قرآنِ کریم نے انسانی زندگی کی بنیاد امانت اور دیانت پررکھی
ہے اور خیانت کو ایمان، اخلاق اور معاشرت کے لیے مہلک قرار دیا ہے۔خیانت صرف مال میں
بددیانتی کا نام نہیں بلکہ احکامِ شریعت سے روگردانی، فرائض میں کوتاہی، وعدہ خلافی،
اعتماد توڑنا اور نیت و نگاہ کی آلودگی بھی اسی دائرے میں شامل ہے۔اسی لیے قرآن و
حدیث میں ہر سطح پر خیانت سے بچنے اور امانت کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔قرآنِ کریم
نے خیانت کو ایک ہمہ گیر اخلاقی بیماری کے طور پر پیش کیا ہے اور انسانی زندگی کے
مختلف شعبوں میں اس کی متعدد صورتوں سے خبردار کیا ہے۔ذیل میں اس کی چند واضح اور
نمایاں مثالیں ذکر کی جاتی ہیں:
(1)اللہ و رسول ﷺ سے خیانت :اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (الانفال : 27)
یعنی فرائض چھوڑ دینا اللہ کریم سے خیانت کرنا ہے اور
سنت کو ترک کرنا رسول کریم ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
(2) اپنی آنکھوں کے ذریعے خیانت:اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ترجمۂ
کنزُالعِرفان : اللہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
(مومن:19)
آنکھوں کی خیانت
سے مراد چوری چھپے نا مَحْرَم عورت کو دیکھنا اور ممنوعات پر نظر ڈالنا ہے اور سینوں
میں چھپی چیز سے مراد عورت کے حسن و جمال کے بارے میں سوچنا ہے،یہ سب چیزیں اگرچہ
دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہوں لیکن انہیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔( مدارک، غافر، تحت
الآیۃ: ۱۹، ص۱۰۵۵)
(3)عدالتی خیانت:اللہ کریم ارشاد فرماتا
ہے:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء : 107)
صراط الجنان:اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا
چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن
ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے
اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے،
دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا
ہے۔(صراط الجنان، النساء ، تحت الآیت107 )
(4)اَخلاقی خیانت اور اخلاقی امانت داری :اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ
الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (یوسف :
52)
بادشاہ نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا
اقرار کرلیا ہے، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: میں
نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی
غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت
کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ کریم خیانت
کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۵)
اس سے معلوم ہوا کہ اَخلاقی خیانت انتہائی مذموم وصف ہے
اس سے ہر ایک کو بچنا چاہئے اور اخلاقی امانتداری ایک قابلِ تعریف وصف ہے جسے ہر ایک
کو اختیار کرنا چاہئے۔
(5)خیانت کا انجام:اللہ
کریم ارشاد فرماتا ہے:وَ
اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ
مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱) ترجمہ کنز الایمان: اور
اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس
پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (الانفال
: 71)
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! ﷺ اگر وہ قیدی
تمہاری بیعت سے پھر کر اور کفر اختیار کرکے تم سے خیانت کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس
پر غم نہ کریں کیونکہ یہ لوگ میثاق کے دن مجھ سے وعدہ کر کے دنیا میں پہنچ کر پھر
گئے جس پر اللہ تعالیٰ نے اِنہیں تمہارے قابو میں دے دیا جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ
چکے ہیں کہ قتل ہوئے گرفتار ہوئے آئندہ بھی اگر ان کے اَطوار وہی رہے تو انہیں اسی
کا امیدوار رہنا چاہئے۔(صراط الجنان ، الانفال تحت الآیت 71)
اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے ذمے آنے والی
امانتوں اور ذمہ داریوں کو باخوبی ادا کرنے اور ہر قسم کی خیانت سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن ﷺ
ضیاءُالمصطفیٰ
(درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى کراچی، پاکستان)
خیانت کسے کہتے ہیں خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی
پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا
یا اسلام کا یا کسی بندہ کا۔خیانت کے بارے میں پانچ قرآنی آیات کریمہ درج ذیل ہیں :
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال
،8:27)
(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّترجمۂ
کنزالایمان:اور کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے۔(سورۃ آلِ عمران ،3:161)
خیانت کی مذمت:پیارے اسلامی بھائیو!
اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے ، مگر ہمارے معاشرے میں خیانت کی وبا بہت تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے
، امانت میں خیانت کرنا کسی مسلمان کی شان نہیں بلکہ منافق کی صفت ہے ، خیانت میں
کوئی بھلائی نہیں بلکہ اس میں دنیا وآخرت کی ذِلت ورُسوائی اور تباہی وبربادی چھپی
ہوئی ہے۔ احادیث میں خیانت کی بہت شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ خیانت کی
مذمت پر چار فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ملاحظہ کیجئے :
(1) روایت ہے عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں چار عیوب ہوں وہ نرا منافق ہے اورجس میں ایک
عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ اُسے چھوڑ نہ دے جب امانت دی
جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں
بکے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:56)
(2)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان مسلمان کا
بھائی ہے ، نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر
مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ
فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان
کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے
دیکھے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث
نمبر:234 )
(3)روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اس حال میں مرے کہ وہ غرور خیانت اور قرض سے پاک و صاف
ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:2921)
(4)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲ صلی
اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے
والی کی اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کیاور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی ۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3781)
پیارے بھائیو!خیانت ہمارےمعاشرے کا وہ ناسُور ہے جس کی
گرفت سے شاید ہی کوئی شعبۂ زندگی بچا ہوا ہو مگر دینی معلومات کی کمی کی وجہ سے
ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا ۔ کاروبار ہو یا ملازمت !رازداری ہویا وراثت !خیانت اور
دھوکے کا چلن عام ہے ، مثلاً کاروباری دنیا میں تولنے ماپنے میں کمی بیشی اچھی
کوالٹی کی چیز دکھا کر گھٹیا کوالٹی کو تھما دینا نقلی دودھ، گھی ،آئل وغیرہ بیچنا
دونمبر اشیاء کو ایک نمبر بتانا مردہ جانور کا گوشت،پانی کے پریشر والا گوشت فروخت
کرنا نقلی وجعلی دوائیاں بیچناپھلوں کو اسکرین کے رنگ دار انجکشن لگا کر میٹھا
کرنا ہوٹلوں میں باسی کھانے کو خوشبو دار مصالحوں کے ذریعے تازہ کی سی شکل دے کر
گاہگوں کو کھلانا اسی طرح ملازمت میں ڈیوٹی کا وقت پورانہ کرنا مگر تنخواہ پوری لینا
ادارے کی گاڑی ،بجلی، کمپیوٹر، اے سی اور دیگر چیزوں کا ناجائز وغلط استعمال کرنا یونہی
وراثت کی تقسیم میں شرعی اصولوں کی جگہ مَن مانیاں کرنا اور حقداروں کو ان کا حق
نہ دینا، وغیرہ۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ہمارے معاشرے میں مل جائیں گی ( الامان
و الحفیظ)
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خیانت اور دھوکے سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن ﷺ ۔
محمد
لقمان( درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور
ہونے کی وجہ سے اخلاقی ومعاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان
کو بُرا سمجھنے کوبھی تیار نہیں، انہی میں سے ایک خیانت بھی ہے ۔یہ ایسابدترین
گناہ ہے کہ اسے منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے،نبی پاک،صاحبِ لَولاک ﷺ نے
فرمایاکہ منافق کی تین علامتیں ہیں: إِذَا
حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَیعنی
جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری،ج1،ص24،
حدیث:33)یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں،مسلمان کوا س سے بچنا چاہئے۔(مراۃ المناجیح،ج،1،ص74)
خیانت کی تعریف:اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی
کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹،
الانفال: ۲۷)
وَ
مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ
الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز العرفان: اور کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت
کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے
اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران :١٦١)
خیانت کی مذمت: اس آیت میں خیانت کی
مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،
چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور
طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا
واہلہا، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵)
محمد
عبداللہ(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان )
خیانت ایک نہایت قبیح اور قابلِ نفرت عمل ہے جو فرد،
معاشرے اور پوری قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ خیانت کا مطلب امانت میں بددیانتی،
وعدے کی خلاف ورزی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اسلام نے امانت داری کو ایمان کی
علامت قرار دیا ہے اور خیانت کو سخت گناہ بتایا ہے۔قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ
میں خیانت کی شدید مذمت آئی ہے۔ خیانت کرنے والا نہ صرف لوگوں کا اعتماد کھو دیتا
ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا بھی مستحق بنتا ہے۔ ایک خیانت کار شخص وقتی
فائدہ تو حاصل کر لیتا ہے، مگر اس کے انجام میں ذلت، رسوائی اور نقصان ہی نقصان
ہوتا ہے۔جیسا کہ رب تعالیٰ کا فرمان :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(انفال:27)
تفسیر صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
شانِ نزول: یہ آیت حضرت ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے بنو
قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے تنگ
آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب
تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت
کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں
جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال، اہل و اولاد سب
محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ
تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ
کر محمد مصطفٰی ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقابلے
میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہلِ
خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی
کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور نہیں ہے تو حضوراکرم ﷺ سے صلح کی درخواست کرو
شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ رسالت ﷺ سے صلح کی درخواست
کی لیکن حضورِ اقدس ﷺ نے اس کے سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں
حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر
اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے
کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور
حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال
سب بنو قریظہ کے پاس تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کو بھیج دیا، بنو قریظہ نے اُن سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن
معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں
فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی
گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے
کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت
واقع ہوئی، یہ سوچ کر وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف
پہنچے اور مسجد شریف کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ
کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ
اُن کی توبہ قبول کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی
حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔
حضور انور ﷺ کو
جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی
دعا کرتا لیکن جب اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ
عَزَّوَجَلَّ اُن کی توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا
یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ
کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔
تواُنہوں نے کہا : خدا کی قسم ! جب تک رسولِ کریم ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں
نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ ﷺ نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی
قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی
ملک سے نکال دوں۔ سیّد ِ عالم ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن
کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً) اس سے معلوم ہوا کہ
اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (انفال:58)
خیانت ایسا گناہ ہے جو انسان کے کردار کو کھوکھلا کر دیتا
ہے اور معاشرے سے اعتماد اور سکون چھین لیتا ہے۔ ایک خیانت کار نہ دنیا میں عزت
پاتا ہے اور نہ آخرت میں کامیابی۔ اگر ہم ایک بہتر، مضبوط اور پُرامن معاشرہ چاہتے
ہیں تو ہمیں خیانت سے مکمل اجتناب اور امانت داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا
ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی خیانت سے محفوظ فرمائے، سچائی اور دیانت داری کی
توفیق عطا کرے، اور ہمیں ایسا کردار عطا فرمائے جو دوسروں کے لیے مثال بن جائے۔ آمین۔
قرآن کریم میں خیانت (بددیانتی اور دھوکہ دہی) کی شدید
مذمت بیان کی گئی ہے اور اسے اللہ کی ناپسندیدہ صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآن کے
مطابق خیانت کرنے والا نہ صرف لوگوں کا مجرم ہے بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے
عہد کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔
قرآنی آیات کی روشنی میں خیانت کی مذمت کے اہم پہلو درج
ذیل ہیں:
(1)اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا:قرآن
مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں
کرتا:ترجمہ کنز العرفان : بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ
الانفال ،8:58)
ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو
اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت
کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورۃ النساء ،4:107)
ترجمہ کنزالعرفان:بیشک اللہ ہر بڑے بددیانت،ناشکرےکو
پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ الحج ،22:38)
(2)اللہ اور رسول ﷺ سے خیانت کی ممانعت:اہلِ
ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی امانتوں میں خیانت کر کے اللہ اور اس کے رسول ﷺ
کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں:
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت
نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (سورۃ الانفال ،8:27)
(3)خیانت کی سزا اور انجام:خیانت
کا انجام دنیا اور آخرت دونوں میں برا ہے: ترجمہ کنز العرفان: تووہ قیامت کے دن اس
چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا
پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (سورۃآل عمران 3:161)
رسوائی: خیانت کرنے والوں کو جہنم کے
بدترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے، جیسے حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی مثال
دی گئی جنہوں نے خیانت کی اور آگ میں جھونکی گئیں۔
(4) خیانت کی مختلف صورتیں:قرآن و
حدیث کی روشنی میں خیانت صرف مال تک محدود نہیں بلکہ اس کی دیگر اقسام بھی ہیں:معاہدوں
کی خلاف ورزی: کسی گروہ سے کیے گئے معاہدے کو دھوکے سے توڑنا خیانت ہے۔راز افشا
کرنا: کسی کے راز کو امانت نہ رکھنا اور اسے پھیلا دینا بھی خیانت کے زمرے میں آتا
ہے۔ناپ تول میں کمی: خرید و فروخت میں دھوکہ دہی بھی خیانت کی ایک سنگین صورت ہے۔
قرآن کے مطابق خیانت ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کو اللہ
کی رحمت سے دور کر دیتا ہے اور اسے منافقین کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔
خیانت کی قرآنی مذمت:خیانت
ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے کردار، ایمان اور معاشرے کے اعتماد کو
کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے جگہ جگہ اس گھناؤنے عمل کی شدید مذمت فرمائی ہے
اور ہر مسلمان کو اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام میں امانت داری کو ایمان کا حصہ
قرار دیا گیا ہے اس کے بغیر ایک صالح اور مضبوط معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔ اللہ
تبارک وتعالیٰ اپنی لاریب کتاب میں ایک جامع حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا
الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا ترجمہ کنز الایمان :بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا
ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو۔(سورۃ النساء، آیت 58، پارہ 5)
امانت کی ادائیگی: امانت کی ادائیگی میں بنیادی چیز تو
مالی معاملات میں حقدار کو اس کا حق دیدینا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اور بھی بہت سی چیزیں
امانت کی ادائیگی میں داخل ہیں۔
جیسے حضرت
عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے، رسولِ کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا :’’جو مسلمانوں کا حاکم بنا پھر اس نے ان پر کسی ایسے شخص کو حاکم
مقرر کیاجس کے بارے میں یہ خود جانتا ہے کہ اس سے بہتر اور اس سے زیادہ کتاب و سنت
کا عالم مسلمانوں میں موجود ہے تو اُس نے اللہ تعالیٰ، اُس کے رسول اور تمام
مسلمانوں سے خیانت کی۔(معجم الکبیر، عمرو بن دینار عن ابن عباس، ۱۱ / ۹۴، الحدیث: ۱۱۲۱۶)
یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ خیانت صرف دنیا کا نقصان نہیں
بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی بھی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ منافق کی تین نشانیاں ہیں (1) جب بات کرے
جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے
۔ (بخاری،کتاب
الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث ۳۳)
اللہ کریم نے فلاح حاصل
کرنے والے اہلِ ایمان کے دو وصف بیان کئے :وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور
وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں ۔(سورۃ المؤمنون آیت 8،پارہ 18)
اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے
گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے
اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح
عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان،
المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۶ / ۶۹، خازن،
المؤمنون، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۳۲۱، ملتقطاً)
حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے لیے چھ
چیزوں کے ضامن ہوجاؤ، میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ان میں سے ایک چیز یہ ہے
کہ۔تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو۔ ( مستدرک، کتاب الحدود، ستّ یدخل بہا
الرجل الجنّۃ، ۵ / ۵۱۳، الحدیث: ۸۱۳۰)
ابو
صَفی محمد علی(درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ، کراچی، پاکستان)
خیانت ایک ایسی اخلاقی بیماری ہے جو فرد کے باطن کو
کھوکھلا اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسلام نے جس طرح امانت کو ایمان
کا لازمی جزو قرار دیا ہے، اسی طرح خیانت کو صریح گناہ اور اجتماعی بگاڑ کی جڑ بتایا
ہے۔ خیانت صرف مال میں ہی نہیں ہوتی بلکہ راز، ذمہ داری، قول و فعل حتیٰ کہ نیت کی
سطح پر بھی واقع ہو سکتی ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر نہایت وضاحت کے ساتھ خیانت
کی مذمت فرمائی ہے تاکہ انسان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزگی اور دیانت
کے اصولوں پر استوار کرے۔
امانت میں خیانت کی ممانعت:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال: 27)
اس آیت میں خیانت
کو محض اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ سے بے وفائی قرار دیا گیا ہے، جو
اس کے سنگین روحانی انجام کی طرف واضح اشارہ ہے۔
نبی کا خیانت کرنا ممکن نہیں:اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ
بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ- ترجمہ کنز الایمان: اور کسی نبی
پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی
چھپائی چیز لے کر آئے گا ۔(سورۃ آلِ عمران: 161)
اس آیت میں خیانت
کے اخروی انجام کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان دنیا کی وقتی منفعت کے مقابلے
میں قیامت کی رسوائی کو محسوس کر لے۔
قرآنِ کریم کی یہ روشن ہدایات واضح کرتی ہیں کہ خیانت ایمان
کے منافی، عدل کے خلاف اور معاشرتی زوال کا سبب ہے۔ جو فرد یا قوم خیانت کو معمول
بنا لے، اس کے ہاتھ سے اعتماد، برکت اور عزت چھن جاتی ہے، جبکہ امانت و دیانت وہ
اوصاف ہیں جو انسان کو اللہ کے قرب اور مخلوق کے اعتماد دونوں سے ہمکنار کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اہلِ بصیرت خیانت سے بچنے کو محض اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ نجاتِ دنیا
و آخرت کا راستہ سمجھتے ہیں۔
فیض
احمد(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان)
قرآن مجید میں خیانت کو ایک انتہائی ناپسندیدہ اور قبیح
فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہ صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں امانتوں کی
پاسداری، وعدوں کی تکمیل، اور انسانی و الٰہی حقوق کی پامالی بھی شامل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ :(1) - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خیانت ایک ایسا فعل ہے جو
انسان کو اللہ کی رحمت اور محبت سے دور کر دیتا ہے۔ جس شخص سے اللہ ناراض ہو جائے،
اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔
(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
خیانت کے معاشرتی اثرات:خیانت
صرف انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایک سماجی زہر ہے۔ جب کسی معاشرے میں خیانت عام ہو جاتی
ہے توباہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
معاشی بدحالی کرپشن اور بددیانتی سے ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔ عدل و انصاف کا
قتل: جب گواہیوں اور فیصلوں میں خیانت ہوتی ہے تو مظلوم کو انصاف نہیں ملتا۔خیانت
ایک بدترین اخلاقی برائی ہے جو انسان کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید
کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ ایک مومن وہی ہے جو قول و فعل میں سچا اور امانت دار
ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے (چاہے وہ گھر ہو، ملازمت ہو یا
عبادات) میں امانت داری کو اپنائیں اور ہر قسم کی چھوٹی بڑی خیانت سے بچیں تاکہ
اللہ کی رضا اور معاشرتی امن حاصل ہو سکے۔
اصطلاح میں خیانت سے مراد یہ ہے کہ اجازت شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت
میں تصرف کرنا ۔ ( عمدۃ القاری)
اللہ اور اسکے رسول سے خیانت نہ کرو:
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا
اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں
دانستہ خیانت۔ (پارہ 9 سورۃ انفال آیت نمبر 27)
وضاحت : فرائض
چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسولُ اللهِ صَلَّى
اللهُ تَعَالَى علیہ وَالِہ وَسَلَّمَ سے خیانت کرنا ہے۔
خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5 سورۃ النساء آیت نمبر 107)
وضاحت: اس آیت میں
اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ جو لوگ خیانت کرتے ہیں آپ ان کی طرف سے نہ جھگڑیں۔
اللہ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا:ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر
نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ 12 سورۃ یوسف آیت نمبر 52)
وضاحت : بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصَّلوةُ وَالسَّلَام
کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ
کا اقرار کر لیا ہے ، اس پر حضرت یوسف علیہ الصَّلوة والسلام نے فرمایا" میں
نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز کو معلوم ہو جائے کہ میں نے اس
کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں کی اور اگر بالفرض میں نے کوئی
خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے اس قید سے رہائی عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ
تعالی خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا ۔
وضاحت: اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو فروغ نہیں ہوتااور
سانچ کو آنچ نہیں آتی، مکار کا انجام خراب ہوتا ہے۔ (صراط الجنان تحت ھذہ الآیۃ)
کسی نبی کا خیانت
کرنا ممکن نہیں:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ
مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ
نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ
کنز الایمان: اور کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا
رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی
بھرپور دی جائے گی اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (پارہ 3 سورۃ ال عمران آیۃنمبر161)
وضاحت: نبی علیہ السَّلام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ
یہ شان نبوت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلام گناہوں سے
معصوم ہوتے ہیں لہذا اُن سے ایسا ممکن نہیں ۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت
کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔
خیانت کا حکم: ہر مسلمان پر امانت داری واجب اور خیانت حرام اور جہنم
میں لے جانے والا کام ہے (باطنی بیماریوں کی معلومات)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت جیسے
بڑے گناہ سے بچنے اور امانت دار بننے کے توفیق عطا فرمائے آمین۔
حاجی
ریان عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور، پاکستان )
خیانت ایک ایسا اخلاقی مرض ہے جو فرد کی شخصیت ہی نہیں
بلکہ پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتا ہے یہ امانت کے برعکس صفت ہے جب انسان کسی کے
اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے وعدہ توڑتا ہے یا دی گئی ذمہ داری میں بددیانتی کرتا ہے
تو وہ صرف ایک فرد کے ساتھ نہیں بلکہ پورے نظامِ اعتماد کے ساتھ خیانت کرتا ہے تاریخ
گواہ ہے کہ جن قوموں میں خیانت عام ہو گئی وہاں عدل امن اور ترقی دم توڑ گئی اسی لیے
اسلام نے خیانت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا اور امانت داری کو کامیابی کی بنیاد
قرار دیا ایک صالح اور مضبوط معاشرہ اسی وقت وجود میں آ سکتا ہے جب اس کی بنیاد
سچائی دیانت اور امانت پر رکھی جائے نہ کہ خیانت اور دھوکے پر آئیے خیانت کی مذمت
کے متعلق کچھ آیت مبارکہ ملاحظہ فرماتے ہیں۔
(1) وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی
جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (پارہ 5،سورۃ النساء،آیت107)
(2) ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ
لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)
ترجمہ کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ
عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں
کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (پارہ
12،سورۃ یوسف ،آیت 52)
(3) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ
فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان: اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں
گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں
دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (پارہ 10،سورۃ الانفال ، آیت71)
(4) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ
کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پارہ 10،سورۃ الانفال،آیۃ نمبر27)
خیانت قرآن و سنت کی روشنی میں ایک سنگین اخلاقی جرم اور
ایمان کے منافی عمل ہے جو فرد کے کردار اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتا ہے
اسلام انسان کو امانت دیانت اور عدل کا پابند بناتا ہے اور ہر قسم کی خیانت سے سختی
سے روکتا ہے کامیابی اسی میں ہے کہ مسلمان ہر حال میں امانت دار رہے حق کا ساتھ دے
اور خیانت کے ہر راستے سے خود کو محفوظ رکھے اللہ پاک ہمیں خیانت سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
خرم
شہزاد عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور،
پاکستان)
حضرت فُضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین شخص ایسے ہیں جن کے بارے میں سوال نہیں
ہوگا اور انہیں حساب کتاب کے بغیر ہی جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ان میں سے ایک
وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا اور اس کے شوہر نے اس کی دنیوی ضروریات
جیسے نان نفقہ وغیرہ پوری کیں پھر بھی عورت نے اس کے بعد اُس سے خیانت کی۔ (الترغیب
والترہیب، کتاب البیوع وغیرہ، ترہیب العبد من الاباق من سیّدہ، ۳ / ۱۸، الحدیث: ۴)
ذٰلِكَ
لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ
الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ترجمہ
کنز الایمان: یوسف نے کہا یہ میں نے اس لیے کیا کہ عزیز کو معلوم ہوجائے کہ میں نے
پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہ کی اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔(سورت
النساء آیات نمبر 107 پارہ 5 )
تفسیر صراط
الجنان:ذٰلِكَ:یہ۔
بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پیام بھیجا کہ عورتوں نے آپ کی
پاکی بیان کی اور عزیز کی عورت نے اپنے گناہ کا اقرار کرلیا ہے اس پر حضرت یوسف علیہ
الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں نے قاصد کو بادشاہ کی طرف اس لیے لوٹایا تاکہ عزیز
کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی میں کوئی خیانت نہیں
کی اوراگر بالفرض میں نے کوئی خیانت کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ مجھے ا س قید سے رہائی
عطا نہ فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (خازن،
یوسف، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۲۵)
وَ
لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز الایمان: اور
ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں
چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورت الانفال آیات نمبر 27 پارہ 8)
تفسیر صراط
الجنان:وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا گزشتہ آیت میں
اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورت
الانفال آیات نمبر 71 پارہ 8)
تفسیر صراط
الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ
الرَّسُوْلَ:اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو فرائض چھوڑ دینا اللہ
تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت کو ترک کرنا رسول اللہ صَلی اللہُ تعالی علیہ
والہ وسلم سے خیانت کرنا ہے (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)
وَ
اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ
مِنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۷۱)
ترجمہ کنز الایمان:
اور اے محبوب اگر وہ تم سے دغا چاہیں گے تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں
جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دےدئیے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (سورت
المؤمن آیات نمبر 19 پارہ 24)
یَعْلَمُ
خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(۱۹) ترجمہ
کنز الایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔(المؤمن:19)
محمد
شعبان (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور، پاکستان )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خیانت یہ ایک بہت بری بیماری
ہے اور یہ انسان کے اچھے اخلاق کو برا بنادیتی ہے خیانت کی قرآن وحدیث میں بہت
مذمت بیان کی گئی ہے یہ ایک باطنی امراض میں سے ایک برا مرض ہے خیانت کرنے سے
انسان سے بہت سے لوگ دور ہو جاتے ہیں اور اس پر کیا ہوا اعتماد بھی کمزور ہو جاتا
ہے خیانت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا ۔ہمیں خیانت سے بچنے اور
بچانے کی کوشش کرنی چاہئے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت کرنے سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔
( 1)امانت میں خیانت نہ کرنا : وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱)ترجمہ کنز الایمان: اور
کسی نبی پر یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ کچھ چھپا رکھے اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے
دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا پھر ہر جان کو اُن کی کمائی بھرپور دی جائے گی
اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔ (آل عمران:161)
اس آیت میں خیانت کی مذمت بھی بیان فرمائی
کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے
گا۔ احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ، چنانچہ سرورِکائنات
ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم
ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(صراط الجنان فی تفسیر القرآن، پارہ نمبر
4، سورہ آل عمران، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 63)
(2)خیانت کرنے والوں کا ساتھ نہ دینا : وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ
یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا
اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے
شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (النساء:107)
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے
کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے
کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری
کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق
مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ
کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں
گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں
، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں۔ (صراط الجنان فی تفسیر
القرآن، پارہ نمبر 5 ، سورہ النساء ،جلد نمبر 2 ، صفحہ نمبر 333)
(3) اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا: وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ
قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ - اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمہ
کنزالایمان: اور اگر تم کسی قوم سے دغا(عہد شکنی) کا اندیشہ کرو تو ان کا عہد ان کی
طرف پھینک دو برابری پر بےشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں۔ (انفال:58)
جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خیانت کی مذمت بیان
فرمائی ہے ہمیں اس کو سامنے رکھتے ہوئے خیانت کرنے سے بچنا چاہیے اور دیگر لوگوں
کو اس سے بچنے کی ترغیب دلانی چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں خیانت کرنے سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
ابو
الحسن خیر بخش عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان )
خیانت ایک ایسا قبیح فعل ہے جو نہ صرف انسان کے کردار کو
داغدار کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتا ہے، امانت داری ایک مؤمن کی
پہچان اور ایمان کا اہم حصہ ہے، جبکہ خیانت ایمان کی ضد ہے، اسلام نے جہاں عدل،
صداقت اور دیانت کی تعلیم دی ہے، وہیں خیانت کو سخت گناہ اور نفاق کی علامت قرار دیا
ہے۔ایک صالح اور بااعتماد معاشرہ کی تشکیل کے لیے خیانت سے بچنا اور امانت کی
پاسداری لازم ہے۔
قرآن کریم و احادیث طیبہ میں خیانت کو سختی سے منع کیا گیا
ہے اور اسے منافقین کی علامت قرار دیا گیا ہے،خیانت خواہ مال میں ہو، راز میں ہو یا
امانت میں ،لھذا ہر صورت میں مذموم ہے ۔
(1)اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان
والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت
کرو۔ (سورۃ الانفال، پ 8،تحت الآیۃ 27)
فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ ( تفسیرِ خازن)
(2)اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ
مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز العرفان:بیشک
اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔(سورۃ النساء ،پ
5،آیت 107)
خیانت
کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت : اس سے وکالت کا پیشہ کرنے
والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا
موکل مجرم و خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو
مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے،
جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا
مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے
ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں
:
حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو خیانت کرنے والے کی
پردہ پوشی کرے تو وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، 3 / 93، الحدیث:
2716)یہ بھی یاد رہے کہ جھوٹی وکالت کی اجرت حرام ہے۔
(3)اللہ کریم نے ارشاد فرمایا:وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّؕ-وَ مَنْ یَّغْلُلْ
یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا
كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۱) ترجمہ کنز العرفان: اور
کسی نبی کا خیانت کرنا ممکن ہی نہیں اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو
لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا
بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔(سورۃ آل عمران ،پ 3،آیت 161)
نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا خیانت کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ
شانِ نبوّت کے خلاف ہے، نیز انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے
معصوم ہوتے ہیں لہٰذا اُن سے ایسا ممکن نہیں۔ وہ نہ تو وحی کے معاملے میں خیانت
کرتے ہیں اور نہ کسی اور معاملے میں۔
شانِ نزول: ایک
جنگ میں مالِ غنیمت میں ایک چادر گم ہو گئی ۔ بعض منافقوں نے کہا کہ حضورِ اقدس ﷺ
نے اپنے لئے رکھ لی ہوگی ۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران،
تحت الآیۃ: 161،1 / 505)
خیانت کی مذمت : اس آیت میں خیانت کی
مذمت بھی بیان فرمائی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز
کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
احادیث میں بھی خیانت کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے ،
چنانچہ سرورِکائنات ﷺ نے جہنمیوں میں ایسے شخص کو بھی شمار فرمایا جس کی خواہش اور
طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خیانت کا مرتکب کر دے۔(مسلم، ص1532، الحدیث:
63(2765)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جو امانتدار
نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔(مسند
امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند انس بن مالک بن النضر،4 / 271، الحدیث:
12386)
حضرت ابو
امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’مومن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خیانت کرنے والانہیں ہوسکتا ۔(مسند امام
احمد، مسند الانصار، حدیث ابی امامۃ الباہلی، 8 / 276، الحدیث: 22232)
خیانت ایک سنگین اخلاقی و دینی جرم ہے جسے قرآن مجید میں
سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بار بار تاکید فرمائی ہے کہ وہ
امانتوں میں خیانت نہ کریں، کیونکہ خیانت نہ صرف دنیا میں اعتماد کو ختم کرتی ہے
بلکہ آخرت میں سخت گرفت کا باعث بنتی ہے۔ جو قومیں خیانت کو معمولی سمجھتی ہیں، وہ
زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ امانت و دیانت کو اپنی
زندگی کا اصول بنائے اور ہر قسم کی خیانت سے بچتا رہے۔
Dawateislami