محمد
اسحاق (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان )
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد، سچائی اور دیانت پر رکھی
گئی ہے۔ جب کوئی فرد ان اصولوں کو توڑتا ہے تو نہ صرف فرد بلکہ پورا معاشرہ
بداعتمادی، فتنہ اور فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔ خیانت ایسا ہی ایک قبیح فعل ہے جو
رشتوں، ذمہ داریوں اور امانت داری کو پامال کرتا ہے۔ چاہے خیانت کسی راز میں ہو،
کسی وعدے میں، کسی امانت میں یا کسی تعلق میں یہ ہمیشہ دل توڑنے والی، رشتے بگاڑنے
والی اور اخلاقی زوال کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اسلام نے خیانت کو سختی سے منع کیا
ہے اور قرآن و حدیث میں بارہا اس کی مذمت کی گئی ہے۔ ایک مؤمن کی پہچان ہی یہ ہے
کہ وہ امانت دار ہو، سچ بولے اور وفا کرے۔ خیانت دراصل ان تمام خوبیوں کی ضد ہے۔اسی
لیے ہمیں چاہیے کہ ہم خیانت سے بچیں، سچائی اور دیانت کو اپنی پہچان بنائیں تاکہ
ہمارا کردار مضبوط اور ہمارے رشتے بااعتماد بن سکیں۔
وَ
اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍؕ -
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی
کا اندیشہ ہوتو ان کا عہد ان کی طرف اس طرح پھینک دو کہ (دونوں علم میں ) برابر
ہوں بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (انفال:58)
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا
اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (انفال:27)
صراط الجنان:لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ:اللہ
اور رسول سے خیانت نہ کرو۔ فرائض چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنا ہے اور سنت
کو ترک کرنا رسولُ اللہ ﷺ سے خیانت کرنا ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۷، ۲ / ۱۹۰)شانِ نزول: یہ آیت حضرت
ابولبابہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئی ۔اس کاواقعہ یہ
ہے کہ سرکارِدو عالم ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کا دو ہفتے سے زیادہ عرصے تک
محاصرہ فرمایا، وہ اس محاصرہ سے تنگ آگئے اور اُن کے دل خائف ہوگئے تو اُن سے اُن
کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین صورتیں ہیں ، ایک یہ کہ اس شخص یعنی نبی
کریم ﷺ کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کرلو کیونکہ خدا کی قسم! یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ
وہ نبی مُرسَل ہیں اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے، ان پر ا یمان
لے آئے تو جان مال، اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے ۔ اس بات کو قوم نے نہ مانا تو
کعب نے دوسری صورت پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بیوی
بچوں کو قتل کردیں پھر تلواریں کھینچ کر محمد مصطفٰی ﷺ اور اُن کے صحابۂ کرام
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مقابلے میں آجائیں تاکہ اگر ہم اس مقابلے میں
ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہلِ خانہ اور اولاد کا غم تو نہ رہے گا۔ اس
پر قوم نے کہا کہ بیوی بچوں کے بعد جینا ہی کس کام کا؟ کعب نے کہا :یہ بھی منظور
نہیں ہے تو حضوراکرم ﷺ سے صلح کی درخواست کرو شاید اس میں کوئی بہتری کی صورت
نکلے۔ انہوں نے تاجدارِ رسالت ﷺ سے صلح کی درخواست کی لیکن حضورِ اقدس ﷺ نے اس کے
سوا اور کوئی بات منظور نہ فرمائی کہ اپنے حق میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کے فیصلہ کو منظور کریں۔ اس پر اُنہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حضرت
ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیجئے کیونکہ حضرت ابولبابہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اُن کے تَعلُّقات تھے اور حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اور اُن کی اولاد اور اُن کے عیال سب بنو قریظہ کے پاس
تھے۔ حضورِ اقدس ﷺ نے حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بھیج دیا،
بنو قریظہ نے اُن سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول
ہو۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر
اشارہ کیا کہ یہ تو گلے کٹوانے کی بات ہے۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات
جم گئی کہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول ﷺ کی خیانت واقع ہوئی، یہ سوچ
کر وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی خدمت میں تو نہ آئے، سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف
کے ایک ستون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھائی کہ نہ
کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مرجائیں یا اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول
کرے۔ وقتاً فوقتاً ان کی زوجہ آکر انہیں نمازوں کے لئے اور طبعی حاجتوں کے لئے
کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے۔ حضور انور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی
تو فرمایا کہ ابولبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب
اُنہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی
توبہ قبول نہ کرے ۔وہ سات روز بندھے رہے اورنہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش
ہو کر گر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول کی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُم نے اُنہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی۔ تواُنہوں نے کہا : خدا کی
قسم ! جب تک رسولِ کریم ﷺ مجھے خود نہ کھولیں تب تک میں نہ کھولوں گا۔ رسولُ اللہ
ﷺ نے اُنہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا۔ حضرت ابولبابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے عرض کی: میری توبہ اُس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں
جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنا پورا مال اپنی ملک سے نکال دوں۔ سیّد
ِ عالم ﷺ نے فرمایا :تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ۔اُن کے حق میں یہ آیت نازل
ہوئی۔ (تفسیر بغوی، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۷،
۲ / ۲۰۳-۲۰۴، جمل،
تحت الآیۃ: ۲۷، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا
کہ اپنی قوم کے راز دوسری قوم تک پہنچا نا سخت جرم ہے۔
خیانت کی مذمت اختتامی کلمات:آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے
کہ خیانت ایک ایسا اخلاقی اور معاشرتی جرم ہے جو نہ صرف فرد کی ساکھ کو داغدار
کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متزلزل کر دیتا ہے۔ اسلام نے خیانت کو نفاق
کی علامت قرار دیا ہے اور قرآن مجید میں خیانت کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں دیانت داری، سچائی اور وفا کو اپنائیں اور خیانت
جیسے گناہ سے ہمیشہ بچیں۔ کیونکہ سچا اور امانت دار انسان ہی اللہ کے نزدیک محبوب
اور دنیا میں معزز ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی خیانت سے محفوظ رکھے اور
سچائی و دیانت کے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔
Dawateislami