حافظ
مبین رضا عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
فیضان غوث اعظم ،حضرو اٹک ، پاکستان)
اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت
کہلاتا ہے۔ ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت کرنا حرام اور جہنم میں لے
جانے والا کام ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (سُورۃ الانفال،آیت: 27)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)
ترجمہ کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ
قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس
کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سُورۃ
آل عمران، آیت: 161)
یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ کنز العرفان: اللہ آنکھوں کی خیانت
کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ (سورۃ المؤمن،آیت: 19)
رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن تمام خصلتوں پر پیدا کیا
جا سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔(مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، ج 6، حدیث:
4860)
حضرت فُضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تین شخص ایسے ہیں جن سے سوال
نہیں ہوگا (اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا، ان میں
سے ایک وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس کے شوہر نے اس کی دنیوی
ضروریات (جیسے نان نفقہ وغیرہ) پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔"(الترغیب
والترہیب، ج 3، ص 18، حدیث: 4)
حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور
خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا۔" (مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ
الباہلی، ج 8، ص 276، الحدیث: 22232)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین۔
Dawateislami