زوہیر
ڈوسانی (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی، پاکستان)
اسلام کا سماجی اور اخلاقی ڈھانچہ "ایمان" اور
"ایقان" پر استوار ہے، جس میں باہمی اعتماد (Trust) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں جہاں امانت داری
کو مومن کی بنیادی صفت قرار دیا گیا ہے، وہیں خیانت کو بدترین اخلاقی جرم اور
گناہِ کبیرہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق خیانت محض مالی بددیانتی
کا نام نہیں، بلکہ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی
ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو واضح الفاظ
میں خیانت سے روکا ہے۔ سورۃ الانفال میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز الایمان:
اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔(سورۃ
الانفال، آیت: 27)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اللہ
اور رسول ﷺ سے خیانت ہے، جبکہ لوگوں کے حقوق میں ڈنڈی مارنا باہمی امانتوں میں خیانت
ہے۔ علمی تناظر میں دیکھا جائے تو خیانت انسان کو اللہ کی محبت اور نصرت سے محروم
کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے خیانت کرنے والوں کے لیے اپنی ناپسندیدگی
کا اظہار دو ٹوک الفاظ میں کیا ہے:ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی
بڑے دغا باز گنہگار کو۔ (سورۃ النساء، آیت: 107)
مزید برآں، قرآن یہ بتاتا ہے کہ دھوکہ دہی اور خیانت پر
مبنی منصوبہ بندی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
سورۃ یوسف میں قانونِ الٰہی بیان کیا گیا ہے کہ: ترجمہ
کنز الایمان:اور اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ (سورۃ یوسف، آیت: 52)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کی رو سے خیانت ایک ایسا ناسور
ہے جو انفرادی کردار کو مسخ اور اجتماعی نظم کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایک حقیقی مسلمان
کے لیے لازم ہے کہ وہ مالی معاملات ہو یا منصبی ذمہ داریاں، ہر سطح پر خیانت سے
اجتناب کرے، کیونکہ خیانت اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔
Dawateislami