ضیاءُالمصطفیٰ
(درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى کراچی، پاکستان)
خیانت کسے کہتے ہیں خیانت امانت کی ضد ہے۔ خفیۃً(یعنی
پوشیدہ طور پر)کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ اپنا حق مارے یا اللہ رسول کا
یا اسلام کا یا کسی بندہ کا۔خیانت کے بارے میں پانچ قرآنی آیات کریمہ درج ذیل ہیں :
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ
اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان
والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ الانفال
،8:27)
(2) وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّترجمۂ
کنزالایمان:اور کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے۔(سورۃ آلِ عمران ،3:161)
خیانت کی مذمت:پیارے اسلامی بھائیو!
اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے
والا کام ہے ، مگر ہمارے معاشرے میں خیانت کی وبا بہت تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے
، امانت میں خیانت کرنا کسی مسلمان کی شان نہیں بلکہ منافق کی صفت ہے ، خیانت میں
کوئی بھلائی نہیں بلکہ اس میں دنیا وآخرت کی ذِلت ورُسوائی اور تباہی وبربادی چھپی
ہوئی ہے۔ احادیث میں خیانت کی بہت شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ خیانت کی
مذمت پر چار فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ملاحظہ کیجئے :
(1) روایت ہے عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں چار عیوب ہوں وہ نرا منافق ہے اورجس میں ایک
عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ اُسے چھوڑ نہ دے جب امانت دی
جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں
بکے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:56)
(2)حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان مسلمان کا
بھائی ہے ، نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر
مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ
فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان
کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے
دیکھے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث
نمبر:234 )
(3)روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اس حال میں مرے کہ وہ غرور خیانت اور قرض سے پاک و صاف
ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث
نمبر:2921)
(4)روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲ صلی
اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے
والی کی اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کیاور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی ۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3781)
پیارے بھائیو!خیانت ہمارےمعاشرے کا وہ ناسُور ہے جس کی
گرفت سے شاید ہی کوئی شعبۂ زندگی بچا ہوا ہو مگر دینی معلومات کی کمی کی وجہ سے
ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا ۔ کاروبار ہو یا ملازمت !رازداری ہویا وراثت !خیانت اور
دھوکے کا چلن عام ہے ، مثلاً کاروباری دنیا میں تولنے ماپنے میں کمی بیشی اچھی
کوالٹی کی چیز دکھا کر گھٹیا کوالٹی کو تھما دینا نقلی دودھ، گھی ،آئل وغیرہ بیچنا
دونمبر اشیاء کو ایک نمبر بتانا مردہ جانور کا گوشت،پانی کے پریشر والا گوشت فروخت
کرنا نقلی وجعلی دوائیاں بیچناپھلوں کو اسکرین کے رنگ دار انجکشن لگا کر میٹھا
کرنا ہوٹلوں میں باسی کھانے کو خوشبو دار مصالحوں کے ذریعے تازہ کی سی شکل دے کر
گاہگوں کو کھلانا اسی طرح ملازمت میں ڈیوٹی کا وقت پورانہ کرنا مگر تنخواہ پوری لینا
ادارے کی گاڑی ،بجلی، کمپیوٹر، اے سی اور دیگر چیزوں کا ناجائز وغلط استعمال کرنا یونہی
وراثت کی تقسیم میں شرعی اصولوں کی جگہ مَن مانیاں کرنا اور حقداروں کو ان کا حق
نہ دینا، وغیرہ۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ہمارے معاشرے میں مل جائیں گی ( الامان
و الحفیظ)
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خیانت اور دھوکے سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن ﷺ ۔
Dawateislami