعالٰی ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (انفال:27)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو قرآن کی جو ہم نے پہلی آیت
ذکر کی اُس میں تو ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کے لیے خیانت کرنا محال ہے کیونکہ
نبی تو معصوم ہوتے ہیں یہ ہمارا عقیدہ ہے اور خیانت کرنا ایک گناہ کا کام ہے اس
لیے نبی کیلئے خیانت کرنا محال ہے۔ جب نبی خیانت نہیں کرتا تو اُن کے ماننے والے
اسطرح کے یہ کام کیسے کر سکتے ہیں: فافهم ( تو غور و فکر کر)۔
دوسری آیت میں خیانت کی مذمت بیان کی گئی پیارے پیارے
اسلامی بھائیوں غور تو کیجئے کہ جس دن بندہ آگے اتنے سارے حساب دے رہا ہوگا اور
اوپر سے رب قھار بھی جلال میں ہوگا تو ایسے میں وہ چیز ہم کہاں سے لائیں گیں جس میں
خیانت کی لہذا اس سے بچیئے اور جس سے خیانت کی مرنے سے پہلے اُس سے توبہ کر لیجیئے
تاکہ بعد میں پچھتاوا نہ ہو ۔ "
تیسری آیت میں اللہ و رسول سے خیانت کرنے سے منع کیا گیا۔
اللہ و رسول سے خیانت کرنے سے مراد کہ جن چیزوں کا الله ورسول نے حکم دیا اُن کو
چھوڑنا اور جن سے منع کیا وہ کرنا ۔ ایک تو اللہ و رسول سے خیانت سے منع کیا گیا
اور دوسرا ساتھ میں میں اپنے اموال میں بھی خیانت کرنے سے منع کیا گیا۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خیانت کی تعریف بھی ہم سمجھ
لیتے ہیں کہ " شرعی اجازت کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت ہے۔ اللہ
پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami