امانت مومن کی ایک عظیم اخلاقی اور دینی صفت ہے جو انسان
کے اخلاق و کردار کی سچائی اور اعتماد کی علامت ہے۔ یہ انسان کی وہ اعلی خوبی
ہے جس پر معاشرتی نظام قائم رہتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ دینِ اسلام میں
امانت داری کو بہت اہمیت حاصل ہے، حتی کہ امانت داری کو مومن کا اعلی
وصف قرار دیا . جبکہ خیانت امانت کی خلاف ورزی اور ایک نہایت قبیح اور مذموم عمل
ہے جو انسانی اعتماد، امانت اور سچائی کو مجروح کرتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس سے انسان
کا کردار داغدار اور معاشرہ فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ خیانت چاہے کسی بھی شکل میں ہو،
دینِ اسلام میں اسے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔اللہ پاک نے جہاں ایمان والوں کو
امانت و دیانتداری اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا وہی خیانت سے بچنے کی
تلقین ارشاد فرمائی چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتاہے :وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور
کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو
لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا
بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(آل عمران:161)
صراط الجنا ن میں ہے :کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت
میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گااور قیامت کے دن جب خیانت
کرنے والا مجرم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے
عذاب کا فیصلہ فرمائے گا نیز اللہ پاک انہیں پسند بھی نہیں فرماتا۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے(2) اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠(۳۸) ترجمہ
کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو پسند نہیں فرماتا۔(الحج:38)
یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار کو پسند نہیں فرماتا جو اللہ
تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ َ کے ساتھ کفر کر کے ان کی خیانت اور خدا کی نعمتوں کی
ناشکری کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اس عمل پر سزا دے گا۔(جلالین، الحج، تحت
الآیۃ: 38، ص282، خازن، الحج، تحت الآیۃ: 38، 3/ 310، ملتقطاً)
خیانت سے بچنے کی تلقین :خیانت
چونکہ کبیرہ یعنی بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے ۔ اللہ پاک نے مومنین کو اس
سے دور رہنے کی قرآن کریم فرقان حمید میں متعدد بار تلقین ارشاد فرمائی چنانچہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے :یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
صراط الجنان میں ہے: فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت
کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت
الآیۃ: 27، 2/ 190)
حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت
کرنے والانہیں ہوسکتا ۔ (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، 8
/ 276، الحدیث: 22232)
امانت میں خیانت کرنے اورعہد کی خلاف ورزی کرنے سے
متعلق حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’چار
باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس کے اندر ان میں
سے کوئی ایک ہو تو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑ
دے(1)جب اسے امانت سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔(2)جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔(3) جب
وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔(4)جب جھگڑا کرے تو بیہودہ بکے۔( بخاری، کتاب الایمان،
باب علامۃ المنافق، 1 / 25، الحدیث: 34)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں امانت و دیانتداری اختیار
کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خیانت سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
Dawateislami